سرگودھا: اسلم مڈھیانہ کے مخالف وکیل پر حملہ‘ تشدد‘ وکلاءکا احتجاج‘ ہڑتال

20 مئی 2012
سرگودھا (نمائندگان + آن لائن) سابق ایم پی اے اسلم مڈھیانہ اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے نفیس خان لودھی کے وکیل شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ پر حملہ اور تشدد، اغوا کی کوشش کی گئی۔ واقعہ کے خلاف ڈسٹرکٹ بار سرگودھا کے وکلا کا احتجاج، بھلوال، سلانوالی، ساہی وال اور شاہ پور، کوٹ مومن سمیت ضلع کی تمام تحصیلوں میں وکلا نے مکمل ہڑتال کی۔ شاہد نذیر ایڈووکیٹ اپنے گھر عبداللہ کالونی سے معمول کے مطابق ضلع کچہری آ رہے تھے کہ ظفر اللہ چوک کے قریب 15مسلح افراد نے انہیں روک لیا اور گاڑی سے اتار کر اپنی گاڑی میں اغوا کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر تشدد کیا۔ 18 مئی کو پیشی کے موقع پر عدالت میں اسلم مڈھیانہ سے شاہد نذیر خان کی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی، اسلم مڈھیانہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے شاہد نذیر خان کو مقدمہ جو انسداد دہشت گردی سرگودھا کی عدالت میں زیر سماعت ہے کی پیروی اور صحافیوں کو کوریج پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ وکلا نے 3 روز تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ آن لائن کے مطابق وکیل کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے وکیل پر تشدد کا نوٹس لے لیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تھانہ ساجد شہید میں اسلم مڈھیانہ کے داماد ندیم سرور مڈھیانہ سمیت 8 نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔ دریں اثناءاسلم مڈھیانہ کے ترجمان نے اس واقعہ کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، موصوف خود ٹی وی اور سٹیج کے اداکار ہیں اور محض اداکاری کر رہے ہیں۔