یومِ عشقِ رسول پر تعطیل اور

20 ستمبر 2012

اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ وہ تعصب کے سخت خلاف ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ دوسرے مذاہب کی توہین نہ کریں اور ان کے بتوں کو بھی برا نہ کہو کہ یہ تمہارے اللہ کو برا کہیں گے‘ کی تلقین کی گئی ہے لیکن مغرب اپنے تعصب سے نہ پہلے کبھی باز رہا ہے اور نہ ہی اب اس میں کوئی کمی ہے۔ مغرب میں دوہرے معیار ہیں۔ اپنے فائدے کیلئے ایک جنگ کو جہاد کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر اسی جنگ کو دہشت گردی کے عنوان سے مشہور کر دیا جاتا ہے۔ وقفے وقفے سے مغرب میں اسلام پر تعصبانہ حملے کئے جاتے ہیں جنہیں بہت قرینے اور سلیقے سے مغربی میڈیا اچھالتا ہے اور اسلامی ممالک کا میڈیا بغیر سوچے سمجھے ان خبروں سے استفادہ کرتا ہے۔ اور تو اور جب کسی مغربی میڈیا میں کچھ آتا ہے تو اس آئٹم پر اشتعال پیدا کرنے کیلئے اپنے حواریوں کے ذریعہ سے باقاعدہ اس کی تشہیر کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ ڈنمارک میں چھپنے والے توہین آمیز خاکوں کی خبر پاکستان میں صرف چھ ماہ بعد پہنچی۔ موجودہ توہین آمیز میڈیا کی خبر بھی باقاعدہ مصر سے اسلامی دنیا میں پھیلائی گئی۔ اس سے قطع نظر کہ جس یہودی فتنہ گر نے یہ وڈیو بنائی ہے وہ باقاعدہ فراڈیا ہے لیکن امریکی صدر اوباما نے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیا ہے (پاکستان کو بھی اسی طرح ہر موضوع پر اپنا م¶قف پیش کرنا چاہئے)
بن غازی میں امریکی سفیر احتجاجیوں کے ہاتھوں مارا گیا تو امریکی قیادت نے سی این این پر آ کر بہت حیرت کا اظہار کیا کہ ایسی کیا بات تھی کہ امریکی سفیر کو مار دیا جائے اور بار بار آنجہانی امریکی سفیر کا لیبیا کے عوام سے خطاب دکھایا گیا کہ میں لیبیا کے عوام کی مدد کیلئے آ گیا ہوں۔حیرت ہے اس وقت کوئی آواز بلند نہیں کرتا جب پیرس کے ایک شراب خانے میں گپ شپ کے دوران دنیا کا سب سے بڑا فیشن ڈیزائنر صرف ایک جملہ کہہ دیتا ہے کہ ”ہاں میں ہٹلر کو پسند کرتا ہوں‘ یہ جملہ سن کر سامنے بیٹھی خاتون جو کچھ دیر پہلے فرنچ فیشن ڈیزائنر سے آٹوگراف لے چکی تھی‘ غصے میں آ جاتی ہے اور پولیس بلا کر اسے گرفتار کرا دیتی ہے‘ فرنچ کمپنی فوراً اسے فارغ کر دیتی ہے اور چند روز پہلے فرانس کی حکومت نے صرف اس ایک فقرے پر (جس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے) اس فرنچ فیشن ڈیزائنر سے فرانس کا سب سے بڑا سول ایوارڈ بھی واپس لے لیا۔مغرب نے بہت توہین آمیز خاکے‘ مضامین اور وڈیو جاری کئے اور ہر بار پوری دنیا کے مسلمانوں نے ایک آواز میں بھرپور مذمت کی لیکن کیا مذمت اس کا علاج ہے یا قہر درویش بر جانِ خویش ہے۔ لیکن پہلے پاکستان کی وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کا تذکرہ ضروری ہے جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ جمعة المبارک کے روز سرکاری سطح پر قابل اعتراض وڈیو پر احتجاج کرنے کیلئے اسے یومِ عشقِ رسول کے طور پر منایا جائے گا۔ بہت مستحسن فیصلہ ہے۔ یقیناً دنیا کو بھرپور پیغام جانا چاہئے کہ مسلمان کسی صورت میں بھی حرمتِ رسول کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کریں گے۔ اب کیونکہ حکومت نے جمعة المبارک کو یومِ عشقِ رسول منانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے تو پھر اس موقع پر تعطیل کا اعلان بھی کیا جائے۔حکومت یہ نہ سمجھے کہ یومِ عشقِ رسول منانے سے بات ختم ہو گئی بلکہ اس سلسلہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم سے درخواست کرے کہ وہ امریکہ میں امریکی قانون کے مطابق اس یہودی فتنہ گر پر پولیس میں رپورٹ درج کرانے کے بعد اس پر باقاعدہ مقدمہ بھی قائم کرے۔ امریکی قانون کے مطابق سزا بھی ملے گی اور آئندہ کسی کو جسارت کرنے سے پہلے ایک بار نہیں سو بار سوچنا پڑے گا۔