کراچی میں خوف و دہشت کا راج اور حکمرانوں کی بے نیازی کیا حکومتی اتحادی قوم سے اپنے اگلے اقتدار کی ضمانت لے سکتے ہیں؟

20 ستمبر 2012

کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں گزشتہ روز بھی جاری رہیں‘ جن میں بے گناہ انسانوں کی لاشیں گرتی اور ان کا خونِ ناحق بہتا رہا۔ نارتھ ناظم آباد کراچی میں واقع حیدری مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے تین بم دھماکے ہوئے‘ جن میں ایک کمسن بچی اور ایک خاتون سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ بلدیہ ٹاﺅن کے علاقے میں کریکر دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کے علاوہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی گزشتہ روز جاری رہا ‘ فائرنگ اور تشدد کے ان واقعات میں محکمہ تعلیم کے ایک افسر اور ایک بچی سمیت پندرہ افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے۔ ٹارگٹ کلنگ کی یہ وارداتیں پاک کالونی‘ سپرہائی وے‘ انصاری پل‘ جامعہ کراچی کے نواح‘ شیرشاہ کے علاقے گلبائی‘ گلستان جوہر اور حسن سکوائر کے علاقوں میں ہوئیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے بقول کراچی میں دہشت گردی کی اطلاعات پہلے سے موجود تھیں اور اب مزید دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کراچی میں جاری انسانی قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اسے امن و امان کے قیام میں حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے جبکہ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اپنے اپنے علاقوں میں چوکیداری سسٹم نافذ کریں۔
حکمرانوں کی اچھی یا بُری حکمرانی کا اندازہ ملک میں امن و امان کی صورتحال سے ہی لگایا جاتا ہے جبکہ شہریوں کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرنا حکمرانوں کی بنیادی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس تناظر میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی اور اسکی اتحادی جماعتوں کی موجودہ ساڑھے چار سال کی حکمرانی کا دور ملک اور عوام کیلئے بدترین دور سے تعبیر کیا جائیگا۔ اس دور میں ملک کے اقتصادی حب اور عروس البلاد کراچی پر تو مسلسل آسیب کا سایہ رہا ہے۔ چنانچہ گزشتہ چار سال کے عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو گا جب کراچی میں کہیں انسانی لاشیں گرنے یا خون بہنے کا کوئی واقعہ نہ ہوا ہو۔ بندرگاہ ہونے کے ناطے کرچی باہر کی دنیا سے ملک کے رابطے کا بھی اہم ذریعہ ہے اور اس تناظر میں ملکی اور قومی معیشت کے فروغ و ترقی میں بھی کراچی کا بنیادی کردار ہے جو آبادی کے لحاظ سے بھی منی پاکستان کہلاتا ہے اور قومی تجارت کا بھی اسی شہر پر انحصار ہے مگر بدقسمتی سے اسے بیروت بنا دیا گیا ہے اور گزشتہ چار سال سے اس شہر پر جاری دہشت گردوں‘ بھتہ خوروں‘ قبضہ مافیا اور دیگر بدقماش عناصر کے راج نے اس شہر کے مکینوں کو مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنا دیا ہے جن میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی روز اپنے پیاروں کے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے‘ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے بھتہ خوروں کی ہوس کی زد میں آنے اور دیگر بدقماش عناصر کی سفاکانہ وارداتوں کا چارہ بننے کے صدمات جھیلنا پڑتے ہیں۔ اس شہر کا کوئی علاقہ‘ کوئی گلی‘ کوئی محلہ ایسا نہیں ہو گا جہاں سے دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنگ اور لسانی اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں جان سے ہارنے والے بے گناہ انسانوں کے جنازے نہ اٹھے ہوں‘ ایسے سانحات و واقعات میں بے بسی کی موت مرنے والے انسانوں کے لواحقین بھی عمر بھر اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔
یہ انتہائی دکھ اور حیرت کا مقام ہے کہ سندھ میں چار اتحادی جماعتوں کی مشترکہ حکمرانی میں بالخصوص کراچی کے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھاگیا ہے۔ جہاں فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر ہونیوالے تشدد و تخریب کاری کے واقعات کے علاوہ سرعام ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے اندھے واقعات میں گزشتہ چار سال کے عرصے کے دوران پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ ان وارداتوں میں ہونیوالا مالی نقصان کھربوں سے بھی تجاوز کر چکا ہے اور زخمی ہونیوالے اکثر افراد مستقل اپاہج ہو کر اپنے خاندانوں پر بوجھ بن چکے ہیں۔ انسانی خون سے رنگین ہونیوالے اس بدقسمت شہر کی فضاﺅں نے ایک ایک دن میں سو سے زائد انسانی لاشیں گرتی دیکھی ہیں جن کے بے بس لواحقین آج بھی سراپا سوال بنے نظر آتے ہیں کہ انکے پیاروں اور عزیز و اقارب کو کس جرم کی سزا دی گئی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ حکمران جماعتیں قتل و غارت گری کے واقعات میں ایک دوسرے کو ہی مورد الزام ٹھہراتی رہی ہیں مگر کراچی میں امن و امان کی بحالی کسی بھی حکمران جماعت کا مطمح نظر نہیں رہا۔ چنانچہ امن و امان پر کنٹرول میں حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے دہشت گردوں اور بدقماش عناصر کو مزید چھوٹ ملی اور انہوں نے ملکی ترقی کے ضامن اس شہر کو اجاڑنے اور اسکے باسیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اگرچہ اب اے این پی‘ مسلم لیگ (ق) اور فنگشنل لیگ سندھ میں حکومت کا حصہ نہیں رہی اور بلدیاتی نظام کے نئے آرڈی نینس نے وہاں حکومتی اتحادیوں کے پتے بکھیرناشروع کر دیئے ہیں تاہم یہ تمام جماعتیں مرکز میں بدستور حکومت کا حصہ ہیں اس لئے کراچی کے حالات کی خرابی سے یہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں۔ اگر کراچی میں آج بھی بدامنی کا راج ہے اور دہشت گرد و بدقماش عناصر آج بھی وہاں دندناتے پھر رہے ہیں تو ملک کے اس اقتصادی‘ کاروباری‘ تجارتی مرکز کو بدامنی کے حوالے کرنے کے پس پردہ کسی کے مقاصد تو کارفرما ہونگے‘ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امن و امان نافذ کرنےوالے مستعدو چوکس اداروں اور رینجرز تک کی موجودگی میں کھلے عام دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہو رہی ہوں‘ بھتہ کے تقاضوں پر مبنی پرچیاں پوری دیدہ دلیری کے ساتھ تاجروں اور دیگر کاروباری طبقات کے گھروں‘ دفاتر اور مارکیٹوں تک میں تقسیم کی جا رہی ہوں مگر یہ عناصر کسی بھی صورت حکومتی انتظامی مشینری کی گرفت میں نہ آئیں۔ گزشتہ ہفتے کے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کراچی کے بعد سندھ کے وزیر صنعت رو¿ف صدیقی نے اس معاملہ میں حکومتی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تو ایک اچھی روایت قائم کی مگر گزشتہ ساڑھے چار سال سے کراچی میں امن و امان پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا اور وہاں روزانہ بے گناہ شہری اندھی گولیوں سے بھونے اور دہشت گردی کی وارداتوں میں کاٹے جا رہے ہیں تو امن و امان کی بحالی میں ناکامی پر کیا پوری صوبائی حکومت کو مستعفی نہیں ہو جانا چاہیے؟
یہ طرفہ تماشا ہے کہ تشدد و تخریب کاری کے ہر واقعہ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک پھلجھڑیاں چھوڑتے ہوئے قوم کو آگاہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں میں دشمن کا ہاتھ ہے اور ابھی دہشت گردی کی مزید وارداتیں ہونگی۔ انکے ہر ایسے بیان کے بعد فی الواقع دہشت گردی کی نئی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر امن و امان میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرکے وزارت سے مستعفی ہونے کی آج تک رحمان ملک یا کسی دوسرے حکومتی اہلکار کو توفیق نہیں ہوئی۔ اگر فی الواقع ملک کے دشمنوں نے کراچی میں امن و امان کو بگاڑنے کیلئے وہاں دہشت و وحشت کا بازار گرم کر رکھا ہے تو انکی نشاندہی کرکے سرکوبی کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا اس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ ملک کے دشمن یہ عناصر ملک کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کے مقاصد میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ جب ملک کے تجارتی مرکز میں ہی انتشار و افتراق کی فضا ہو گی تو اس سے ملک کے استحکام و سالمیت کو ہی دھچکا لگے گا اور اگر ملک کی سالمیت کےخلاف ہونیوالی ان سازشوں کو محسوس کرکے بھی کراچی میں امن و امان کی بحالی کے معاملہ میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو پھر عوام میں اس تاثر کو تقویت حاصل کرنے سے کیسے روکا جا سکے گا کہ حکمران خود ہی ملک کی سالمیت کے درپے ہیں۔ بالخصوص کراچی کے حالات تو حکمرانوں کے ایسے ہی اعمال کی گواہی دے رہے ہیں۔
اگر وفاقی اور صوبائی حکمران ملک اور بالخصوص کراچی کے عوام کو دہشت گردوں اور دوسرے بدقماش عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی پالیسی برقرار رکھتے ہیں تو انکے اگلے ممکنہ اقتدار کی کسی صورت ضمانت نہیں دی جا سکتی اور لوگ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہونگے کہ ملک اور عوام کو موجودہ حکمرانوں سے بچا کر ہی انکے تحفظ کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ حکمران اب آنکھیں کھولیں ورنہ کل کو انہیں کھلی آنکھوں کے ساتھ بھی اپنے لئے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آئیگا۔