سپر جھوٹ

20 ستمبر 2012
سپر جھوٹ

چند روز قبل امریکہ سمیت دنیا بھر میں ”نائن الیون“ کے ڈرا¶نے اور بد ترین تاریخی واقعہ کی یاد منائی گئی۔ ہمارے ہاں یہ دن بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ اس مرتبہ معاصر ٹی وی چینلز اور بیشتر اخبارات میں بانی پاکستان سے اظہارِ محبت سے زیادہ ٹوئنز ٹاور کی مسماری پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے تجزیوں اور مذاکروں کا اہتمام کیا گیا۔
امریکہ اس روز نیویارک کے گرا¶نڈ زیرو پر چند روایتی تقریبات کا اہتمام کرتا ہے مگر اس مرتبہ یہ تقریب بڑی سادگی سے منائی گئی۔ البتہ پینٹاگون میں ہونےوالی ایک تقریب میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں اور بچ جانےوالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”ہم مرنے والوں کو نہیں بھول سکتے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیں پہلے سے زیادہ مضبوط امریکہ دینے میں ہماری مدد کی ہے۔“
امریکی صدر کے بقول یہ حملے امریکی معاشرت، معیشت، سیاست اور فوجی طاقت کے اعتبار سے بہتر حکمت عملی تیار کرنے میں امریکیوں کے معاون ثابت ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت کے بالکل برعکس سفید جھوٹ ہے جو عام حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طرح اوبامہ نے بھی ۳۰ کروڑ امریکیوں کو آئندہ الیکشن میں اپنی طرف متوجہ کرنے کےلئے بول دیا ہے۔
سیاہ فام اوبامہ کاچنا¶ جس تبدیلی کے نعرے پر عمل میں آیا تھا وہ اب خواب ہو چکی ہے۔ جنوری 2009میں ہونےوالی عظیم الشان تقریب حلف برداری میں اوبامہ نے امریکی عوام کے ساتھ ساتھ پوری دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ میں ایسی سابقہ پالیسیوں کو یکسر تبدیل کروں گا جو امریکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ خصوصاً دنیا بھر میں امریکہ کی عسکری مہمات پر نظر ثانی کی جائےگی جن کی وجہ سے ہر سال امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرتا ہے مگر دنیا بھر میں خون خرابے اور بدنامی کے علاوہ امریکہ کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ امریکی عوام سمیت دنیا بھر کے خوش گمان لوگوں نے نئے صدر کے اس مثبت تعمیری عزم کو بڑی اہمیت دی تھی اور بجا طور پر ان سے امیدیں وابستہ کر لی تھیں جو چار سال گزرنے کے بعد محض ایک سہانے خواب کے طور پر لوگوں کے حافظے میں باقی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کی مجبوریاں اور حکمرانوں کی نفسیات عموماً دنیا بھر میں زمان و مکان کے اختلافات کے باوجود ایک جیسی رہی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی الیکشن مہم میں ووٹ لینے کے لیے امید وار حضرات جو وعدے کرتے ہیں وہ محض روائتی جھوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ اقتدار کی راہ داریوں میں پہنچ کر انسان وہاں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور بالعموم وہ باہر کے ماحول سے کٹ جاتا ہے۔ بیچارے اوبامہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس نے تبدیلی کا نعرہ جس زور و شور سے لگایا تھا اسی تیزی کے ساتھ اس نے اسکے برعکس وہی امور سرانجام دینے شروع کر دیئے جو سابقہ حکمران دیتے چلے آئے تھے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن اداروں نے امریکی صدر کو حکومتی پالیسیاں دینا ہوتی ہیں ان پر مخصوص لابی کا قبضہ ہے اور وہ ہر حکمران کو اپنے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق چلانے کی کوشش کرتی ہے۔ امریکی حکمرانوں اور دفاعی و معاشی اداروں پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور وہ سارے سیٹ اپ کو اپنی مرضی اور طے شدہ مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ اس لیے ”ہر کہ در کانِ نمک می رفت نمک می شود‘ کے مصداق جو شخص بھی امریکی صدر بنے گا اسے اس لابی کے سامنے اپنے ہتھیار ڈالنے پڑینگے ورنہ اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑینگے۔
