راجا جی کی ”راجگی“ پکّی ہو گئی !

20 ستمبر 2012

اگرچہ صدر زرداری سِویلین ہیں‘ فوجی نہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی بین الاقوامی فوجی ادارے سے‘ اعصابی جنگ لڑنے کا کوئی کورس کِیا ہے‘ لیکن وہ ہر طبقے اور ہر ادارے کے ساتھ‘ انتہائی مہارت سے جنگ لڑنے اور جیتنے کا فن جانتے ہیں‘ ضامن علی حیدر نے کہا تھا....
” یاد ہیں‘ ہم کو سبھی‘ تِین سو تیرہ‘ داﺅں
اور پھر اُن کو‘ لگانے کا بھی‘ فن جانتے ہیں“
جِس مہارت سے‘ موصوف‘ پارٹی کے سربراہ بنے اور انتخابات کے بعد وفاق اور صوبوں میں مختلف اُلخیال سیاسی لیڈروں سے دوستی کی اور چار سال سے ”وفاق کی علامت“ بنے چلے آ رہے ہیں‘ یہ زرداری صاحب کا کمالِ فن ہے۔
ایک پنجابی ضرب اُلمِثل ہے کہ ”بیٹرے نہیں لڑ دے‘ اُستاداں دے ہتّھ لڑدے نیں“۔ سپریم کورٹ میں نامور وُکلاءاور سپریم کورٹ سے باہر زبان و بیان کے ماہرین‘ جو دلائل صدر زرداری صاحب کے حق میں دیتے رہے‘ وہ موصوف ہی کی سوچ اور فلسفے کا شاہکار تھے۔-18 ستمبر کو‘ وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے وفاق کی طرف سے لچک دکھائی بلکہ U-Turn لِیا۔ یہ اُستادوں کے اُستاد جنابِ زرداری کی سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی‘ قانونی اور اعصابی جنگ میں کامیابی نہیں تو اور کِیا ہے؟
جنابِ زرداری نے ”راجائے گُجّر خان“ کو نااہل ہونے سے بچا لیا اگر یہی بیان گیلانی صاحب سے دِلوا کر‘ سوِئس حکام کے نام‘ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا لِکھا ہوا خط Withdraw کرنے کا وعدہ کر لِیا جاتا تو‘ اُن کی ”عِزّتِ سادات“ محفوظ رہ سکتی تھی‘ لیکن گیلانی صاحب کو وزارتِ عُظمیٰ چھوڑنا پڑی اور آئندہ پانچ سال کے لئے نااہل بھی ہو گئے۔ دراصل یہ بات عام ہو گئی تھی کہ‘ گیلانی صاحب‘ دورِ حاضر کے محمد خان جونیجو بن گئے ہیں۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ صدر زرداری اپنی ہی تراشے ہوئے بُت کو ”بُت خانہ¿ سیاست“ میں ”بھگوان“ بننے کا موقع دیتے۔ ”بھگوان“ تو وہ خود ہیں۔
جب گیلانی صاحب کا جانا ٹھہر گیا تو‘ وہ کہا کرتے تھے کہ ”مَیں اگر وزیرِاعظم نہ بھی رہا تو‘ بھی گدّی نشِین تو رہوں گا اور اُس کے بعد پارٹی کے جِس رُکن قومی اسمبلی کے سر پر ہاتھ رکھ دوں گا‘ وہی وزیرِاعظم ہو گا۔“ گیلانی صاحب نے صدر زرداری سے‘ جنوبی پنجاب کے ہی ایک پِیر مخدوم شہاب الدّین کو وزیرِاعظم نامزد کروا لِیا‘ لیکن نیوز چینلوں پر‘ ایفی ڈرِین کیس میں مخدوم صاحب کے ملوّث ہونے کی پٹّی چل گئی ۔ مخدوم صاحب نے خود کو ”عُقاب“ قرار دیتے ہوئے ”تُندی¿ بادِ مخالف“ سے نہ گھبرانے کی بڑھک بھی ماری‘ لیکن کھیل سے آﺅٹ ہو گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ‘ یہ کمال بھی صدر زرداری کے ”دست ِ ہُنر مند کا تھا۔ حضرتِ مومن نے کہا تھا کہ....
