بھارت کبھی جنگ نہیں کرے گا‘ ایک دن پاکستان‘ بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن ضرور ہو گی : مجید نظامی

20 مئی 2012
لاہور (خصوصی رپورٹر) میں نے ہر دور میں قلم کی عزت و آبرو کا خیال رکھا اورکلمہ¿ حق کہنے کی ہرممکن کوشش کی ہے میری آپ سے گزارش ہے پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے مطابق ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے ملتان میںمنعقدہ ایک تقریب میں اپنے ٹیلیفونک خطاب میں کیا۔ یہ تقریب کارکنان تحریک پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان فورم ملتان نے مجید نظامی کے بطور صحافی 70سال اور بطور مدیر روزنامہ نوائے وقت50 سال مکمل ہونے پر ان کے اعتراف خدمت کیلئے منعقد کی تھی۔ مجید نظامی نے کہا میں معذرت خواہ ہوں میں ذاتی طور پر یہاں حاضر نہیں ہو سکا۔ اگرچہ میرا دفتر یہاں ہے اور میں یہاں باقاعدگی سے آیا بھی کرتا تھا۔ میں آپ حضرات کا بے حد مشکور ہوں آپ اعتراف خدمت کی اس مجلس میں تشریف لائے۔ میں نے بطور مدیر روزنامہ نوائے وقت 50 سال کیسے گزارے‘ یہ میں ہی بہتر جانتا ہوں۔ میرا واسطہ فیلڈ مارشل ایوب خان‘ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاءالحق اورجنرل پرویز مشرف سے پڑا۔ اس کے علاوہ سویلین جنرل ذوالفقار علی بھٹو سے بھی میرا واسطہ پڑا کیونکہ وہ پہلے سویلین مارشل لاءایڈمنسٹریٹر تھے۔ میں نے ہر دور میں قلم کی عزت و آبرو کا خیال رکھا اورکلمہ¿ حق کہنے کی ہرممکن کوشش کی۔ مجھے اس بات کی اپنی صحت کی صورت میں بھی قیمت ادا کرنا پڑی اور میں نے تین بار دل کا بائی پاس کرایا ہے۔ ہم نے نوائے وقت کو کبھی مالی منفعت کا ذرےعہ نہےں بناےا کےونکہ حق گوئی کی صفت اور مال بنانے کی علّت کبھی ےکجا نہےں ہوسکتےں۔ ہمارے نزدےک صحافت اےک مقدس مشن ہے‘ کاروبار ہرگز نہےں۔ ہم قلم کو قوم کی امانت تصور کرتے ہےں۔ اخبار چلانے کےلئے اگرچہ اشتہارات رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتے ہےں لےکن ہم نے قومی مفادات کی خاطر بارہا اشتہارات کو بھی داﺅ پر لگا دےا۔ مختلف سول اور فوجی حکومتوں نے ہمارے اشتہارات پر پابندی عائد کئے رکھی مگر ہم نے ہمےشہ ملک و قوم کے مفاد کو مقدم رکھا‘ اپنی پالےسی کے حوالے سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کےا۔ انشاءاللہ تعالیٰ مستقبل مےں بھی ےہ جہد مسلسل جاری رہے گی تاکہ پاکستانی عوام اِس سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہےں‘ وہ بطرےق احسن پوری ہوتی رہےں۔ وقت نےوز ٹی وی چےنل کی پالےسی بھی انہی نظرےات کی بنےاد پر استوار کی گئی ہے۔آج سے ٹھےک 72 سال پہلے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی خواہش کی تعمےل مےں مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے جواں سال رہنما حمےد نظامی نے مسلمانان برصغےر کی دلی امنگوں اور آرزوﺅں کی ترجمانی کے لئے نوائے وقت کا اجراءکےا۔ مالی وسائل سے تہی دامن ہونے کے باوجود وسائل سے مالا مال ہندو پرےس کا مردانہ وار مقابلہ کےا اور تصور پاکستان پر اس کے رقےق حملوں کا منہ توڑ جواب دےا۔ میرے برادر حمید نظامی مرحوم جنہیں میں شہید صحافت کہتاہوں‘وہ بھی ایوب خان کے زمانہ میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ میں اس وقت لندن میں اپنے اخبارکی نمائندگی کر رہا تھا مجھے آغا شورش مرحوم کا فون آیا کہ فوراً واپس آﺅ۔ جب میں واپس آیا تو حمید نظامی بیہوش تھے لیکن ابھی زندہ تھے۔ انہوں نے میری آواز سن کر آنکھیں کھولی اورکہا ”مجید تم آگئے‘اچھا کیا تم آگئے“اوراس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔ نواب آف کالاباغ جو اس وقت پنجاب کے گورنر تھے وہ ہمارے گھر فاتحہ خوانی کیلئے تشریف لائے اور جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کبھی چائے کی پیالی کیلئے ہمارے ہاں تشریف لائیں۔ مجھے دوستوں نے بہت مجبورکیا آپ وہاں جائیں۔ میں وہاں چلا گیا اور میں نے انہیں ان کی شہرت کے برعکس ایک معززو محترم اور مشفق شخصیت پایا۔ اسی ملاقات کے دوران اچانک انہوں نے مجھے پنجابی میں کہا ”اتے خداتے تھلے ایوب خان، اگر اوہ مینوں کہہ دے کہ نوائے وقت نوں بند کر دیو تے میں اک منٹ وی نئیں سوچاں گا تے نوائے وقت نوں بند کر دیاں گا لیکن معاف کریں توں جنا نئیں ہوویں گا جے توں اپنے بھرادی پالیسی جاری نہ رکھیں“ (اوپر خدا اور نیچے ایوب خان ،اگروہ مجھے نوائے وقت بند کرنے کیلئے کہہ دے تو میں ایک منٹ بھی نہیں سوچوں گا اور نوائے وقت بندکر دوں گا لیکن تم جوان نہیں ہو گے اگر تم اپنے بھائی کی پالیسی جاری نہ رکھو)۔ میں نے انہیں کہا نواب صاحب آپ مجھے جنا (جوان) ہی پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے بعد ایوب خا ن سے لے کر پرویز مشرف تک ہر حکمران نے خواہ وہ فوجی تھا یا سویلین مجھے جنا (جوان) ہی پایا۔ میں اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے ملک و ملت کے اساسی نظرےات سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہنے اور ڈنکے کی چوٹ پر اُن کی تروےج کےلئے ہمت اور استقامت عطا فرمائی۔ میری آپ سے گزارش ہے آپ پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے مطابق ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ ہمارا اےمان اور ہماری منزل قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظرےات و تصورات کی روشنی مےں اِس مملکت خداداد کی تعمےروترقی ہے۔ ہم دو قومی نظرےہ کو اِس ملک کی بنےاد اور قےامِ پاکستان کے مقاصد کے حصول کےلئے پےہم جدوجہد کو اپنا فرض اولےن سمجھتے ہےں۔ قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ بھارت یہاں سے نکلنے والے ہمارے دریاﺅں پر ڈیم بنا کر خدانخواستہ ہمیں بنجر بنانا چاہتا ہے۔ ہمیں ان کا یہ کھیل ختم کرنے کیلئے ایٹمی جنگ بھی کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ میری حاکمانِ وقت اور فوجی قائدین سے گزارش ہے اس مسئلے کا جائزہ لیں اوربھارت کو اس کی زبان میں چتاونی دیں انسان کا بچہ بنے اور اس خیال کو چھوڑ دے کہ وہ پاکستان کو خدانخواستہ ریگستان بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ عالمی تھنک ٹےنکس اور آبی ماہرےن کا کہنا ہے پانی کے مسئلے پر دنےا کی پہلی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابےن ہوگی اور خدانخواستہ یہ جنگ ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ خدا نہ کرے وہ وقت آئے لیکن ہمیں زندہ رہنا ہے اور اگلی نسل کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو ہمیں ہرقربانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ امریکہ اپنے آپ کو امن کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے‘ اس نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے لیکن اس کے باوجود جاپان آج بھارت اور امریکہ سے زیادہ صنعت والا اور خوشحال ملک ہے۔ آج کل امن کی آشا کامسئلہ بہت چلا ہوا ہے اور گزشتہ روز ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں امن کی آشا کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں لاہور شہر کے تمام دانشوروں نے شرکت کی‘ ان میں ریٹائرڈ جرنیل‘ بریگیڈئر اورکرنل بھی شامل تھے۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا امن کی آشا ایک دھوکہ ہے اور یہ ہمیں بھارت کا ازسرنو غلام بنانے کا طریقہ کار ہے۔ ہمیں امن کی آشا کی بھاشا نہیں سننی چاہئے اور نہ اس کی گردان دہرانی چاہئے۔ بھارت تمام اسلحہ پاکستان کیلئے خرید رہا ہے۔ ان کے وزےر خزانہ کا بےان شائع ہوا ہے ہم (بھارت) اسلحہ خرےد خرےد کر اپنی کرنسی کا بےڑہ غرق کر رہے ہےں۔ اس سب کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ مل کر خدانخواستہ پاکستان کا مکّو ٹھپنے(ختم کرنے) کی تیاری کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور میاں محمد نواز شریف نے تمام تر دباﺅ اور ترغیبات کے باوجود ایٹمی دھماکے کردیئے۔ اس وقت قرآنی حکم کے مطابق جنہیں ہم کلام الٰہی کے حوالے سے گھوڑے کہتے ہیں یعنی ہمارے ایٹم بم اور میزائل‘ وہ تیار ہیں، میں اکثرکہتا ہوں ہمارے یہ گھوڑے بھارت کے کھوتوں (گدھوں) سے بہتر ہیں۔ میرے بزرگ ساتھی کرنل (ر) جمشید احمد ترین کاکہنا ہے بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کا پنگا کبھی نہیں لے گا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں بنگلہ دیش بن گیا اورایک پاکستان کے دو پاکستان بن گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ ہمارے سیاستدانوں کی بے عملی اور سستی کا نتیجہ ہے یا یہ کہہ لیں وہ یہ خیال کر رہے تھے صرف ہمیں ہی تخت پر بیٹھنا چاہئے۔ تاہم ایک کے دو پاکستان بن گئے۔ بنگلہ دیش خدانخواستہ ہندوستان کا حصہ نہیں بنا اور اسی طرح آزاد ہے جس طرح پاکستان آزاد ہے۔ بے شک موجودہ دور میں بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی وزیراعظم ہے لیکن وہ ہمیشہ وزیراعظم نہیں رہے گی۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں ایک نہ ایک دن پاکستان اوربنگلہ دیش کی کنفیڈریشن ضرور ہو گی اور پاکستان ازسرنو ایک ہوگا اور ہم پاکستان کو قائداعظمؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ اور مادرملتؒ کا پاکستان بنائیں گے۔ یہ تمام شخصیات ہمارے لئے رول ماڈل ہیں۔ آپ سیاستدان ہیں یا طالب علم‘ خواتین ہیں یا کسی اورشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں آپ انہیں اپنا رول ماڈل بنائیں اور ان کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنائیں۔ پاکستان انشااللہ تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔ مجید نظامی نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ اور مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ زندہ باد کے نعروں سے کیا۔
ملتان (محمد نوید شاہ/ فرحان ملغانی/ رفیق قریشی/ رخشندہ نیر سے) سجادہ نشین چورہ شریف پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے کہا کہ مجید نظامی عجز و انکساری کا پیکر ہیں۔ وہ صرف آقا محمد کے غلام اور نظریات قائد کے معتقد ہیں۔ ایک دو ملاقاتیںکرنے والے یہ نہ سمجھیں نظامی صاحب ان کے معتقد ہیں وہ صرف پاکستان کے معتقد ہیں۔ وہ سچے مجاہد پاکستان ہیں جو آج بھی پاکستان کیلئے جہاد کر رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک پاکستان میں امیر اور غریب کیلئے ایک ہی قانون نہیں بن جاتا۔ مجید نظامی نے زندگی بھر اپنا کوئی پلاٹ نہیں بنایا جبکہ یہاں تو کوئی چھوٹا موٹا عہدہ ملتے ہی بیرون ملک اکا¶نٹس بنا لیتے ہیں۔ آج پاکستان کی تہذیب و تمدن کو ختم کرنے کیلئے مغرب حملہ آور ہے ہمیں اپنے کلچر کو بچانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نظریہ پاکستان فورم کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ”مجید نظامی بطور صحافی 70 سالہ و 50 سالہ ادارتی خدمات“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا آج ہمیں اپنی اصل شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے نظریہ پاکستان کا تحفظ کرنا ہوگا۔ نظریہ پاکستان کے اصل خالق شیخ مجدد الف ثانیؒ تھے جن کے پیروکار مجید نظامی ہیں اور میں ان کا پیروکار ہوں۔ انہوں نے مزید کہا آج بدقسمتی سے ہمارے ملک میں امیر کیلئے قانون اور ہے اور غریب کیلئے الگ قانون ہے جبکہ ہمارے آقا دوجہاں حضرت محمد نے ہمیشہ یہ درس دیا چوری ان کی بیٹی فاطمہؓ بھی کرے گی تو وہ اس کے بھی ہاتھ کاٹ دینگے۔ہمیں امتیازی قوانین کو ختم کر کے اصل اسلامی تعلیمات پر مبنی قوانین کو نافذ کرنا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی کر سکے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے کہا 1947ءکے پاکستان کو 21 ویں صدی میں ہم کس طرح لیکر جا رہے ہیں۔ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینا حب الوطنی نہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کیلئے حساس بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کسی ملک کی خارجہ پالیسی حکومت بناتی ہے پر اظہار رائے پارلیمنٹ کرتی ہے لیکن بھارت پاکستان کے حوالے سے خارجی پالیسی تشکیل دینے سے پہلے نوائے وقت کے اداریوں سے رہنمائی لیتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک جو سوچ نوائے وقت کی ہے وہی سوچ حکومت کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا آج کی جمہوریت سے پاکستان کو کچھ نہیں مل رہا۔ پاکستان کے حالات آج نہ بدلے تو آنے والے وقت میں عوام کے ہاتھ آج کے لیڈروں کے گریبانوں میں ہونگے۔ ذاتی مفادات کے تحت فائدے اٹھانے والے لیڈروں نے آئین کو مذاق بنا دیا۔ زرداری کو خود ملک پر مسلط کرانے والے اب ”گو زرداری گو“ کا نعرہ کس طرح لگا رہے ہیں۔ مجرم وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے آئین کو کیوں مضبوط نہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا مجید نظامی صاحب درد دل رکھنے والے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد کا آغاز کر دیا مگر جب صحافتی زندگی میں قدم رکھا تو پھر ان کی جماعت پاکستان بن گئی۔ انہوں نے کہا مفاہمت کی سیاست کے نام پر ساڑھے 3 سال تک اکٹھے ساتھ چلنے والے آج کونسی احتجاجی تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ سوئس اور لندن کے بینکوں میں پیسہ چھپانے والوں سے اب غریب عوام ضرور حساب لینگے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہمیں پاکستان سے پیارا نہیں۔ اس لئے اب پنجاب کے پوٹھوار‘ جنوبی پنجاب سمیت فاٹا اور ہزارہ کے صوبوں کا قیام عمل میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان ڈوب رہا ہے مگر صرف مجید نظامی جیسی شخصیات ملک کو بچانے کیلئے میدان عمل میں آ چکی ہیں۔ آج بھی مجید نظامی ملک کو بچانے کیلئے آگے ہیں ہم سب ان کے پیچھے ہیں قوم ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اندر جمہوریت اور بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ پاکستان کا مقدمہ لڑا‘ آج بھی وہ اصل جمہوریت کے قیام کیلئے اور بقایا پاکستان کیلئے قلم سے جہاد میں مصروف ہیں۔ حمید نظامی نے صحافت کا جو پودا لگایا اس کی آبیاری مجید نظامی نے اپنی صحت اور جوانی کو دیکر کی۔ آج وہ پودا پھل پھول کر توانا درخت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جنرل سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے کہا آج کی یہ تقریب تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ مجید نظامی کا آج بھی حوصلہ اور ہمت کسی جوان سے کم نہیں۔ وہ اصل آبروئے صحافت ہیں۔ انہیں لیاقت علی خان نے ”مجاہد پاکستان“ کا اعزاز دیا۔ اسی لئے ان کا جہاد آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے سول مارشل لاءسمیت تمام آمروں کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ وہ انڈیا صرف ٹینک پر ہی بیٹھ کر جانا چاہتے ہیں۔ فکر اقبال اور افکار قائد کے پرچار میں ان کا کردار لاثانی ہے۔ آج کی نئی نسل کو تحریک پاکستان اور مقاصد پاکستان سے روشناس کرانا ان کا کارنامہ ہے۔ مجید نظامی نے ہمیشہ قوم کو غیرت کا درس دیا۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت ملتان شمیم اصغر را¶ نے کہا آج کا دن ہم سب کیلئے خوشی کا دن ہے کہ آج ہم مجید نظامی کی 70 سالہ صحافتی اور 50 سالہ ادارتی خدمات کے اعتراف کا دن منا رہے ہیں۔ آمرانہ حکومت ہو یا جمہوریت کے نام پر آمرانہ طرز حکومت مجید نظامی نے ہمیشہ کلمہ حق بلند کیا۔ آج بھی ”افغان باقی کہسار باقی“ کا سنہری فقرہ لکھنا ان کی ہی ہمت ہے جس پر نجانے امریکیوں کے دل پر کتنے سانپ لوٹتے ہونگے۔ ان کی عمر اور حوصلہ دیکھ کر تو ہمیں بھی حوصلہ اور ہمت ملتی ہے۔ صوبائی وزیر اوقاف احسان الدین قریشی نے کہا مجید نظامی کا 70 سالہ صحافتی دور ہمیشہ بے داغ اور روشن صحافت پر مشتمل رہا۔ یہود و ہنود کے گماشتے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ایک آمر نے نوازشریف کی جمہوری حکومت کو ختم کر دیا۔ آج بھی اس کے گماشتے پاکستان کو ختم کرنے پر لگے ہیں مگر مجید نظامی کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ صرف مسلم لیگ ن مجید نظامی کے نظریات کو لیکر آگے بڑھ رہی ہے اور ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نوابزادہ منصور احمد خان نے کہا میں نے اپنے والد کو ہمیشہ صرف نوائے وقت کا مطالعہ کرتے ہی پایا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی وائس چیئرمین مجیدہ وائیں نے کہا مجید نظامی صحافت کا درخشاں باب ہیں۔ آمروں اور طالع آزما¶ں سمیت نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بھی آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی کوششیں کیں مگر مجید نظامی نے کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رکن قومی اسمبلی شیخ طارق رشید نے کہا مجید نظامی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور آج اس کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔ نظریہ پاکستان فورم بہاولپور کے صدر بہاولپور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سید تابش الوری نے کہا مجید نظامی نے فوجی آمریت کے خلاف ثابت قدمی‘ حوصلہ مندی کے ساتھ جہاد کیا۔ صدر نظریہ پاکستان فورم پروفیسر حمید رضا صدیقی نے کہا مجید نظامی کی صحافتی خدمات سے کسی کو انکار نہیں۔ ان کی سوچ قومی اور بنیادی نظریہ پاکستان ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے ان کیلئے یادگاری ٹکٹ جاری کئے جائیں۔ جنرل سیکرٹری نظریہ پاکستان فورم انجینئر ممتاز احمد نے کہا پاکستان کی خوش قسمتی ہے یہاں مجید نظامی جیسی شخصیات موجود ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ قومیت کے تصور کو اجاگر کیا۔
کبیر علی شاہ