”قومی زبان کا نفاذ“ کبھی کسی سیاسی پارٹی نے انتخابی منشور میں شامل کیا ہے؟

20 ستمبر 2012

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قیام پاکستان کے بعد ہر سیاسی پارٹی ان مقاصد کو اپنے اپنے انتخابی منشور میں شامل کرتی جن کی تکمیل کیلئے حضرت قائداعظمؒ اور دیگر اکابرین نے اس خداداد آزاد مملکت کو حاصل کیا مگر بدقسمتی سے آج تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ 1973ءکا جو متفقہ آئین بنایا گیا اسے بھی کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ ذاتی مفادات کی حامل آئین کی شقوں کو تو یہ سیاسی ”اداکار“ مقدس اور احترام کے قابل سمجھتے ہیں۔ مثلاً آئین میں لکھا ہے کہ ”جمہوری“ حکومت کی مدت پانچ سال ہے۔ دوسری‘ تیسری بار وزارت عظمیٰ سنبھالنے کیلئے بھی تمام سیاسی پارٹیاں راتوں رات آئین میں ترمیم کر لیتی ہیں بلکہ یہاں تک کہ صدر صاحب ایک ایک فرد کی خوشنودی کیلئے علیحدہ علیحدہ آئینی ترامیم کرا لیتے ہیں۔“ ان کے علاوہ آئین کی باقیماندہ شقوں کو جن کا تعلق عوامی مسائل یا قومی معاملات سے ہو انہیں دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر ارشاد فرما دیا تھا کہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہو گی اور دوسری کوئی نہیں۔ ایک بار نہیں حضرت قائداعظمؒ نے بار بار اپنے اس م¶قف کا اعادہ مختلف مواقع پر کیا ۔ پھر 1973ءکے آئین کی شق (1)(251) میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اسے پندرہ سال تک یعنی 1988ءتک اسے مکمل طور پر ملک میں نافذ کر دیا جائے گا۔ آئین میں جو مدت نفاذ اردو کیلئے مقرر کی گئی تھی۔ 25 سال اس کے بعد بھی گزر چکے ہیں۔ مگر کسی بھی حکومت نے آئین کی اس خلاف ورزی کی طرف توجہ ہی نہیں دی اور نہ ہی کسی بھی عہد میں اعلیٰ عدلیہ نے قومی زبان کے بارے آئین شکنی کا نوٹس لینے کی جسارت کی۔ حالانکہ یہ ایک اہم اور قومی معاملہ ہے۔ دنیا کے ہر ملک کی اپنی زبان ہے۔ جس میں وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہ ان کی شناخت کہلاتی ہے۔ پوری دنیا میں آپ کسی ایک بھی ایسے ملک کا نام نہیں بتا سکتے جس نے کسی دوسرے ملک کی زبان کو اپنے تعلیمی و سرکاری اداروں میں نافذ کیا ہو۔ انگریزی کی اہمیت سے قطعاً انکار ممکن نہیں اسے ثانوی درجے کے طور پر پڑھائیں۔ مگر اولیت اپنی زبان کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے 65 سال کے بعد ہم آج بھی غلامانہ سوچ اور ذہنیت کے حامل ہیں۔ بات ہو رہی تھی سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور کی۔ آج تک کسی بھی پارٹی نے ”قومی زبان کے نفاذ“ کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ نہیں بنایا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ویسے تو یہ پارٹیاں قائداعظمؒ سے محبت و عقیدت اور آئین کے احترام کے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتیں۔ مگر نہ ہی ان کے نزدیک قائداعظمؒ کے فرامین کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی انہیں آئین سے کوئی سروکار۔ اب الیکشن ہونے کو ہیں۔ لیگ کوئی بھی ہو ن ہو یا ق لیگ ہو انہیں تو ہر حال میں نفاذ اردو کو انتخابی منشور کا حصہ بنانا چاہئے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو متفقہ آئین 1973ءپیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو کی دین ہے۔ جس میں 1988ءتک اردو کو نافذ کرنے کا لکھا گیا ہے۔ صدر زرداری کو آئین کی اس شق کی طرف فوراً توجہ مبذول کرنی چاہئے ۔