یاد رفتگان راجہ تری دیورائے

20 ستمبر 2012

بنگالی نژاد عظیم محب وطن رہنما راجہ تری دیوراے پیر 17 ستمبر کو 79 سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد اسلام آباد میں مستقل قیام پذیر رہے۔ انہوں نے مرتے دم تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا اور آخر دم تک ایک دن کے لئے بھی واپس نہیں گئے۔ آپ چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے میں آباد چکمہ قبیلے کے سردار تھے۔ دسمبر 1971ءمیں انہیں سیاحت اور اقلیتی امور کا وزیر مقرر کیا گیا۔ دسمبر 1972ءمیں آپ کو جنرل اسمبلی میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے جنگی قیدیوں کے مسئلے پر خطاب کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے آپ کی والدہ کو نیویارک بھیجا کہ وہ آپ کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے سے روکیں اور منا کر واپس بنگلہ دیش لے آئیں۔ لیکن آپ نے اپنی والدہ کے ہمراہ واپس جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بنگلہ دیشی نہیں ہوں۔ انہوں نے جنرل اسمبلی میں بنگلہ دیش کی رکنیت اور جنگی قیدیوں کی واپسی کی دونوں قراردادوں کو ایک دوسرے سے منسلک کروا کر بہت بڑی سفارتی فتح حاصل کی تھی جس کے اعتراف میں پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا موقع تھا کہ 17 دسمبر کو صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پوری کابینہ کے ہمراہ چک لالہ ائر پورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر جب جنرل ضیاالحق نے مارشل لاءنافذ کیا توآپ کو 1981ءمیں ارجنٹائن میں سفیر مقرر کیا۔ اس منصب پر اپنی ریٹائرمنٹ مئی 1995ءتک فائز رہے۔ 1971ءسے 1981ءتک دس سال تک وفاقی وزیر رہے۔ یعنی پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین مدت تک رہنے وزیر 1981ءسے 1995ءتک چودہ سال سفیر رہے، یعنی طویل ترین مدت تک رہنے والے سفیر۔ 1996ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے آپ کو ”آزاد سفیر‘ کے عہدے پر مقرر کیا۔ آپ کے بیوی بچے چکمہ قبیلے میں ہیں اور آپ اسلام آباد میں 17 ستمبر اپنی وفات تک مقیم رہے۔