ایبٹ آباد کمشن ممکنہ رپورٹ

20 ستمبر 2012

 دورِ قدیم میں کسی بادشاہ نے حضرت یوسفؑ کی مختصر ترین داستان سنانے والے کیلئے انعام رکھا۔ داستان گو جمع ہوئے ہر کسی کو اپنی مختصر نویسی پر فخر تھا۔ ایک صاحب کے ہاتھ میں دو تین اوراق تھے وہ سب سے زیادہ خوش اور مطمئن تھے ان کو اپنی کامیابی کا یقین تھا لیکن انعام ایک دوسرے شخص کو ملا جس نے چند الفاظ میں داستانِ یوسفؑ بیان کر دی ”حضرت یوسفؑ اپنے باپ سے بچھڑے اور مل گئے“۔
 جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایبٹ آباد کمشن سال سوا سال تک مغز ماری کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کر رہا ہے۔ جولائی 2011ءکے آغاز میں کمشن نے اپنی کارروائی شروع کر دی تھی۔ جسٹس جاوید اقبال کمشن کے سربراہ نرگس سیٹھی اس کی سیکرٹری تھیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد‘ سابق آئی جی پولیس عباس خان‘ سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی ممبر تھے۔ وزارت قانون نے کہا ہے کہ بہت ہوگئی اب 12اکتوبر کو مہربانی فرمائیں اور رپورٹ حکومت کو پیش کردیں۔کمشن اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا حکومت کی مرضی کہ اس کو پبلک کرے یا سیکرٹ قرار دے کر آئی ایس آئی میں سیاسی ونگ بنانے کے نوٹیفکیشن کی طرح گم ہونے کے کہیں رکھ دے۔ بروقت شائع ہونے پر حمود الرحمن کمشن کی ساکھ آج بھی مشکوک ہے۔ میڈیا میں جدت اور اس کی فعالیت کے باعث رپورٹ کا خفیہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم افواہ ساز اس کو اپنے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کریںگے۔ جس سے عام آدمی کا کنفیوژ ہونا لازمی امر ہے۔ ایسی ممکنہ صورت حال پر حکومت اور عُمال کی بھی نظر ہوگی بہر حال رپورٹ دیکھ کر وہ فیصلہ کریں گے کہ اس کا اخفا قومی مفاد میں ہے یا اشفا۔
کمشن کی بنیادی وجہ ایبٹ آباد آپریشن اور اس میں اسامہ کی مبینہ موت بنی۔ کمشن نے جن سوالات کے جوابات تلاش کرنا تھے وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی،افغانستان سے امریکیوں کی در اندازی اور آپریشن کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی اپریشن کے دوران مبینہ موت کو امریکی انتظامیہ نے پر اسرار اور مشکوک بنادیا۔ انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنے بڑے دشمن کو مارا اور نعش سمندر میں پھینک دی امریکہ کے نزدیک اسامہ پوری کائنات میں مطلوب ترین تھا۔ اس کی نعش کو اتنی جلدی میں سمندر بُرد کردینے کی اس کے سوا کوئی منطق نہیں کہ اسامہ اس کمپاﺅنڈ میں موجود ہی نہیں تھا یہ سب ڈرامہ بازی تھی جس سے ایبٹ آباد اپریشن کے ساتویں دن ڈاکٹر پال کریگ رابرٹس نے نقاب اٹھادیا تھا۔پال کریگ امریکی وزارت خزانہ میں نائب وزیر رہے۔ وہ وال سٹریٹ جرنل کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے 9مئی 2011کو اپنے آرٹیکل "AMERICAN ARE LIVING IN 1984" میں لکھا کہ اوباما کی تقریر کے 48 گھنٹے کے بعد اُس داستان کی ساکھ ختم ہوگئی تھی جو اسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے گھڑی گئی تھی۔بی بی سی بڑے شور سے پراپیگنڈا کرتا رہا کہ امریکی سیلز نے اسامہ کو مار ڈالا۔اکثر امریکیوں کی گفتگوبھی ان چند الفاظ پر بڑے فخریہ انداز میں ختم ہوتی ہے ”آخر ہم نے اسامہ کو مار ڈالا۔“ کوئی اسامہ کو لاحق اس موذی مرض کے بارے میں نہیں سوچتا جس میں وہ مبتلا تھے۔ آخر دس سال وہ اپنے گردوں کا ڈائیلاسز کیسے اور کہاں سے کراتے رہے؟ کسی کو فوکس نیوز کی 26 دسمبر 2001 کی سٹوری یاد نہیں جس میں کہا گیا تھا اسامہ بن لادن پیچیدہ بیماری کے باعث چل بسے۔ فوکس نیوز نے پاکستان آبزور کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی۔ اسامہ کی موت کی گواہی ایک طالبان لیڈر نے دی جس نے اسامہ کا آخری دیدار کیا اور ان کے جنازہ میں شرکت کی تھی۔ اسامہ کو تورا بورا میں ہی دفن کیا گیا۔ کریگ نے یہ سوال بھی کیا کہ اسامہ کے پیچھے 16 امریکی ایجنسیاں لگی تھیں امریکہ کو دیگر ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا۔اسامہ نے کیا سب کو شکست دیدی؟ یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ 2مئی کے بعد سی آئی اے ڈائریکٹر کی طرف سے بیان آیا کہ اب القاعدہ اسامہ کے قتل کا بدلہ لے گی۔ امریکہ پرنائن الیون جیسے حملے ہوں گے۔ القاعدہ نے بھی انہی الفاظ میں وارننگ دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ کے اعلانات بھی سی آئی اے کی طرف سے کئے جاتے تھے۔ اسامہ کے اس طرح قتل کا ڈرامہ رچانے کی دیگر وجوہات کے ساتھ پاکستان کو بھی مسلسل دباﺅ میں رکھنا ہے اب امریکی انتظامیہ بات بات پر پاکستان سے کہتی ہے ”تم نے اسامہ ہم سے چھپایا“ اسامہ اتنی بڑی شخصیت ،القاعدہ کا سربراہ القاعدہ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری صرف دو خواتین کے حوالے کردی تھی؟
 پاکستان میںبھی بہت سے لوگ 2مئی 2011ءکے اپریشن کو ڈرامہ سمجھتے ہیں۔پال کریگ نے مکمل دلائل کے ساتھ اسے ڈرامہ ثابت کیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کمشن کی رپورٹ بڑی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہے۔ اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ رپورٹ طویل اور مختصر ترین بھی ہوسکتی ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کی طرح چند الفاظ پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے تحقیقات کے دورانیے میں صحافیوں کے ساتھ بھی گفتگو کی ۔ایک صحافی نے سوال کیا تھا ” اسامہ اس روز قتل بھی ہوئے ؟“ جسٹس صاحب نے جواب میں کہا کہ اگر سب کچھ آج ہی بتا دیا تو رپورٹ میں کیا بچے گا۔
 ہوسکتا ہے کہ اسامہ واقعتا مبینہ اپریشن سے قبل موت سے ہمکنار ہو چکے ہوں تو پھر کمشن کی رپورٹ ان الفاظ میں ہی مشتمل ہوگی۔ ” امریکی اپریشن کے وقت اسامہ ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ میں موجود ہی نہیں تھا“۔ یہی پال کریگ ثابت کر چکا ہے۔ اگر رپورٹ ممکنہ طور پر اتنی ہی مختصر ہے تو کب کی منظرعام پرآجانی چاہئے تھی؟ یہ سوال بڑا جینوئن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جسٹس صاحب اس رپورٹ کو پانی میں مدھانی کی طرز پر ”رڑک“ رہے ہوں۔ اس سب کے باوجود وہ سوالات اپنی جگہ ہیں کہ ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کے الرٹ ہوتے ہوئے امریکی ہیلی کاپٹر کیسے پاکستانی حدود میں گھسے اور ایک ڈرامہ ہی سہی اپریشن کرکے محفوظ واپس چلے گئے؟

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...