مومن غلام

خیر اسی میں ہے‘ قیامت تک رہے مومن غلام 
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اسکے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اسکی آنکھوں سے تماشائے حیات
(ارمغانِ حجاز)