نامکمل نئی انتخابی فہرستیں

20 ستمبر 2012

ایک خبر کےمطابق نئی انتخابی فہرستوں میں دو کروڑ ووٹرز کے ناموں کا اندراج نہیں ہو سکا اور الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے نادرا اور شماریات ڈویژن سے رپورٹ مانگ لی ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ قومی انتخابات کے انعقاد میں صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں اور ملک کے بعض سیاسی حلقوں میں بلدیاتی انتخابات کا شوشہ چھوڑ کر قومی انتخابات کو موخر کرانے کی سازش کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوام کی ایک خاصی بڑی تعداد کا انتخابی فہرستوں میں اندراج ہونے سے رہ جانا یقینا تشویش ناک ہے ۔ اسکے ڈانڈے بلدیاتی الیکشن سے ملا کر مخالفین کی طرف سے اسے قومی انتخابات موخر کرانے کی ایک چال قرار دیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اب تک یہی تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ ہماری تیاری مکمل ہے لیکن انتخابی فہرستوں میں ڈیڑھ سے دو کروڑ اہل ووٹرز کے نام ہی غائب ہیں۔ یوں تقریباً 25 فیصد عوام کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دینے کے بعد جو انتخابات ہونگے انہیں کیونکر شفاف اور دھاندلی سے پاک ثابت کیا جا سکے گا۔ اس مسئلے کے نتیجے میں پیدا ہونےوالے جن نتائج کا اندیشہ ہے، الیکشن کمیشن کو انکے تمام پہلوﺅں کا سنجیدگی سے جائزہ لےکر ان تمام اہل ووٹرز کے ناموں کے اندراج کو یقینی بنانا چاہیے جن کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