جمعرات‘ 2ذیقعد 1433ھ20 ستمبر2012 ئ

20 ستمبر 2012

لاہور میں ڈاکوں کی تعداد ڈاکوﺅں سے بڑھ گئی ہے‘ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق معمولی چور سلاخوں کے پیچھے اور مگرمچھ ڈاکو وزیر مشیر بن کر آزاد پھرتے ہیں۔
چھوٹے میاں صاحب لاہور کو فتح ہونے سے بچانے میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ ڈاکوﺅں نے لاہور فتح کرلیا۔ کوئی دن نہیں جاتا جب لاہور شہر میں کروڑوں کے ڈاکے نہ پڑیں۔ یہ ڈاکو کسی ڈاکو کو نہیں لوٹتے کیونکہ وہ دو دو ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔ عوام کی حفاظت بھی اور عوام کو حفاظت کی ضرورت پیدا کرنے کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ خادم اعلیٰ نے بطور انکساری خود کو یہ نام تو دے دیا لیکن وہ شہری مسائل اسی طرح رہے تو یہ انکساری کہیں الٹی نہ پڑ جائے۔ اہل پنجاب کی اکثریت آج بھی مسلم لیگ (ن) کا دم بھرتی ہے مگر مسلسل بدامنی سے عاجز آکر کہیں وہ پرچی ڈالتے ہوئے اپنی رائے بدل نہ لیں اور یہ جملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ شہباز ِپنجاب پر ان ڈاکوں اور ڈاکوﺅں کے باعث ایسا وقت نہ آجائے کہ وہ لمبی نظموں کی جگہ دھیمے سروں میں یہ گانے لگیں....
دھیرے دھیرے مچل اے دلِ بے قرار
کوئی آتا ہے‘ کوئی آتا ہے
شہباز شریف نہایت شریف ہیں‘ وہ اچھی حکمرانی کیلئے مستعدی بھی دکھاتے ہیں‘ مگر کچھ دنوں سے نظم و نسق لاہور میں لاغری دکھائی دے رہی ہے۔ راجہ ریاض اور رانا ثناءاللہ کی کشتیوں سے اب کام نہیں چلے گا‘ کہیں ان دونوں بڑی پارٹیوں کی جنگ میں ایک کی دم اور دوسرے کی چونچ کسی اور کو نہ لگ جائے۔ شہبازِ پنجاب کو سمجھداری کے ساتھ ہوشیار رہنا چاہیے۔
٭....٭....٭....٭
سپریم کورٹ نے پیمرا سے میڈیا پر فحاشی کی تعریف دو ہفتوں میں طلب کرلی‘ پیمرا کا مستقل چیئرمین متعین نہ ہونے پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ فحاشی کی تعریف ان سے پوچھی گئی ہے جو فحاشی کے فروغ میں یکسو ہیں اور مزے کی بات کہ پیمرا کا سرے سے خصم (چیئرمین) ہی نہیں۔ اگر سپریم کورٹ یہ تعریف قرآن سے پوچھے تو سیدھا سا جواب ہے کہ اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز فحاشی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بے حیائی کے کام فحاشی کہلاتے ہیں۔ گویا فحاشی گناہ نہیں ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ پھر تو گناہ بھی بس فحاشی ہے اور فحاشی ایسے ہے جیسے بچے سے کہا جائے‘ نہیں بیٹا! ایسے نہیں کرتے‘ بری بات۔ اب افتاد تو اس پیمرا پر آن پڑی ہے جس کا چیئرمین ہی نہیں۔ سپریم کورٹ چیک کرے کہیں وفاقی سیکرٹری اطلاعات چیئرمین پیمرا کے حقوق خود تو وصول نہیں کر رہے؟ پیمرا نے سردست یہ کام تو کردیا ہے کہ بھارت پاکستان کو چینلز کی حد تک تو ایک کردیا ہے۔ اگر اسی طرح چھوٹ ملی رہی تو اگلا قدم بھی خوش قدموں کے تعاون سے اٹھائے گا۔ اگر پیمرا نہ بھی ہو‘ کیا حرج ہے‘ سوائے قومی خزانے کے۔ اس پیمرے شیطانی کیمرے کی آنکھ پھوڑ دی جائے تاکہ پاکستانی کلچر کی بینائی واپس آجائے۔ اب تو ڈانس بھی ایسے ایسے دکھاتا ہے کہ ہیروئن ہیرو کے تعاقب میں کچھا پہن کر کھمبے پر چڑھی دکھائی دیتی ہے۔ گانوں میں بول نہیں‘ رقص میں بھاﺅ نہیں‘ موسیقی میں دھن نہیں‘ بس ایک صحت مند موٹی تازی بے لباس فحاشی ہے جو محو دھماچوکڑی ہے۔ یہی تعریف ہے فحاشی کی جس کیلئے پیمرا قابل تعریف ہے۔