وائٹ ہا¶س دیکھنے کو تو ایک خوبصورت سفید عمارت ہے مگر اسکے اندر کا ماحول ہرگز اتنا سفید اور انسانیت نواز نہیں۔اس میں ہونےوالی سرگرمیوں کے نتیجے میں پوری دنیا خونیں واقعات کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ خصوصاً9/11 کے بعد یہاں سے جو حکم بھی صادر ہوا ہے وہ انسانیت کی تباہی پر منتج ہوا ہے۔
آپ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے غلغلے کو ہی دیکھ لیں گیارہ سال کی جملہ کارروائیوں سے صاف لگتا ہے کہ اس کروسیڈی جنگ میں باضابطہ طور پر امتِ مسلمہ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور اسکے پہلے مرحلے میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں خونیں عسکری مہمات بھیجی گئی ہیں۔
 ایک محتاط اندازے کےمطابق امریکہ اس طویل اور منافقانہ جنگ پر اب تک 37 کھرب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ متاثرہ ممالک میں ہونےوالی تباہی اور نیٹو ممالک کی افواج کا جانی نقصان اسکے علاوہ ہے۔ امریکہ اگر آج بھی اس جنگ کو سمیٹنا چاہے تو اسے اس پر بھی 8 کھرب ڈالر کم از کم خرچ کرنا ہوں گے۔
دوسری طرف آپ امریکی معیشت پر پڑنے والے عمومی بوجھ کو دیکھیں تو عام آدمی کو شاید یقین بھی نہیں آئے گا کہ اس وقت امریکہ پر بیرونی قرضوں کا بوجھ 160کھرب ڈالر ہے جو اسکی مجموعی قومی سالانہ بچت سے سو فیصد زائد ہے۔ اس مالی خسارے اور قرضوں کو امریکی آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر امریکی باشندہ 5ہزار ڈالر کا مقروض ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ کے پڑھے لکھے مگر بھولے عوام کی اکثریت اس سے لا علم ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ عراق اور افغانستان کے بعد اب سالہاسال سے شام، پاکستان اور ایران پر امریکی حملوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر تیاریاں اور خفیہ ایجنسیوں پر خرچ ہونے والا بھاری سرمایہ، کیا امریکہ کو خوشحال کر رہا ہے؟ اگر اب تک گیارہ برسوں میں امریکہ دہشت گردی کےخلاف نام نہاد جنگ میں کامیابی کی طرف ایک قدم بھی نہیں اُٹھا سکا تو اسکی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ مسلط شدہ ابلیسی جنگ میں بھی امریکہ کو عبرت ناک شکست اور شرمندگی کے علاوہ کچھ اور نہیں ملے گا؟ امریکہ کی وار آن ٹیرر دراصل وار آف ٹیرر ہے کیونکہ ان گیارہ سالوں میں ایک انچ پربھی امریکی فوجیں امن قائم نہیں کر سکیں بلکہ انہوں نے انسانیت کا بے دریغ خون بہایا ہے۔ اس جنگ میں ڈھائی لاکھ معصوم انسان لقمہ اجل بنے ہیں۔ دنیا بھر میں امریکی چھا¶نیوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور یہ صورتحال پوری دنیا پر ایک عذاب کی مانند اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اوبامہ پھر بھی اقتدار کے ایوانوں میں اسے امریکی قوم کی فتح اور انسانیت کی خدمت قرار دیں تو اسے سپر طاقت کے صدر کا سپر جھوٹ نہ کہا جائے تو اسے اور کیا نام دیا جائے؟

جھوٹ سے کام نہ لیں؟

مکرمی! اٹک شہر میں عمران خان نے جلسے سے خطاب کیاانہوں نے حقائق کو مسخ کر کے ...