”دامن اُس کا ‘ جو ہے‘ دراز تو ہو
دستِ عاشق‘ رسا نہیں ہوتا“
گدّی نشِین‘ یوسفِ مُلتانی کا دست‘ رسا نہیں ہوا‘ اب وہ ایوانِ صدر کے تِین کمروں میں مہمان اور حقیقت میں‘ صدر زرداری کے دستِ نگر۔ حضرت غوث پاک‘ شیخ عبدالقادر جیلانی (گیلانیؒ) نے بھی‘ اپنے گدّی نشِین‘ یوسف گیلانی کی مدد نہیں کی ‘ جِن کا ایک قول ہے کہ ”اللہ تعالیٰ‘ ایک دِن اور ایک رات میں‘ ہر انسان کے چہرے پر 360 مرتبہ نظر ڈالتے ہیں۔“ جنوبی پنجاب کے ہی ایک پِیر‘ صاحبزادہ سیّد حامد سعید کاظمی‘ حج کرپشن کیس میں ٹیکنیکل بنیاد پر‘ ضمانت پر رہا ہو کر‘ جب اپنے حلقہ¿ انتخاب میں پہنچے‘ تو اُن کا کالی جھنڈیوں سے استقبال کِیا گیا۔ صدر زرداری نے کچھ ایسا کمال دِکھایا کہ‘ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اُن کی اپنی پارٹی کے تِین گدّی نشینوں‘ یوسف رضا گیلانی‘ مخدوم شہاب الدّین اور صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کی رُوحانی قوتیں‘ سلب ہو گئیں۔ دراصل صدر زرداری جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں۔ اب تو جنوبی پنجاب کے تِین پِیر صاحبان کی ”پِیری“ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ضرب اُلمِثل کے مطابق.... ”پِیر تو آپ درماندہ ہیں‘ شفاعت کِس کی کریں گے؟
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد زرداری صاحب نے اعلان کِیا کہ.... ”مخدوم امین فہیم وزیرِاعظم ہوں گے“۔ مخدوم امین فہیم‘ جو پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین تھے اور جِن کی چیئرمین شپ میں‘ پارٹی نے 2008 ءکے انتخابات میں حِصّہ لیا تھا‘ لیکن زرداری صاحب نے گیلانی صاحب کو‘ وزیرِاعظم بنوا دِیا۔ مخدوم امین فہیم کے لاکھوں مُرِید حیران و پریشان تھے کہ اُن کے ”پہنچے ہوئے پِیر“ وزیرِاعظم ہاﺅس تک کیوں نہیں پہنچ سکے؟“۔ معصوم لوگ نہیں جانتے تھے کہ ”سب سے بڑی گدّی (سیاسی) کے گدّی نشِین تو صدر زرداری ہیں۔
راجا پرویز اشرف خود راجا نہیں ہیں‘ نسلاً راجا ہوں گے‘ جِس طرح قاضی حسین احمد نسلاً قاضی ہیں‘ خود ”قاضی“ کے منصب پر فائز نہیں ہیں‘ لیکن قاضی حسین احمد‘ بڑے کرّوفر کے مالک ہیں‘ جب کہ راجا پرویز اشرف ‘ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل ہونے کے باوجود‘ نرم طبع‘ عاجِز اور صدر زرداری کے ساتھ وفاداری میں بے مثال ہیں۔ وہ ”ایاز قدرِ خود بشناس“ کی حقیقت سے آگاہ ہیں۔ اُن کا یہ ایمان ہے ہے کہ ”طاقت کا سرچشمہ“ صِرف اور صِرف‘ صدر زرداری ہیں۔ قتیل شفائی نے‘ حُسن طلب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ....
”اپنے ہاتھوں کی لکِیروں پہ‘ سجا لے مجھ کو
میں تیرا ہوں‘ تو نصِیب اپنا‘ بنا لے مجھ کو“
  راجا صاحب تو وزارتِ پانی و بجلی کی چند کلیوں پر ہی قناعت کر گئے تھے لیکن ”باغبانِ سیاست“ جنابِ زرداری نے‘ اُن کی جھولی وزارتِ عظمیٰ کے کئی گُلدستوں سے بھر دی۔ پِیروں اور مخدوموں کی اولاد اور گدّی نشِین نہ ہونے کے باوجود راجا صاحب‘ اب اُسی کرسی پر بیٹھے ہیں جِس پر‘ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بیٹھی تھیں۔ وہ ”پِدرم سُلطان بُود“ کی بڑھک نہیں مارتے۔ وہ‘ قمر زمان کائرہ اور چودھری احمد مختار کو پیچھے چھوڑ گئے۔ کِتنے خُوش قِسمت ہیں راجا جی!۔ داغ دہلوی کہتے ہیں....
”خُوش قسِمتی تو دیکھ‘ کہ سِینے کے داغ کو
رکھّا جو مَیں نے مُشک ‘ تو کافور ہو گیا“
گیلانی صاحب کے چہرے پر غرور اور غُصّہ کے بادل چھائے رہتے تھے‘ لیکن راجا صاحب کے چہرے پر کسی ائرہوسٹس کی سی دِل فریب مُسکراہٹ۔ وہ تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں‘ خود کو‘ عقل ِ کُل‘ ظاہر کرنے کے بجائے‘ صدر زرداری کا خُطبہ پڑھتے اور کہتے ہیںکہ....
”پسند آ گئی ‘ قائد کو‘ بندگی میری
وگرنہ راج مرا اور راجگی کیا ہے؟“
اب نگران وزیرِاعظم کے آنے تک راجا جی کی ” راجگی“ پکّی ہو گئی ہے۔