’زمینی کونسل’ اور ’پانچ ستارے‘ !

20 مئی 2012
ابھی جنابِ پرویز الٰہی اور اُن کے پارٹی اراکین کی ملاقات کا ساز و سامان سمیٹا جا رہا تھا کہ پیر سائیں حضرت یوسف رضا گیلانی کی آمد آمد کا غلغلہ بلند ہو گیا! چودھری برادران کی رہائش گاہ کے لان پر بندھتے بوریے ایک بار پھر کھل گئے! ہر طرف نئے سرے سے نئی رونقیں لگ گئیں! جنابِ شجاعت حسین، پیر سائیں کے استقبال کے لیے کمرکسنے لگے، تو، جنابِ پرویز الٰہی پیر سائیں کی آمد کے فیوض پر غور کرتے کرتے تقریباً ’فیوز‘ ہونے والے تھے کہ بگل بج گیا! پیر سائیں نے آتے ہی چودھری برادران کے سامنے ملک کی سیاسی صورتِ حال کی بساط بچھا دی! اور اس پر نیٹو سپلائی کی بحالی، برقی توانائی کے بحران اور آئندہ بجٹ کے حوالے سے چلی جانے والی ممکنہ چالوں کا حساب کتاب پیش کرنا شروع کر دیا! مگر، اس تمام صورتِ حال میں بھی ،پاکستان مسلم لیگ نون کا ردِّعمل اِن تین ’شاہ دماغ ‘قائدین کا بنیادی موضوع بن کے رہ گیا!کیونکہ اس ’سانجھے داری‘ کا بنیادی مقصد ہی شریف برادران کا سانجھا سامنا کرنا تھا!
پیر سائیں کا تفصیلی بیان سن لینے کے بعد چودھری برادران کے پاس پیر سائیں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مکمل اتفاقِ رائے کے اظہار کے سوا کوئی اور چارہ باقی نہیں رہ گیا ، سو،پیر سائیں نے واضح الفاظ میں ’موجودہ‘ جمہوری نظام کے مزید استحکام کے لیے کسی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنے کے عزم کا اعلان کر دیا! اور جواباً چودھری برادران نے بھی مسلم لیگ قاف کی طرف سے وفاقی حکومت کے لیے ہر نوع کی مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرانا ضروری گردان لیا! اس ملاقات کے بعد حضرتِ سید یوسف رضا گیلانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہیں بتایا کہ اس وقت ملک میں ڈکٹیٹر شپ کا چلن نہیں بلکہ یہ چال ایک جمہوری حکومت کی چال ہے! عین ممکن ہے کہ پاکستانی عوام ایک ایسا ہی منظر دوبارہ دیکھنے کے لیے صدیوں کی راہ گزر پر بیٹھے رہ جائیں! اور انہیں ایسے چال چلن کی مالک جمہوری حکومت دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہو سکے!
ایک اطلاع کے مطابق 6جون 2012کے دن صبح سویرے چار بج کر 9 منٹ سے دن کے 11بج کر 9 منٹ تک سیّارہ زہرہ سورج کے عین وسط کے سامنے سے گزرے گا! اس سے پہلے یہ منظر صرف 8 سال پہلے جون 2004میں دیکھا جا چکا ہے!مگر، اب یہ منظر اپنا آپ 2117میں دُوہرائے گا! یہ خوش قسمت دَور جنابِ شجاعت حسین کی وزارتِ عظمیٰ کے صرف 8 سال بعد جنابِ پرویز الٰہی کی وزارتِ عظمیٰ کا منظر دیکھنے والا ہے! مگر یاد رہے کہ پھر یہ منظر 2117تک دوبارہ جنم نہیں لے سکے گا!
آسمانوں کی وسعت میں چھب دِکھلاتے ’ستاروں کے جھرمٹ‘ اور اِن جھرمٹوں سے گزرتے سیاروں کے چال چلن پر نگاہ رکھنے والے نجوم شناس ’آسمانی کونسل‘کے ہر سالانہ اجلاس کے موقعے پر سیاروں کی نشست کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں! اور ہر سال کے لیے پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں! ہم نہیں جانتے کہ زمین پر پانچ سیاسی ستاروں کا موجودہ ملن کیا کہہ رہا ہے؟ مگر، ایک بات بار بار کہی جا رہی ہے! اور وہ یہ کہ جنابِ آصف علی زرداری بین الاقوامی سیاست کے شاہ سوار ہیں! اور اُنہیں ملکی سیاست میں گھسیٹ گھسیٹ کر بلاوجہ اُن کے اصل میدان سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے!وہ پاکستان کے لیے ایک نعمتِ غیرمترقبہ ہیں! اور اُن کا ’سیاسی ارادہ‘ناقابلِ شکست ہے! وہ پاکستان کے لیے نئی سربلندیاں کمانے نکلنے والے ہیں! اور خالی ہاتھ لوٹنے والوں میں سے نہیں!کاش ہم ’زمینی کونسل‘ میں سیاسی ستاروں کی نشست و برخاست ہی سمجھنے والوں میں سے ہوتے! اور اس بات پر کچھ کہہ سکتے!