پاکستان کا نظریاتی تشخص اور ہمارے سفیر

20 ستمبر 2012

”بانی¿ پاکستان محمد علی جناحؒ نے یہ ملک ایک معتدل‘ لبرل‘ ترقی پسند اور سیکولر جمہوری ریاست کے طور پر تخلیق کیا تھا۔ صدر زرداری بھی مشکل ترین حالات میں پاکستان کو قائد اعظم کے اسی تصور کی طرف لوٹانے کیلئے کوشاں ہیں۔ قائد اعظم نے قطعی طور پر کہا تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہو گا جس کے تمام شہری ایک دوسرے کے برابر ہوں گے۔ پاکستان کی پہلی پارلیمان میں 11 اگست 1947ءکو اپنی تقریر میں بانی پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کے تمام شہری اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہیں‘ آپ اپنی مساجد یا عبادت کی کسی بھی دوسری جگہ جانے کیلئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مزہب‘ ذات یا عقیدے سے ہو‘ ریاست کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں“۔درج بالا اقتباس واجد شمس الحسن کے ایک مضمون سے ہے جو منصب کے اعتبار سے برطانیہ میں پاکستان کے سفیر ہیں‘ لیکن حقیقت میں وہ پیپلز پارٹی کے ایک جیالے اور صدر زرداری کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں قائد اعظم کو ایک سیکولر جمہوری ریاست کا بانی قرار دیا ہے اور صدر زرداری کو بھی قائد اعظم کے ایک سیاسی پیروکار کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ بھی ایک سیکولر جمہوری ریاست کے بہت بڑے چیمپئن ہیں۔ یہ ہماری کتنی بڑی قومی بدقسمتی ہے کہ بیرون ملک ہمارے سفیر پاکستان کا ایک اسلامی ریاست کے طور پر جو تشخص ہے اسے اجاگر کرنے کے بجائے اپنے گمراہ کن نظریات کے مطابق پاکستان کو ایک سیکولر جمہوری ریاست ثابت کرنے کیلئے مصروف ہیں اور پاکستان کا مقصد تخلیق بھی یہی بیان کرتے ہیں کہ یہ ملک ایک سیکولر جمہوری ریاست کے طور پر حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر دیکھنے والے بار بار قائد اعظم کی ایک ہی تقریر کا حوالہ دیتے جو انہوں نے 11 اگست کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں کی تھی‘ حالانکہ انصاف اور غیر جانبدارانہ تحقیق کا بھی یہ تقاضا ہے کہ قائد اعظم کی وہ تمام تقاریر جو انہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد بیان کرنے کیلئے فرمائیں ان سب کا مطالعہ کیا جائے اور قائد اعظم کے وہ دلائل بھی پڑھے جائیں جو انہوں نے انگریز اور ہندو قوم کی قیادت کے سامنے قیام پاکستان کے حق میں پیش فرمائے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی قومیت بنیاد وطنیت پر نہیں‘ بلکہ مسلم قوم کی نسبت سے رکھی گئی۔ اگر مسئلہ سیکولر ریاست کا ہوتا تو متحدہ ہندوستان کی صورت میں ایک جمہوریت سیکولر ریاست کے قیام کے امکانات زیادہ روشن تھے۔ قائد اعظم کی کانگرس کے خلاف ساری لڑائی کی بنیاد ہی دو قومی نظرےے پر تھی اور ہم مسلمان ایک الگ قوم اسلام کی بنیاد پر تھے۔ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں کہ پاکستان کی جنگ تو قائد اعظم نے اسلام کے نام پر جیتی‘ لیکن پاکستان بنتے ہی قائد اعظم نے اپنا نظریہ تبدیل کر لیا۔ قائد اعظم جس مقام و مرتبہ اور جس اعلیٰ کردار کے انسان تھے‘ ان کے بارے میں یہ تصور ہی انتہائی احمقانہ ہے کہ پاکستان تو انہوں نے مسلم قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا‘ لیکن پھر وہ ایک ہی رات میں تبدیل ہو گئے اور انہوں نے ایک سیکولر ریاست کا قیام اپنا نصب العین بنا لیا۔
21نومبر 1945ءکو سرحد مسلم لیگ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ وہ مسلمان ایسے پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطہ حیات‘ اپنے تہذیبی ارتقائ‘ اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کر سکیں۔“ کیا اسلامی قانون اور اسلامی ضابطہ حیات کی جہاں حکمرانی ہو گی اس ریاست کو آپ سیکولر ریاست کہہ سکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔ 24 نومبر 1945ءکو قائد اعظم نے سرحد مسلم لیگ کانفرنس سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہمارا دین‘ ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کیلئے متحرک کرتے ہیں۔“ جس ریاست کو تخلیق کرنے کیلئے قائد اعظم کے بقول ہمارا دین‘ ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات ہی ہمارے لئے واحد جذبہ محرکہ ہوں کیا اسے ایک سیکولر ریاست کہنا حد درجے کا ظلم اور ناانصافی نہیں۔ قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947ءکی تقریر سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے صوبہ سرحد کے حالات پر ہی ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”خان برادران نے اپنے اخباری بیانات میں یہ زہر آلود پراپیگنڈہ کیا ہے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین سے انحراف کرے گی۔ خان برادران کا یہ شور قطعی طور پر غلط ہے۔“ قائد اعظم صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے موقع پر جب سختی سے سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خاں اور ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کے اس پراپیگنڈہ کو غلط اور بے بنیاد قرار دے رہے ہیں کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین سے انحراف کرے گی تو قائد اعظم خود شریعت اسلامی اور قرآنی قوانین سے انحراف کا تصور کیسے کر سکتے ہیں۔ اگر بدنیتی سے قائد اعظم کی 11 اگست 1947ءکی تقریر کو اپنی مرضی کے معنی پہنانے کی کوشش نہ کی جائے تو جب قائد اعظم پاکستان کے تمام شہریوں کیلئے برابر کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو وہ ایسا مو¿قف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اختیار کرتے ہیں۔ 27 جنوری 1948ءکو پاکستان ٹائمز میں قائد اعظم کی جو تقریر شائع ہوئی اس میں بھی قائد اعظم کا ارشاد ہے کہ ”میرے لئے وہ گروہ ناقابل فہم ہے جو خواہ مخواہ شرارت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ تشہیر کر رہا ہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنے گا۔‘    (جاری)