توہینِ رسالت اور مسلم میڈیا کی ضرورت

20 ستمبر 2012

تاریخ اسلام اس امر کی شاہد ہے کہ توہینِ رسالت کی سزا موت ہے۔ توہینِ رسالت کے تین روایتی طریقے رہے ہیں پہلا طریقہ اسلام اور اہل اسلام یعنی مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنا، انہیں وحشی، بنیاد پرست، انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دینا ہے، دوسرا روایتی طریقہ قرآن کریم کو دہشت گردی کی تعلیم دینے والی کتاب قرار دینا جیسا کہ سابق امریکی صدر بُش جونیئر نے بارہا کہا کہ عالمی امن کے لئے ضروری ہے کہ قرآن سے غیر مسلموں یعنی کفار و مشرکین کے بارے میں شامل آیات کو خارج کر دیا جائے۔ غیر مسلموں کا زیادہ غیظ و غضب ”سورة توبہ“ کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ اتنا منظم اور م¶ثر ہے کہ غدارِ اعظم جنرل پرویز مشرف نے اپنے تئیں بُش کی خوشنودی کے لئے سرکاری اقدامات بھی کئے۔ قرآن سے وابستہ مخلص مسلمان، مساجد اور مدارس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا نتیجتاً دنیا میں قرآن کو جہادی کتاب کہہ کر برملا مذمت کی جانے لگی بعد ازاں نعوذ باللہ قرآن کو جلانا اور پا¶ں تلے روندنا معمول بن گیا۔ امریکی پادری ٹیری جونز اسی غیر مسلم فکر و عمل کا نمائندہ ہے جس نے صہیونی سرمایہ کاروں، صلیبی سرپرستوں اور ہندو فتنہ پردازوں کے تعاون سے ”مسلمانوں کی معصومیت“ کے نام سے فلم بنائی جس میں خاکم بدہن ”قرآن اور صاحب قرآن“ محمد مصطفی اور اُمہات المومنینؓ کے خلاف نازیبا کلمات اور مناظر فلمائے گئے ہیں۔ بھارت نژاد امریکی تھنک ٹینک راجا رام بھی اپنی کتابوں میں اسلام، قرآن، محمد مصطفی اور قرآن و سُنت سے وابستہ مخلص مسلمانوں کی ہرزہ سرائی کرتا رہتا ہے۔ یورپ میں بننے والے خاکے بھی اسی ہنود و یہود اور صلیبی فکر و عمل اور عزائم کے عکاس ہیں۔ تیسرا روایتی طریقہ محمد مصطفی کی شان اقدس یعنی حیات مبارکہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا، خاکے بنانا نیز کتابیں اور فلمیں بنانا ہے۔ خدا ہر قوم کے پاس ہے مگر محمد مصطفی فقط مسلمان قوم کے پاس ہیں۔ اللہ اور رسول کی شان اور شان سے جینے، مرنے کا درس اور انداز قرآن کے کلمات سے عطا ہوتا ہے۔ قرآن غیر مسلموں کو ایک مجموعی شناخت دیتا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جس نے محمد کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ اسلامی تعلیمات کا محور قرآن مجید ہے اور اللہ نے مسلمان قوم کو حکم دیا کہ جو محمد مصطفی دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو، نیز دین اور مذہب کے بارے میں جبر اور زیادتی کا حکم نہیں جو جس دین پر قائم ہے اس پر رہے۔ مگر کسی غیر مسلم کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مسلمان قوم کے اللہ، رسول اور قرآن و سُنت کے خلاف نازیبا اور رویہ اور پالیسی اپنائے۔ شان رسالتمآب کا مقام اتنا بلند اور پاکیزہ ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے محمد پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور یہی حکم تمام مسلمانوں کے لئے ہے کہ وہ محمد کے لئے درود و سلام کثرت سے پڑھیں۔ نیز محمد مصطفی کے احترام اور ادب کے بارے میں حکم ہے کہ ”اے مسلمانو اپنی آواز محمد کی آواز سے بلند نہ کرنا، مبادا تمہاری ساری نیکیاں ضائع ہو جائیں“ جہاںتک محمد مصطفی سے محبت کا تعلق ہے تو فرمان ہے کہ مسلمانوں کا ایمان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک مسلمان محمد مصطفی کو اپنے مال، جائیداد، اولاد اور مراعات سے عزیز تر نہ جانیں یعنی آل، مال، اور مآل سب کچھ حضور رسالتمآب پر نثار --- درایں احکام اُمت مسلمہ کا نازیبا فلم اور خاکوں پر بھرپور احتجاج ایمان کی نشانی ہے۔ کفار و مشرکین کی اللہ و رسول، قرآن و سُنت کے خلاف ہرزہ سرائی پہلے دن سے ہے۔ بقول علامہ اقبال
ستیزہ کار رہا ہے، ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی است
توہینِ رسالت کے مرتکب مرد و زن کو دور نبوی میں بھی موت کی سزا دی گئی، ابو عنک، عصماءاور کعب بھی اشرف کو سالم بن عمیر، عمیر بن عوف اور ابو نائلہ جیسے اصحاب النبی نے مارا۔ گو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رحمة للعالمین محمد مصطفی کا استہزا اُڑانے والوں کو برباد کرنےکا خود ذمہ لیا ہے۔ مگر ہجو، قدح، ہزاہ سرائی اور گستاخی کرنے والوں کو فتح مکہ کے وقت دی جانے والی عام معافی میں بھی معاف نہیں کیا۔امریکی پادری ٹیری جونز کی فلم غیر مسلموں کے روایتی بغض و عناد کا مظہر ہے مگر اس فلم کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج نے مسلمانوں کو متحد اور منظم ہونے کا موقع دیا ہے۔ عالم اسلام میں گستاخ رسول کے خلاف غم و غصہ اور احتجاج ایمان کا حصہ ہے مگر مغرب کی میڈیا یلغار کے خلاف مسلم میڈیا کو قائم کرنا اور اسلامی تاریخ اور سیرت پر م¶ثر فلمی دستاویزات بنانا بھی مسلم میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ مسلم میڈیا اور گستاخ رسول کی ذہنی، نفسانی، سماجی مطالعہ کے تناظر میں ڈاکٹر مختار عالم کی کتاب ”شاتم“ کافی م¶ثر سعی ہے۔ شاتم بنیادی طور پر ٹیلی فلم ہے جو سرمایے کی نایابی کے باعث تاحال نہیں بن سکی۔ مغرب کی اللہ اور رسول کے خلاف توہین آمیز خاکوں اور فلموں کا بہترین علمی، فکری اور فلمی جواب مسلم میڈیا کا قیام اور شاتم جیسی دستاویزی فلموں کو بنانا اور ریلیز کرنا ہے۔ دنیا کو امن اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے مگر مغرب نے تہذیبی تصادم کے تحت عالمی امن، بھائی چارے اور عالم انسانیت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