مصطفٰےجان رحمت پر لاکھوں سلام

20 ستمبر 2012

صلیبیوں‘ یہودیوں اور سامراجی طاقتوں کی طرف سے شان رسالت میں گستاخیوں کے خلاف 56 مسلم ممالک میں بستے والے شمع رسالت کے پروانے ان دنوں گلی‘ محلوں اور بازار‘ چوک و چراہوں اور سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ دنیائے فانی میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلم کا یقین محکم ہے کہ اس وقت تک ان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آنحضور کی ذات مبارکہ کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز نہ پائیں۔
آنحضور کی ذات مبارکہ دونوں جہانوں کیلئے رحمت ہے۔ جو کوئی بھی اسلامی اشعار اور الہامی کتاب کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اس وقت تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے۔ یہودی اور عیسائی پادری اپنے قدیمی مذاہب کو جلد ہی ملیا میٹ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اسی لئے کبھی تو ایسی گھٹیا حرکتوں پر اتر آتے ہیں۔ صلیبی و یہودی لابی جس تحریر و تقریر کو آزادی اظہار کا نام دے رہے ہیں وہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سامراجی طاقتیں اور مفاد پرست عیسائی و یہودی پادری مغرب میں اسلام کی تیزی سے اشاعت پر شکست فاش کا شکار ہو چکے ہیں۔ لاکھ ہا جتن کے باوجود خود کو اور اپنے عوام کو قلبی سکون تو مہیا کر نہیں سکے شکست سے بوکھلا کر کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی کرنا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی گستاخانہ فلم بنا دیتے ہیں۔ حالیہ گستاخانہ فلم پر ناصرف پاکستانی عوام سڑکوں پر ہیں بلکہ تیونس‘ مصر‘ یمن‘ بنگلہ دیش‘ عراق‘ لیبیا‘ مراکش‘ سوڈان‘ افغانستان‘ آسٹریلیا‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ شام‘ ایران ہر جگہ امت مسلمہ سراپا احتجاج ہے اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس فلم کے بنانے والے تمام افراد کو واصل جہنم کیا جائے کیونکہ ملعون سام بیسائل SAM BACILE نے فلم بنا کر ناصرف اپنی بلکہ پوری کی پوری امریکی قوم کے خبث باطن کی عکاسی کی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر باراک حسین اوباما نے گذشتہ دنوں امت مسلمہ کے ردعمل میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ملعون سام بیسائل کی مذمت کی ہے لیکن ساتھ ہی اوباما نے تریپولی میں فدایان رسول کے اس حملے کی بھی مذمت کی جس میں امریکی سفیر سٹیونز (Stevens) مارا گیا۔ اس سام بیسائل کا گورو وہی ملعون ٹیری جونز Terry Johns ہے۔ جس منحوس پر امت مسلمہ کا بچہ بچہ لعن طعن کر رہا ہے۔ فلوریڈا کے اسی پادری کے کہنے پر امریکی یہودی بیسائل نے ڈیڑھ گھنٹے کی وہ فلم بنائی جس کا نام مسلمانوں کی بے گناہی (Innocence of Muslims) رکھا جس پر 50 لاکھ ڈالر لاگت آئی جسے امریکہ کے 100 یہودی دولت مندوں نے مل کر فنانس کیا بطور اشتہار اس مذموم فلم کا تیرہ چودہ منٹ کا ایک کلپ یو ٹیوب (Clip U-Tube) پر چڑھایا گیا جس میں آپ کی ہستی کے کردار کو موضوع بنایا گیا جو جان کائنات ہیں۔ دور جہالت میں آپ کے ازلی دشمنوں نے بھی ہمارے ملجا و ماوا کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہا اور نہ لکھا جو کچھ اس لعنتی فلم میں کہے گئے الفاظ کا متن ہے۔ یہ سب کچھ نائن الیون کی گیارویں برسی پر آن آئیر کیا گیا جسے دیکھ اور سن کر امت مسلمہ میں غم و غضب کی لہر دوڑ گئی سب جانتے ہیں کہ نائن الیون منصوبہ یہودی لابی کی کارستانی ہے۔ جبکہ اسکی سزا امت مسلمہ کو دی گئی ہے۔ یہودی لابی کی اب ویسی گھنا¶نی سازش کہیں اسلامی دنیا کی غیرت اور حمیت کا ٹیسٹ لینا تو مقصود نہیں؟ اور کیا اس فلم کا ٹریلر اسی ٹیسٹ کا بیرو میٹر تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہودی ذہن امریکہ کے ذریعے سعودی عرب پر حملہ آور ہونے سے قبل امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان لے رہا ہو۔ اندریں حالات ہمیں باہمی نفاق کو بھلا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونا چاہئے ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی ذاتی مصلحتیں چھوڑ کر ناموس رسالت پر کٹ مرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ ملعونوں کو واصل جہنم کر دیا جائے گا۔ یہودی اس گمان میں نہ رہیں کہ مسلمان چند روز راقم صدر زرداری کو صالحانہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ چند دنوں تک اقوام متحدہ میں ہونے والے اپنے خطاب میں ذاتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس مسئلے پر دو ٹوک موقف اختیار کریں۔ ملعون ٹیری جونز‘ سام بیسائل اور اسکے حواریوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور امریکی صدر سے واضح عہد لیں بصورت دیگر امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا جائے اور نیٹو سپلائی ایک بار پھر بند کر دی جائے۔