آئین کے سوا کوئی نظام قبول نہیں‘ انصاف کی فراہمی ریاست کی بھی ذمہ داری ہے : چیف جسٹس

20 مئی 2012
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ آئی این پی+ نوائے وقت نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدلیہ اور سول سوسائٹی کو آئینی نظام کے علاوہ کوئی دوسرا نظام قبول نہیں، انصاف کی فراہمی ریاست کی بھی ذمہ داری ہے، ماضی میں آئین سے انحراف کی وجہ سے عدلیہ سمیت تمام ادارے زیرعتاب آئے،موجودہ جمہوریت آئین نے ہی دی۔ وہ گذشتہ روز لاءاینڈ جسٹس کمشن کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عوام کو جلد انصاف کی فراہمی کے لئے ضلعی عدلیہ میں ججزکی تعداد میں اضافہ کیا جانا نہایت ضروری ہے ، انصاف کی فراہمی،آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ریاست کی بھی ذمہ داری ہے جو وہ عدلیہ کے ذریعے سرانجام دیتی ہے اور ایک مضبوط عدالتی نظام ہی عوامی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہو سکتا ہے جبکہ کمشن نے تجویز کیا ہے کہ ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعداد میں فوری اضافہ کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں آنے والے بجٹ میںاضافی فنڈز مختص کریں، بدل صلح میں لڑکی دینے ،لینے یا لینے کا مطالبہ کرنے والے کو 14سال قیدکی سزا دی جانی چاہئے جبکہ غیر مناسب اور بدنیتی پر مبنی تفتیش کرنے والے افسران کو سزا دینے کیلئے پاکستان پینل کوڈ میں ایک سیکشن کا اضافہ کیا جائے۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت اور پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اٹارنی جنرل ، سیکرٹری قانون اور ممبران نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارے موجودہ انتظامی قوانین صدیوں پرانے ہیں جو عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے، اس مقصد کیلئے قوانین میں ترمیمی اصلاحات کرکے انہیں سادہ اور حقیقت پسند بنانا ضروری ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمارے عدالتی نظام کیلئے چیلنج پیدا کر دیئے ہیں جن سے عہدہ براءہونے اور فوری و سستے انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتی نظام کو مزید آسان بنانا ہو گا۔اجلاس میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ سروس ٹریبونل کے پاس فیصلوں پر عمل درآمد کے اختیارات نہ ہونے کے باعث سائلین ہائیکورٹس کا رخ کر نے پر مجبور ہیں جس پر فاضل کمیشن نے تجویز دی کہ سروس ٹریبونلز کو اس حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔کمشن نے فیملی کورٹ ایکٹ ، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ کے قواعد، ویکسینیشن قانون، سی سی پی کے سیکشن 89(A) میں بھی ترامیم تجویز کیں۔ اس کے علاوہ اجلاس نے انصاف تک رسائی ترقیاتی فنڈز کے حسابات کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں قیدی خواتین میں شامل حاملہ اور دودھ پلاتی ماﺅں کو ضمانت دینے پر غور کیا گیا۔
چیف جسٹس