بے چارے گیلانی اور پرویز اشرف کی ”قربانی“

20 ستمبر 2012

 پھر گجرات کے احمد مختار نے پھبتی کسی ہے کہ ”نااہل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حالات ہی ایسے تھے کہ وہ شکنجے میں آ گئے۔ سابق اٹارنی جنرل جسٹس (ر) قیوم نے جو خط لکھا تھا‘ وہ غیر آئینی تھا۔“ کل تک وہ خط آئینی تھا۔ خط لکھنا تھا تو دو سال پوری قوم کو کیوں شکنجے میں رکھا گیا ہے۔ وہ صدر زرداری حکومت نے لکھوایا تھا۔ کل تک وہ آئینی تھا۔ احمد مختار بھی یہی سمجھتے تھے۔ وہ خط واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ غیر آئینی ہو گیا ہے۔ کیا آئینی ہے کیا غیر آئینی ہے۔ اس کا فیصلہ صدر زرداری کا موڈ دیکھ کر ہوتا ہے۔ احمد مختار کو چاہئے کہ وہ آئینہ دیکھ کر آئین کے بارے میں بیان دیا کریں۔ آئینے میں انہیں صدر زرداری کا چہرہ نظر آتا ہے۔ گیلانی کے جن حالات کیلئے ان کی بدقسمتی کا ذکر احمد مختار نے کیا ہے انہی حالات میں احمد مختار گیلانی کی کابینہ کے وزیر تھے۔ ایک بھی وزیر گیلانی کی مرضی کا نہیں تھا۔ حامد سعید کاظمی کو بھی اب وزیر بننے کی پیشکش کر دی گئی ہے۔ یہ پیشکش کس نے کی ہے۔ گیلانی سب کچھ جانتے ہیں۔ مگر ایسا بے بس اور شرمندہ آدمی پیپلز پارٹی میں اور کوئی نہ ہو گا۔
میں نے بھی زرداری اور گیلانی کے اندر ہی اندر اختلافات اور ناپسندیدگیوں کا ذکر کالم میں کیا تھا۔ ایک اینکر نے کسی چینل پر کہہ دیا ہے کہ زرداری اور گیلانی میں معاملات باہر سے ٹھیک نظر آتے تھے مگر کچھ گڑبڑ تھی۔ آئینے میں خراش آ جائے تو وہ جاتی نہیں۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے آئینے میں کوئی لکیر پڑی ہوئی تھی جو پتھر پر لکیر سے بھی زیادہ انمٹ ہوتی ہے۔ نوازشریف سے گیلانی کے روابط اب بھی ہیں۔ سنا ہے وہ مسلم لیگ (ن) جائن کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ تب کہتے تھے کہ وہ اگلا الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔
سنا ہے جب اتحادی مذاکرات میں خط لکھنے کیلئے سوچا جا رہا تھا تو گیلانی صاحب پریشان ہو گئے۔ ”خط لکھنا تھا تو میری قربانی کیوں لی گئی“ ذرائع کے مطابق صدر زرداری کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کو بار بار یقین دہانی کرائی گئی کہ خط نہ لکھنے کی پاداش میں ان کی وزارت عظمیٰ چلی گئی تو پھر ہر آنے والا وزیراعظم جائے گا۔ جب خط لکھنے کا اعلان فاروق نائیک نے کیا تو گیلانی دم بخود رہ گئے۔ انہوں نے صدر زرداری کی طرف بغور دیکھا مگر وہ اپنے فاروق نائیک کی طرف دیکھتے رہے۔ اس موقعے پر انہیں اعتزاز احسن تو یاد آیا ہو گا کہ اس نے ڈاکٹر بابر اعوان کو خواہ مخواہ جھوٹی گواہی پر مجبور کیا پھر اس سے صدر زرداری کو بھی ناراض کرایا تو کیا اب بھی وہ صدر زرداری سے ناراض نہیں ہو سکے؟ وفا ہو تو ایسی ہو۔ شکر ہے ڈاکٹر بابر اعوان وزیر نہ تھے۔ ڈاکٹر بابر اعوان خوددار آدمی ہیں۔ وزارت انہوں نے پہلے ہی بھٹو کی وکالت پر قربان کر دی تھی پھر انہوں نے وکالت بھی قربان کر دی۔ جس طرح گیلانی صاحب کا بیٹا گرفتار ہوا ہے۔ تب بھی وہ پریشان ہوئے ہوں گے۔ اب پارلیمنٹ ہا¶س سے علی موسیٰ گیلانی ایوان صدر کے سرونٹ کوارٹر میں چھپ گیا ہو گا۔
پہلے میں سمجھتا تھا کہ پرویز اشرف بھی گیلانی جیسے وزیراعظم ہیں مگر اب سمجھتا ہوں کہ پرویز اشرف بہرحال گیلانی سے بہت بہتر وزیراعظم ہیں۔ گیلانی یہ سوچیں کہ جو کچھ پرویز اشرف کو بچانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کی ہدایت اور مرضی سے کیا جا رہا ہے۔ ان کیلئے کیوں نہیں کیا گیا؟ جب پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وغیرہ وغیرہ کیلئے استثنیٰ کا قانون لایا گیا تھا تو شازیہ مری نے کہا تھا کہ یہ قانون پہلے لایا گیا ہوتا تو بے چارہ گیلانی بچ جاتے۔ یہ قانون بھی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا پھر بھی پرویز اشرف اور وغیرہ وغیرہ بچے ہوئے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے خود وزیراعظم پرویز اشرف کو استثنیٰ دے دیا ہے۔ آہستہ آہستہ سب کو مل جاتا۔ جلد بازی نہ کی جائے اور عدالتوں کا احترام کیا جائے تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ پرویز اشرف تحمل والے ہیں۔ بڑبولے اور لاابالی نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت کیلئے کوئی غیر عدالتی بیان نہیں دیا بلکہ غیر سیاسی بیان بھی نہیں دیا۔ ان کیلئے بھی عدالت کو عرفان قادر اور اعتزاز احسن نے مشتعل کرنے کی کوشش کی ۔ پہلے بھی وہ مشتعل نہ ہوئے تھے مگر گیلانی صاحب رگڑے گئے۔ جیسے یہ ماحول گیلانی کے خلاف فیصلے کیلئے بنایا گیا تھا۔ کسی میلے میں ایک آدمی کا کمبل چوری ہو گیا۔ اس سے میلے کی رونقوں کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ سارا میلہ میرا کمبل چرانے کیلئے رچایا گیا تھا۔ اب یہ کمبل پرویز اشرف کو اس طرح اوڑھایا گیا ہے کہ وہ کمبل کو چھوڑنا بھی چاہیں تو کمبل انہیں نہیں چھوڑے گا۔ ”سردیاں“ آنے والی ہیں۔ چھوٹے موٹے کمبل کی ضرورت ہر کسی کو پڑے گی۔
قمر الزمان کائرہ اچھی طرح بات کرتے ہیں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ اچھی باتیں کرتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ وہ ہشاش بشاش ہوتے ہیں اور میڈیا سے غیر دوستانہ بات بھی دوستانہ انداز میں کر جاتے ہیں۔ وہ افسردہ تھے۔ گیلانی صاحب کیلئے اس سوال پر کہ یہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟ انہوں نے جواب نہ دے سکنے کے انداز میں جواب دیا۔ یہ کہا کہ گیلانی صاحب نے اپنا کردار ادا کیا۔ مگر ان کے ساتھ بدکرداری کہاں کہاں ہوئی اور انہوں نے خود کہاں کہاں بدکرداری اور بدعہدی کی ۔ یہ کائرہ صاحب بتا نہیں سکتے تھے۔ بہرحال میرے خیال میں پرویز اشرف وزیراعظم کے طور پر متنازعہ معاملات چلانے کی بہت بہتر کوشش کر رہے ہیں۔ شکر ہے کہ وہ اعتزاز احسن کی وکالت سے بچ گئے ہیں۔ اس کیلئے بھی صدر زرداری نے انہیں بچا لیا ہو گا۔
سنا ہے آصف ہاشمی شکست خوردہ گیلانی کو سمجھاتے رہے۔ ان کا یہ طریقہ بھی محتاط تھا۔ آصف ہاشمی گھبراتے تھے کہ کہیں گیلانی صاحب کرپشن سے نہ رک جائیں اسے دیکھ دیکھ ان کے دوستوں کو بھی شہ ملی اور ان سب بچوں بڑوں نے کر لیا۔ جو وہ کرنا چاہتے تھے اور کر سکتے تھے آصف ہاشمی گیلانی کی تنہائی کو پسپائی اور رسوائی سے نہ بچا سکے۔ البتہ آصف ہاشمی اب تک اپنے کام پہ لگے ہوئے ہیں۔ جب عدالت میں وزیراعظم پرویز اشرف نے کہہ دیا کہ ہم خط لکھیں گے تو جسٹس کھوسہ معنی خیز انداز میں مسکرائے۔ ”آپ کا چین کا دورہ کامیاب رہا۔ عدالت کا دورہ بھی کامیاب رہے گا۔“ مگر پرویز اشرف کو گیلانی کی طرح عدالت میں نہیں آنا چاہئے تھا۔ اتنا پروٹوکول اور سکیورٹی گیلانی کے احساس کمتری کی گواہی تھی۔ پرویز اشرف کو کیا خطرہ ہے۔ سڑکیں خالی تھیں اور جھنڈوں والی گاڑیوں کا رقص جاری تھا۔ غیر ضروری سکیورٹی اور پروٹوکول آخر کیوں ضروری ہے؟ پرویز اشرف جب وزیر شذیر تھے تو بھی آتے جاتے تھے۔ مجھے برا لگا کہ ان کی گاڑی کے ساتھ ساتھ انسان افسرانہ اور غلامانہ شان کے ساتھ دوڑ لگا رہے تھے۔ ان کی یہ بھاگ دوڑ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ یہی لوگ گیلانی صاحب کی گاڑی کے ساتھ اسی طرح بھاگ رہے تھے اس سے پہلے نوازشریف عدالت میں آئے تھے تو یہی منظر تھا۔ یہ عدالت میں آنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ اس بار برادرم منیر احمد خان وزیراعظم پرویز اشرف کے ساتھ نہ تھے۔ اگر انہیں منع کر دیا گیا ہے تو میں اس کے خلاف احتجاج کرتا ہوں۔ وہ گیلانی کیلئے بھی اتنے ہی مخلص اور سرگرم تھے۔ جیسے کچھ افسر نما ملازمین اپنی نوکری پکی کرنے کیلئے شہباز شریف اور چودھری پرویز الٰہی میں فرق نہیں کرتے۔
قربانی پرویز اشرف بھی دے رہے ہیں مگر قربانی کے بھی کچھ آداب ہیں جو غیر مخلص نہیں جان سکتا۔ گیلانی صاحب آپ خود اپنی ادا¶ں اور کج ادائیوں پر غور کریں۔ حکومت واقعی نااہل لوگوں کا کام نہیں ہے۔