پنشنرز کس سے فریاد کریں؟

20 ستمبر 2012

مکرمی! آجکل پرنٹ میڈیا میں تقریباً روزانہ پنشنرز خاص طور پر 1994ءسے پہلے ریٹائر ہونے والے پنشنرز اپنے دگرگوں حالات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ملک کے پریشان کن اقتصادی حالات تو ہیں ہی۔ بڑی وجہ پنشن میں اضافہ کے بارے میں فیصلہ کرنے والے متعلقہ حکام کا عدالتی اور متعلقہ اداروں کے احکامات کو نظر انداز کرنا بھی ہے حکومتی پے اینڈ پنشن کمیٹیوں کے منظور شدہ اور اعلان کردہ کئی پالیسیوں پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔ سینٹ اور اسمبلیوں کے ممبران نے تو کبھی اس پریشان کن حالت کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ آنے والے انتخابات میں پنشنرز اور ان کے فیملی ممبران ووٹ ڈالتے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں گے کہ کونسی سیاسی پارٹی اور حکومت نے ان پنشنرز کی تکالیف کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں؟ کئی غیر اسلامی ممالک میں نئے اور پرانے پنشنرز کی پنشن برابر ہے۔اس ہوشربا مہنگائی کے زمانہ میں میڈیکل الاﺅنس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا جبکہ دواﺅں کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک معمول بن گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی طرف سے تجویز کردہ دوائیں خریدنے کیلئے جائیں تو ان کی قیمت پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ کس کو حال سنائیں، کون سنے گا ہماری بات؟ جائیں تو جائیں کہاں؟ پنشنرز کیلئے یہ ہے پریشانی کی داستان!
(عبدالغنی، جہانزیب بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور)