آگ کا دریا

20 ستمبر 2012

وطنِ عزیز میں اس ہفتے دو طرح کی آگ لگی۔ ایک قسم کی آگ سے غریب پاکستانیوں کے مختلف بینکوں میں پڑے ہوئے 124 ارب روپے یعنی سکّہ رآ ئج الوقت کے مطابق 12,400 کروڑ روپے یا آسان الفاظ میں12,40,000 روپے چند سیاسی فن کاروں یا ”صنعت کاروں“ کے پیٹ کی جہنم کی آگ میں بینکوں کے قرضے معاف کروانے کی شکل میں ، بھسم ہو گئے۔ میں اسے حسنِ انتظام کہوں، یا قدرت کا ظالمانہ مذاق، یا پھر تقدیر کا حسنِ اتفاق کہ جس روز بینکوں سے لوٹے گئے اربوں، کروڑوں اور لاکھوںکا یہ آگ کا دریا اُبل کر سامنے آیا عین اسی روز پنجاب کے دارالحکومت کے شہری اور رہا ئشی علاقے میں لگنے والی دوسری آگ نے تین درجن کے قریب گھروں کے چولھے ٹھنڈے کر دیے ، بہنوں کے آنچل چھین لیے ، ماﺅں کی ردائےں ادھیڑ ڈالیں، بچے یتیم کر دیے اور بھائیوں کے جگر پھاڑڈالے۔ اس آگ سے پہلے لاہور ہی میں ایسی ہی آگ نے تقریباََ اسی قدر زندہ انسانوں کو تہِ خاک کر ڈالا تھا۔ اُس وقت بھی سوائے تعزیت اور دل جوئی کے کچھ ایسا نہ ہو سکا کہ آئندہ کی قیامتِ صغریٰ کو روکا جاسکے اور عین اسی طرح اور عین اسی روز سندھ کے دارالحکومت اور شہرپاکستان کراچی میں جمہوریہ پاکستان کا نائن الیون برپا ہو گیا۔ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے نائن الیون میں تین ہزار زندہ لوگ نذر ِآتش ہوئے جبکہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے نائن الیون میں تین سو سے زائد معصوم اور بے گناہ عوا م آگ کے دریا میں دھکیل دئےے گئے۔ کراچی میں پچھلے صرف ایک مہینے میں ایک سو اٹھاسی لوگ برسر عام اور بر سر بازار قتل ہوئے مگر نہ تفتیش ہے، نہ با معنی مقدمہ ، نہ گرفتاری، نہ پروسیکیوشن، نہ وکالت، نہ عدالت، نہ فیصلہ اور نہ ہی مرنے والوں کیلئے کوئی انصاف، مرنے والے آخرت کے سفر پر روانہ ہوئے لیکن ایسے مرنے والوں کے پیچھے رہ جانے والے لواحقین اور پیارے روز مرتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے اور تھانے ، تفتیشی اور انصاف دینے والے تفتیش کار، اہلکار اور لاءاینڈ آرڈر فراہم کرنےوالے ہٹ دھرم گلے میں یہ کتبہ لٹکائے دند ناتے پھر رہے ہیں....
