مقبوضہ کشمیر: پولیس سٹیشن پر بم حملہ‘ 4 اہلکار زخمی‘ عمر فاروق‘ علی گیلانی سمیت حریت قیادت نظر بند

20 مئی 2012
سرینگر (اے پی پی + آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس (میر واعظ گروپ) کی کال پر کل پیر کو میر واعظ مولوی فاروق اور خواجہ عبد الغنی لون کی برسیوں کے موقع پر وادی میں مکمل ہڑتال کی جائے گی اور شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے عیدگاہ چوک میں احتجاج ہو گا۔ اس دوران بھارتی فورسز نے حریت رہنماﺅں کے خلاف کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے دونوں دھڑوں کے چیئرمینوں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت متعدد رہنماﺅں عبدالغنی بٹ‘ بلال لون‘ شبیر شاہ کو گرفتار اور ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا ہے۔ ادھر ریاستی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مجاہدین سرینگر میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ علی گیلانی کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی روکا گیا۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی نظر بندی کے خلاف سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور بھارتی فوج‘ ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ بارودی سرنگیں تیار کرنے کے ماہر کئی جنگجوﺅں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سوپور میں پولیس سٹیشن پر دستی بم حملے میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ حریت پسندوں کی آواز سننے کی جرا¿ت بھی کھو چکی ہے۔ علی محمد ساغر کے بیان کے چند گھنٹے بعد ہی کٹھ پتلی انتظامیہ نے انہیں گھر میں نظربند کر دیا ہے۔ حریت چیئرمین نے اپنی نظربندی کو بلاجواز اور غیر جمہوری قرار دیا تور کہا کہ لوگوں کو ان عوامی جلسوں میں شرکت سے روکنا کٹھ پتلی انتظامیہ کیلئے ممکن نہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے والد غلام قادر ملک کی رسم چہارم سرینگر میں ہوئی۔