جنگ ِ ستمبر : تاثرات و مشاہدات .... (آخری قسط)

20 ستمبر 2012

 ایک دن مرحوم جنرل صاحب کو کوئی کتاب پہنچانی تھی تو مجھے انکے گھر جانا پڑا۔ ویسے تو اس سے پہلے بھی میں کئی دفعہ انہیں قریب سے دیکھ چکا تھا۔ ایک آدھ دفعہ ہاتھ بھی ملا چکا تھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ میں انہیں غیر رسمی طور پر مل رہا تھا۔ جب میں انکے گھر پہنچا تو جنرل صاحب کمال شفقت سے پیش آئے۔ میرے کندھے کو غور سے دیکھ کر فرمایا: اچھاتو آپ کا تعلق ایجوکیشن کور سے ہے؟ مجھے بٹھالیا‘ چائے منگوائی‘ اس دوران عام قسم کی بات چیت کی ابتداءہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ جنرل صاحب بہت صاف گو اور اچھے سولجر کی طرح کھرے انسان ہیں۔ ایک جنٹلمین سولجر کی بہترین مثال۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔
”سر میں نے آپکی1965ءکی جنگ کے متعلق کتاب پڑھی ہے۔ دو سوالات میرے ذہن میں عرصہ دراز سے کھٹک رہے ہیں۔ اگر اجازت ہو تو عرض کروں؟“ ”ہاں ہاں کیوں نہیں“ جنرل صاحب نے ہمت بندھائی تو میں نے پوچھ ہی لیا:
سوال نمبر1: ”سر اس جنگ کو شروع کرنے کا ذمہ دار کون تھا؟“
سوال نمبر2: ”کیا واقعی یہ فوج کو بدنام کرنے کی کوشش تھی یا بقول کچھ لوگوں کے فوج سے بدلہ لینے کی کوشش تھی؟“
جنرل صاحب نے اچانک کپ میز پر رکھ دیا اور مجھے غور سے گھورنے لگے۔ میں دل میں ڈر گیا کہ یقینا مجھ سے بدتمیزی ہوگئی ہے۔ لیکن اب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔ پیچھے ہٹنا بھی ممکن نہ تھا۔ خاموشی سے جنرل صاحب کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ چند سیکنڈ کے وقفے کے بعد جنرل صاحب نے مجھ سے پوچھا: ان دونوں سوالات کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟
اب کی دفعہ میں نے بغیر کسی جھجک کے کہہ دیا ”سر اب تک اس جنگ پر جو کتابیں میں نے پڑھی ہیں بمعہ آپکی کتاب کے اس جنگ کا ذمہ دار صرف اور صرف ہمارا دفترِ خارجہ تھا اور کچھ لوگ واقعی فوج کی تذلیل چاہتے تھے۔ “
یاد رہے کہ بھٹو صاحب اس وقت تک صرف مرحوم تھے شہادت کے رتبے پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو سرکاری طور پر انہیں ”شہید“ لکھا اور کہا جانے لگا۔ جنرل صاحب نے ایک دفعہ پھر مجھے گھورا اور کہنے لگے:”معلوم ہوتا ہے فوجی ڈسپلن کی مکمل پاسداری تاحال نہیں سیکھی۔ وردی میں رہ کر ایسے سوالات کرنے پر آپ کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے“ میں نے اپنی غلطی کی معافی مانگی اور جانے کی اجازت چاہی۔ ابھی کھڑا ہی ہوا تھا کہ جنرل صاحب نے بیٹھنے کو کہا۔ لہٰذا بیٹھ گیا۔ جنرل صاحب نے پہلے تو مجھے بہت شفقت سے سمجھایا کہ ”ایسے سوال وردی میں رہ کر نہیں پوچھے جاتے لیکن بہرحال اب تم نے پوچھ ہی لیا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ تمہارے خدشات بالکل درست ہیں۔ “
پھر مختلف سوالات کے ذریعے جو کہانی سامنے آئی وہ یہ ہے ”مرحوم بھٹو ایک تیز طرار اور ذہین نوجوان تھا۔ دو ایرانی خواتین کی معرفت مرحوم صدر سکندر مرزا کے نزدیک آیا، وزیر بنا۔ پھر مرحوم جنرل محمد ایوب خان کے اندرونی حلقے میں داخل ہوا۔ صدر جنرل محمد ایوب خان کے اتنا قریب ہواکہ اُسے ڈیڈی کے لقب سے پکارتا۔ وزیر خارجہ کے عہدے پر متمکن ہوا۔ آہستہ آہستہ خود پاکستان کی صدارت کے خواب دیکھنے لگا جس وجہ سے مرحوم صدر محمد ایوب خان سے کچھ اختلافات ہوئے۔ دلوں کے بھید تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور نہ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں لیکن کچھ لوگوں کا اس وقت بھی یہی خیال تھا کہ بھٹو صاحب نے صدر محمد ایوب خان کو سبق سکھانے کےلئے اتنا بڑا جنگی منصوبہ بنایا۔ G.H.Q کی مخالفت کے باوجود صدر صاحب کو کشمیر میں مجاہدین بھیجنے پر مجبور کیا۔ ایوب خان کو سبق سکھانے کیلئے فوج کو بھی سبق سکھانا ضروری تھا۔ بھٹو صاحب کو یقین تھا کہ فوج کو برے طریقے سے مار پڑےگی۔ عوام اور فوج صدر کےخلاف ہو جائیں گے اور وہ غیر متنازعہ لیڈر بن کر اُبھرے گا۔ پھر فوج ہمیشہ کیلئے اس کے آگے لگی رہے گی“۔
یہ واقعی پاکستان کےخلاف بہت بڑی سازش تھی۔ اللہ نے پاکستان کی حفاظت کی اور اسے بچالیا۔ اگر اس سوچ کی کڑیاں 1971ءکے حالات سے ملائی جائیں تو شاید یہ سوچ غلط نہ تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایک مرحوم انسان کیلئے ایسے الفاظ کہے۔ اب چونکہ دونوں کردار اس دنیا میں نہیں۔ آئیں فاتحہ پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو غریق رحمت کرے۔ آمین! میرا خیال ہے تم جو کچھ سننا چاہتے تھے سن لیا۔ مزید شاید اس موضوع پر کسی سوال و جواب کی ضرورت نہیں۔ خدا حافظ۔ بہرحال مجھ تک کتاب پہنچانے کا شکریہ“
میں اٹھا، سلیوٹ مارا اور واپس آگیا۔ مگر بنگالی پروفیسر کے الفاظ ایک دفعہ پھر ہتھوڑے کی طرح میرے دماغ پر برسنے لگے۔