 یہ خون خاک نشیناں تھارزقِ خاک ہوا
نہ مدعی نہ محاسب حساب پاک ہوا
یادش بخیر۔۔۔ سن دو ہزار پانچ میں وفاقی دارالحکومت کا مارگلہ ٹاور زمین بوس ہوا تو یوں لگا کہ جیسے اس کے ساتھ ہی قدرتی آفات کو کنٹرول کرنے کا نظام عوام کی نظروں میں ذلیل وخوار ہو کر دھڑام سے زمین پر آگراہے۔ اسکے متاثرین میں سے ایک ایسی نوجوان خاتون بھی شامل تھی جس کا بازو ایک سِل کے نیچے آیا تو آفات پر قابو پانے والوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ خاتون کا بازو کاٹ کر اسے سیمنٹ کی سِل سے آزاد کرایا گیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کی اسلام آباد میں کنکریٹ کاٹنے والی مشین نہ تھی اور یہ خاتون کوئی عام شہری نہ تھی بلکہ اسلام آباد کے ہی اسسٹنٹ کمشنر کی بیگم تھی۔ لاہور اور کراچی میں برپا ہونے والے آگ کے دریا ﺅں نے مظلوم لوگوں کی اس امید کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے کہ انکی زندگیوں کے ذمہ دار ٹیکس خور لوگ کبھی زبانی جمع خرچ سے اوپر اٹھ کر ان کے مرنے سے پہلے کچھ کرنے کے قابل ہوں گے۔ ابھی تک تو ناکامی کی بدبو میں ڈوبے ہوئے اور پیشہ ورانہ بددیانتی کے تعفن میں گندھے ہوئے بیانات اور مضحکہ خیز حد تک پہنچ جانے والی طِفل تسلیاں ہی عوام کا مقدر ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ صاحبان یا تو لوگوں کو دہشت و وحشت اور آفت کی قبل ازوقت اطلاع دے کر ثواب ِ دارین حاصل کرنے کو اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں یا پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکس کی رقوم پر چلنے والے سرکاری ذرائع ابلاغ سے یہ فرمان جاری کر نا کافی خیال کرتے ہیں کہ زوروشور سے تفتیش جاری ہے۔ رات گئے بیان دینا پڑجائے تو ساتھ یہ” نشاط انگیز“ خوشخبری بھی سناتے ہیں کہ ملزم بچ کر نہیں جائیں گے۔ کچھ اور صاحبان جن کی حسیاتّ ِ خدمت کب سے دفنائی جا چکی ہیں یہ ضرور کہتے ہیں کہ میں نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ خدا جانے سختی انہوں نے کس کا نام رکھا ہوا ہے۔۔؟
نوٹس سے یاد آیا کہ انہوںنے آج تک دھماکوں اور تخریب کاری سے مرنے والے 35 ہزار پاکستانی لوگوںکی ہلاکتوںکا نوٹس پہلے ہی لے رکھا ہے۔ معیشت، معاشرت، مسافرت اور ہجرت کے یہ دلدادہ پرندے اقتدار کے ہرے موسموں میں جلی ہوئی لاشوں، کچلی ہوئی ہڈیوں، مسلے ہوئے جسموں، جُھلسے ہوئے کپڑوں اور اجڑے ہوئے گھروں کا رخ نہیں کرتے انہیں بھرے میڈیا کے سامنے ©© ”تعزیت چوک“ سے عشق ہے۔
مجھے پاکستان تشریف لانے والے کسی بھی غیر ملکی انتظامی، سیاسی یا سفارتی اہلکار کا احترام ہے لیکن جب ایک طرف پوری مسلمان اُمت ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں فراڈ کے ذریعے ایک یہودی پراپرٹی ڈیلر کے سرمائے سے بننے والی فلم پر آگ کے دریا سے گزررہی ہے تو ایسے میں قوم ”گراس مین“ کے سامنے گھاس کی آس میں لیٹے ہوئے چہروں کو دیکھ کر ایک تیسرے آگ کے دریا کو شرمناک حد تک جھلسا دینے والی کیفیت سے گزری ہے۔ کراچی میں اجتماعی قتل اور دنگے کی وارداتوں کو روٹین سمجھنے والے پاکستان کے دائیں پاﺅں کے نیچے کینسر کو نظرانداز کرنے کی َرِوش چھوڑ یں۔ ذات کے انکار سے باہر نکلیں اور آگ کے دریا میں جلنے والوں کی چیخیں سُنیں۔ ورنہ آگ کے دریا کی موجیں جلاتے وقت کسی سے شناخت نہیں پوچھیں گی۔۔خدانخواستہ