کاش ہم بدل جائیں!خواب سچ نکل آئیں!

20 ستمبر 2012

اِن دنوں ، مغربی ذرائع ابلاغ ’مسلم غیظ و غضب‘ کی تصویر کشی میں مصروف ہیں! اور ہر عکس میں باریش حضرات کے غضب ناک چہرے سرِا وراق سجاکر اِسے مسلم دُنیا کے ایک خاص طبقے سے منسلک کرتے چلے جا رہے ہیں! جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ’غیظ و غضب‘ چہروں ،مہروں، سن و سال اور مرد و زَن کی تفریق کیے بغیر پورے عالم اسلام کے رگ و پے میں لہریں لے رہا ہے! لہٰذا، پاکستان میں 21ستمبر 2012نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اظہارِ عقیدت اور کچلے ہوئے لوگوں کا انسانی شرف لوٹانے والے پیغمبر برحق کے عظیم احسانات کے حضور اجرِ مودّت پیش کرنے کے باوقار دن کے طور پر منایا جا رہا ہے!
یہ دن منانے کا فیصلہ کر لینا بہت آسان تھا! مگر، یہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اظہارِ عقیدت کے تمام پرُوقار مناسبات کے ساتھ شایانِ شان ِ عشقِ نبی آخر الزماں بنا لینے کااہتمام بھی یقینی بنا نا اتنا آسان کام نہیں ! اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے تمام اہلِ دین و دانش کے تمام تر طبقات کا یک جہت تعاون حاصل رہنا ضروری ہے!تاکہ دُنیا پر یہ راز ایک بار پھر کھل سکے کہ قومِ رسولِ ہاشمی اپنی ترکیب میں اتنی خاص کیوں کر سمجھی جاتی رہی ہے؟
ہمیں اب اس حقیقت کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ ہماری ہر ایسی خوب صورت معاشرتی کوشش ناکام بنانے کے لیے پاکستان کے طول و عرض میں پاکستان دشمن قوّتوں کے تنخواہ دار ہرکارے رات دن کارفرما ہیں! اور ہمیں اُن کی ہر کارروائی کا سدِباب ساتھ کے ساتھ کرتے چلے جانا ہے!اورہمیں اپنے کسی بھی نادان ساتھی کا پاﺅں اُن کے پھیلائے ہوئے دامِ تزویرمیں کسی طور نہیں پھنسنے دینا ہے!
ہمیں یقین ہے کہ جمعتہ المبارک21ستمبر 2012 کے اجتماعات میں ہمارے نعت خوان اور واعظین خطباتِ جمعہ سے پہلے کی جانے والی تقاریر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اسوئہ حسنہ سے کچھ ایسی شان کا اکتسابِ نوُرفرمائیں گے کہ سننے والوں کے دل جگمگا جائیں گے! اور پھر جب وہ لوگ سڑکو ںپر سے گزر رہے ہوں گے،تو،ہر صحافی اور ہر کیمرہ اُن کے باوقار نقوشِ قدم کا پیچھا کر رہا ہو گا! اوراُس دن کے نیوز چینل اور اگلے روز کے اخبارات یک رنگی و آزادی کے اس عظیم الشان مظاہرے کے مناقب بیان کرنے کے سوا کچھ اور نہیںکر سکیں گے!
کیا ہم اس امتحان میں کامیاب و کامران ٹھہر جائیں گے؟ یقینا! جب کبھی اہلِ دین و دانش یک روح اور یک سو ہوئے ہیں! اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل ِ عمیم ہم پر سایہ فگن ہوا! اور ہمیں منزلوں سے ہم کنار کرتا چلا گیا!یہ ،تو، ایک دن ہے! اور یہ دن منسوب بھی اُسی ذاتِ پاک کی محبوب ترین ہستی سے اظہارِ عقیدت کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے! کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا مالک، ہمارے سردار اور مختار اور اُن کے ماننے والوں پر تمام تر رحمتیں بیک وقت سایہ فگن نہ ہوں!اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارا یہ خواب سچ نکل آئے! اور دُنیا ہمیں دیکھتی رہ جائے!