تھرکول منصوبے پر متضاد بیانات کیوں؟

20 ستمبر 2012

روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوتا ہے
چند برس پہلے جب یہ انکشاف کیا گیا کہ صوبہ سندھ کے علاقہ تھر میں 175 ارب ٹن کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں تو پاکستانی عوام کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ ماہرین کے مطابق یہ ذخائر پاکستان کو پچاس ہزار میگاواٹ بجلی اور 100 ملین بیرل ڈیزل اگلے پانچ سو سالوں تک فراہم کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تخمینہ بھی لگایا گیا کہ کوئلہ کی مدد سے سستی ترین بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس کی لاگت صرف ایک ڈالر فی واٹ ہو گی جو کہ ہائیڈل بجلی کے 2.3 ڈالر فی واٹ، شمسی بجلی 3.2 ڈالر فی واٹ اور ایٹمی بجلی کے اخراجات 3.5 ڈالر فی واٹ سے بہت کم ہو گی اس طرح فی یونٹ بجلی کا خرجہ صرف چار روپے ہو گا۔ تھر کول منصوبہ پر کام کرنے والے معروف سائنس دان ڈاکٹر مبارک مند کا کہنا ہے کہ تھر منصوبے پر لاگت کا کل تخمینہ 6 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف چھ سال کے عرصہ میں تھرکول سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی جس سے ملک کی انرجی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی مگر حال ہی میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی چوہدری احمد مختار کے اس بیان نے اہل وطن کو حیران و پریشان کر دیا ہے کہ تھر کے علاقے سے کوئلہ نکال کر بجلی بنانے کا منصوبہ ابھی تک قابل عمل نہیں ہے۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی سے تھر کوئلے سے بجلی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی ٹیکنالوجی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئلہ درآمد کرکے اس سے سستی بجلی بنائیں گے تاکہ بجلی کا بحران بھی کم ہو سکے اور مجموعی طور پر بجلی کی قیمت بھی کم کی جا سکے، ہمیں بجلی کی فوری ضرورت ہے اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند ابھی تک کوئی بریک تھرو نہیں دے سکے ہیں۔ وزیر موصوف نے مزید فرمایا ہے کہ انہوں نے بجلی بحران کے خاتمے کے لیے منصوبہ صدر مملکت سے منظور کروا لیا ہے جس پر عمل کرکے ایک سال کے اندر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم کرکے تین گھنٹوں تک کی جا سکتی ہے۔ چار ارب ڈالر لاگت کے اس نئے منصوبے کے مطابق ایک ارب ڈالر خرچ کرکے کوئلہ درآمد کیا جائے گا۔ اس کوئلے سے بجلی بنانے کے لیے چین سے جنریٹر درآمد کرنے کا معاہدہ طے پا چکا ہے جو چند ماہ میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔ یہ جنریٹر 2200 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ارب ڈالر کی رقم سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضہ) کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ مزید برآن ایک ارب ڈالر سے تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کیا جائے گا جبکہ ایک ارب ڈالر کی رقم کو بجلی کی قیمت کم رکھنے پر خرچ کی جائے گی۔ دوسری جانب ایک حالیہ بیان میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا ہے کہ تھر سے کوئلے کی کان کنی ابھی تک شروع نہیں ہوئی، ابھی ہمیں صرف ایک بلاک ملا ہے جس سے گیس تیار کی ہے، اس گیس سے بجلی اور ڈیزل تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ جلا کر جو بھی بجلی بنائے گا اس سے ماحول متاثر ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے زیر زمین ہی کوئلے سے گیس تیار کی ہے جس سے بجلی ڈیزل اور کھاد تیار ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ تھر میں ابھی تک کوئلے کی کان کنی اس لیے شروع نہیں ہوئی کیونکہ نجی شعبے کو خدشہ ہے کہ ان کے لیے سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اس لیے نجی شعبہ تھر کول مائننگ میں دلچسپی نہیں لے رہا۔ ان متضاد بیانات سے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہو گا کہ حکومت کے اعلیٰ بااختیار حکام اور منصوبے پر کام کرنے والے سائنس دان تھر منصوبے کے بارے میں مختلف اور متضاد نظریات رکھتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے جتنا کہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صورت حال بالکل سادہ اور آسان ہے۔ ملک میں موجود 175 ارب ٹن کوئلہ کے ذخائر سے زیر زمین گیس بنا کر اس سے ڈیزل اور بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بات ابھی تک سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومت سندھ اور وفاقی حکومت جن کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھوں میں ہے تھر کول منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تاخیری حربے کیوں استعمال کر رہی ہے؟ یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ آئے دن اس منصوبے کے بارے میں مختلف ذمہ دار حلقے متضاد بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ حقیقت حال پر سے پردہ اٹھا کر قوم کو اعتماد میں لے تاکہ تھرکول منصوبے کا حشر بھی کالا باغ ڈیم جیسا نہ ہو۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