نگران وزےر اعظم کون ہو گا؟

20 ستمبر 2012

موجودہ قومی اسمبلی کی آئےنی مدت 25مارچ 2013ءکو ختم ہورہی ہے لہٰذا عام انتخابات کے انعقاد کے لئے کسی بھی وقت طبل بج سکتا ہے عام تاثر ہے کہ آئندہ انتخابات نئے سال کے پہلے مہےنے ےا پھر اپرےل مےں ہو سکتے ہےں اس طرح اسے اپنی آئےنی مدت پوری کرنے والی دوسری جماعت کا اعزاز حاصل ہو جائے گا اگرچہ ابھی تک عام انتخابات کے بارے مےں صورت حال واضح نہےں لےکن سےاسی جماعتوں نے عام انتخابات مےں حصہ لےنے کے لئے تےارےاں شروع کر دی ہےں ان مےں پاکستان مسلم لےگ کا نام سرفہرست ہے جو خاموشی سے ضلعی سطح پر متوقع امےدواروں کی فہرستےں تےار کر رہی ہے اس نے بڑی حد تک اپنا ہوم ورک مکمل کر لےا ہے اگرچہ نگران وزےراعظم کی نامزدگی کا مرحلہ قومی اسمبلی کے تحلےل ہونے کے بعد ہی آئے گا لےکن قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے عام انتخابات سے قبل ہی نگران وزےراعظم کی نامزدگی کے لئے اپنا آئےنی اختےار استعمال کرنے کے لئے اپوزےشن کی سےاسی جماعتوں سے ڈائےلاگ شروع کر دےا ہے۔ انہوں نے نگران وزےراعظم کے ناموں پر اتفاق رائے پےدا کرنے کے لئے جماعت اسلامی کے امےر سےد منور حسن، بلوچستان نےشنل پارٹی کے رہنماءاختر مےنگل، پےپلز پارٹی (شےر پاﺅ) کے صدر آفتاب احمد خان، نےشنل پارٹی کے نائب صدر مےر حاصل بزنجو، پاکستان مسلم لےگ (ہمخےال) کے رہنماءسلےم سےف اللہ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی سے مشاورت کی ہے سر دست بلوچستان کے قوم پرست رہنماءڈاکٹر عبدالمالک اور نےشنل پےپلز پارٹی کے رہنماءمرتضیٰ جتوئی سے رابطہ نہےں ہوا جبکہ سندھ مےں پےر صاحب پگارا، عبدالقادر مگسی، جلال محمود شاہ اور سنی تحرےک کے ثروت قادری سے رابطہ کی ذمہ داری سےد غوث علی شاہ کو سونپ دی گئی ہے پاکستان مسلم لےگ (ن) اور تحرےک انصاف کے درمےان تعلقات کار قائم نہ ہونے کے باوجود پاکستان مسلم لےگ (ن) نے تحرےک انصاف سے اسی چےنل کے ذرےعہ سے رابطہ کےا ہے جس کے ذرےعہ چےف الےکشن کمشنر کی نامزدگی کے وقت کےا تھا۔ چوہدری نثار علی خان نے نگران وزےراعظم کے اپوزیشن جماعتوں کو جو سات نام بھجوائے ہیں ان کی تفصےلات بتانے سے گرےز کےا ہے تاہم معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے اپوزےشن جماعتوں کو نگران وزےراعظم کے لئے جو سات نام بھجوائے ہےں ان مےں جماعت اسلامی کے سابق امےر قاضی حسےن احمد، بلوچستان کے سابق وزےراعلیٰ مےر عطا اللہ مےنگل، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی، عوامی تحرےک کے قائد رسول بخش پلےجو، سپرےم کورٹ کے دو سابق جج صاحبان جسٹس (ر) اسلم ناصر زاہد اور جسٹس (ر) شاکر اللہ جان اور سپرےم کورٹ بار اےوسی اےشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگر شامل ہےں۔ سےاسی جماعتوں کی جانب سے اپوزےشن لےڈرکو نگران وزےراعظم کے لئے ترجےحات موصول ہونے کے بعد دو ناموں کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔ قومی اسمبلی تحلےل ہونے کے بعد 8 رکنی پارلےمانی کمےٹی کا کردار شروع ہوتا ہے جس مےں حکومت اور اپوزےشن کا ارکان کی تعداد برابر ہوگی اگر کمےٹی مےں حکومت اور اپوزےشن کے درمےان نگران وزےراعظم کے لئے کسی نام پر اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس چلا جائے گا جہاں الےکشن کمشن کے 5 ارکان کو نگران وزےراعظم کی نامزدگی کا اختےار مل جائے گا اب نگران سےٹ اپ کے حوالے سے 20 ویں آئینی ترمیم میں اپوزیشن کا ایک کردار ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چوہدری نثار علی خان نے نگران وزےراعظم کے لئے سردار اختر مینگل سے ٹےلی فون پر بات کی تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کےا کہ اگر ان کے والد سردار عطاءاللہ مینگل نگران وزےراعظم کا منصب قبول کرنے پر آمادہ ہو جائےں تو اپوزےشن کی جانب سے ان کا نام نگران وزےراعظم کے لئے دےا جاسکتا لےکن اختر مےنگل نے کہا کہ مےر عطا اللہ مےنگل اس ذمہ داری کو کسی صورت قبول نہےں کرےں گے وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ لہذا اب نگران وزےراعظم کے لئے تجوےز کردہ 6 نام رہ گئے ہےں اگرچہ ےہ تمام نام سےاسی حلقوں مےں قدر کی نگاہ سے دےکھے جاتے ہےن لےکن ان مےں قاضی حسےن احمد کا نام سب سے نماےاں ہے۔ ان کے نام پر اپوزےشن جماعتوں مےں اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا شمار ان سےاسی رہنماﺅں مےں ہوتا ہے جنہےں حق گوئی اور کھری بات کرنے پر سےاسی حلقوں مےں عزت کی نگاہ سے دےکھا جاتا ہے وہ جہاں مےاں محمد نواز شرےف کے قرےب ہےں وہاں انہےں محترمہ بے نظےر بھٹو کا اعتماد حاصل تھا سردست وہ بھی نگران وزےراعظم بننے کے تےار نہےں اگر وہ راضی ہو گئے تو پےپلز پارٹی کے لئے قابل قبول ہو سکتے ہےں اسی طرح سپرےم کورٹ کے دونوں سابق جج صاحبان جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور جسٹس (ر) شاکر اللہ جان کا شمار اچھی شہرت رکھنے والے ججوں مےں ہوتا ہے رسول بخش پلےجو بھی غےر متنازعہ سےاسی شخصےت ہےں جبکہ عاصمہ جہانگےر ملک کی اےک بڑی سےاسی شخصےت ملک غلام جےلانی کی صاحبزادی ہےں جو پےپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے سےاسی مخالف تھے اب دےکھنا ےہ ہے کہ ان کی اےسٹبلشمنٹ کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر بات کرنے والی بےٹی کو حکومت اور اپوزےشن نگران وزےراعظم کے طور پر قبول کرتی ہےں کہ نہےں۔ بہرحال نگران وزےراعظم کون ہو گا اس سوال کا جواب قومی اسمبلی تحلےل ہونے پر ملے گا۔