امریکہ کے سیاسی حالات پاکستان سے معافی مانگنے کی اجازت نہیں دیتے : امریکی تھنک ٹینک

20 مئی 2012
واشنگٹن + اسلام آباد (آن لائن) پاک امریکہ تعلقات میں تقریباً چھ ماہ کی سرد مِہری کے بعد بہتری کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ نیٹو ساز و سامان کی کراچی سے افغانستان ترسیل سے منسلک ٹرانسپورٹرز نے سپلائی لائنز کی ممکنہ بحالی پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے سپلائی پر پابندی سے قبل امریکی و اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل لگ بھگ 7,500 ٹرک اور آئل ٹینکرز کے ذریعے کی جا رہی تھی۔ حزب اختلاف کے علاوہ مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں نے نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ان کے کارکن نیٹو قافلوں کا راستہ روکیں گے، جب کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بھی کنٹینروں پر شدت پسندوں کے حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ خیبر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر شاکر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دفعہ سپلائی شروع ہو گئی تو گاڑیوں، ڈرائیوروں اور دیگر عملے پر حملے زیادہ ہوں گے اور نقصان زیادہ ہو گا۔ وائس آف امریکہ کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ کے سکالر ان ریزیڈنس، مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات واپس ٹریک پرآچکے ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا یہ وہی ٹریک ہے جس پر وہ سلالہ حملے سے پہلے کھڑے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں سیاسی حالات پاکستان سے معافی مانگنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کیونکہ، یہاں صدر باراک اوباما کو پہلے ہی دو معافیاں مانگنے پر اپوزیشن جماعت ری پبلکن پارٹی کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم سفارتکارکوئی ایسا لفظ تراش سکتے ہیں جس سے پاکستان والوں کی بھی تشفی ہو جائے۔پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کی شکاگو اجلاس میں شرکت ملک کے مفاد میں ہے۔ اگر امریکہ نے ابھی تک معافی نہیں مانگی تو پاکستان نے بھی ابھی تک نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ نہیں کیا۔