٭....٭....٭....٭
غصہ‘ سختی‘ بدگفتاری‘ تخریب کاری‘ کاروکاری‘ تنگ آمد بجنگ آمد‘ دشنام طرازی‘ دشمن کو مزید دشمن بنانا‘ ہر وقت دوسروں کو نصیحت کرنا‘ اپنے گناہ دوسروں میں تلاش کرنا‘ اپنی عورتوں کو ڈبوں میں بند کرنا‘ دوسروں کی عورتوں سے نظر نہ ہٹانا‘ ٹی وی پر بے ہودہ پروگرام خود بٹن دبا کر دیکھنا اور پروگرام کو برا کہنا‘ یہ سب اور ان جیسی کئی اوصاف حمیدہ نے مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اگر ہم پاکستانی ہی کچھ عرصے کیلئے مذکورہ بالا ”اچھی عادات“ کو چھوڑ کر کچھ مدت کیلئے ”بری عادات“ کو اپنالیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ ہمارے پاس تو ابھی تک برائی کو برائی ثابت کرنے کی دلیل نہیں‘ ورنہ عدالت عظمیٰ کیوں پیمرا سے فحاشی کی تعریف پوچھتی‘ کھلی آکسیجن میں سانس لینے کے ہم عادی نہیں رہے‘ جیسے خالص دودھ پینے سے شہری لوگ بیمار پڑ جاتے ہیں‘ کوئی شخص دوسرے کی بات اس طرح سنتا ہے کہ یہ ختم بھی کرے کہ میں اپنی بات شروع کروں‘ ہم میں حوصلے کی جگہ غصے نے لے لی ہے۔ اگر ہم جاگتے رہتے‘ اچھے برے میں تمیز کرتے‘ ذات پات پر فخر نہ کرتے تو آج ہمارے حکمران اتنے نیک ہوتے کہ رحمان ملک کے پیچھے زرداری نماز پڑھ رہے ہوتے۔ مگر یہاں تو مسجدیں بھی فرقہ واریت کی بنیاد پر قائم ہو رہی ہیں۔ اللہ ایک ہے‘ اسکی مساجد بھی صرف مسجد یعنی سجدے کی جگہ کہلانی چاہئیں اور تو اور اگر کسی خاتون کو اکیسویں صدی میں فیشن ایبل لباس میں دیکھیں تو سن صفر میں چلے جاتے ہیں۔ ہم میں سے مفتی کوئی ہو نہ ہو‘ لیکن مفت کے مفتی ٹکے سیر ملتے ہیں۔ کیا دنیا میں پنپنے کے یہی قرینے ہیں؟
٭....٭....٭....٭
خشک دودھ بنانے والی کمپنیوں کا اپنی مصنوعات میں ہر ہفتے چھ روپے تک قیمت بڑھانا معمول بن چکا ہے۔ چھ ماہ کے دوران 24ویں بار اضافہ۔
ایک زمانہ تھا‘ پنجاب میں دودھ کی نہریں بہتی تھیں‘ خشک دودھ تو بس غریبوں کے سکولوں میں غریب بچوں کو امیر بچے بنانے کیلئے گھول کر پلایا جاتا تھا۔ اس وقت سے امریکہ کے یہاں داخل ہونے کا تعین بھی ہوتا ہے۔ پھر کیا ہوا کہ حکمرانوں کی آنکھوں کا پانی خشک ہو گیا اور یہاں خشک دودھ کے پہاڑ کھڑے ہو گئے۔ یقین کیجئے کہ اس خشک دودھ سے تو ہمارا پانی ملا دودھ زیادہ سستا اور طاقتور ہے۔ بس دودھ میں پانی ملانے والوں کا ایمان کمزور ہے اور اب تو شاید باقی ہی نہیں۔ قیامت کے روز یہ گوالے‘ یہ خشک دودھ والے‘ اس حال میں ہونگے کہ بھیسیں‘ گائیں انکے بارے میں فرفر عربی زبان میں شکایتیں لگائیں گی۔ دودھ پیدا کرنیوالے کی تو پکڑ ہی بہت سخت ہوتی ہے‘ خشک دودھ بنانے والے‘ خشک قسمت قوم کی حالت زار پر رحم کھائیں اور یہ ہفتہ وار چھ روپے قیمت میں اضافہ ترک کر دیں۔ حکمرانوں سے کون پوچھے؟ ان سے تو یہاں وہاں دونوں جگہ اللہ ہی پوچھے گا‘ کیونکہ انکی فرد جرم ہی بڑی لمبی ہوگی۔