پاکستان کا نان نیٹو اتحادی درجہ ختم کرنے کی قرار داد

20 ستمبر 2012

پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے کی قرار داد امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کر دی گئی۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے اپنی اوقات سے بڑھ کر اور جوش و خروش سے حصہ لینے پر2004 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیا تھا۔ خود مشرف‘ اسکے پروردہ سیاستدانوں اور موجودہ حکمرانوں کے امریکی جنگ میں شرکت کے حوالے سے والہانہ پن میں کوئی فرق نہیں آیا۔ محض پاک فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن پر آمادہ نہیں ہو رہی جس کے باعث امریکی انتظامیہ کے اندر اشتعال پایا جاتا ہے جس کا اظہار کبھی حملے کی دھمکی ، کبھی امداد میں کمی اور کبھی پابندیوں کا ڈراوا دینے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اب نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے کی راہ اختیار کی جا رہی ہے۔ پاکستان آزاد اور خود مختار ملک ہے اس کا اظہار حکومتی پالیسیوں سے بھی ہونا چاہیے۔ امریکہ اگر پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرتا ہے تو پاکستان افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون مکمل طور پر ختم کر دے۔ امریکہ اور اسکے اتحادی اپنی جنگ خود لڑیں۔ بے فیض امریکہ کی دوستی لاحاصل ہے۔ اس نے فوجی امداد‘ وار سپورٹ فنڈ اور دیگر مدات میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی نہیں کی جبکہ پاکستان کو اس جنگ سے 70 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ پانچ ہزار فوجیوں سمیت چالیس ہزار پاکستانیوں کی شہادتوں کا تو کوئی مداوا ہی نہیں ہے۔ مزید جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے امریکی جنگ سے باہر نکل آنا ہی اچھا فیصلہ ہے‘ جو اب پاکستانی قیادت کو کر گزرنا چاہیے۔