نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی‘27 مئی کو کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے: دفاع پاکستان کونسل

20 مئی 2012
لاہور (اپنے نمائندے سے + نوائے وقت رپورٹ) دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی کی بحالی کی کوششوں کے خلاف 27 مئی کو کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے، 25 مئی کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف، عمران اور مولانا فضل الرحمن سے جدوجہد میں ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک بھر کی دینی جماعتوں کے مرکزی قائدین نے منصورہ میں دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے حکمرانوں کی طرف سے نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے فیصلے کے خلاف 27 مئی کو کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کو لانگ مارچ اور 25 مئی کو قوم سے یوم احتجاج منانے کی بھرپور اپیل کی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی مذہبی جماعتوں کے سربراہوں مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، مولانا محمد احمد لدھیانوی، جنرل (ر) حمید گل، شیخ رشید احمد، محمد اعجاز الحق، لیاقت بلوچ، یحییٰ مجاہد، منور حسن، مولانا عطاءاللہ بخاری، وحید الحق ہاشمی اوردیگر قائدین نے کہا کہ حکومت اس وقت عملاً غیر آئینی ہے۔ وزیراعظم سزا یافتہ ہیں اسلئے کابینہ بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے یہ حکومت ملکی دفاع سمیت ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے فیصلے کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ پرویز مشرف کی طرح اب یہ جمہوری حکومت ہونے کی دعویدار حکومت ملکی سلامتی کی پرواہ کئے بغیر ہمارے ازلی دشمن امریکہ کو دوبارہ 10 سال کیلئے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے خون کرنے کیلئے برابر کی شریک ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں بڑی امید تھی کہ عمران خان اور نوازشریف اس اہم قومی ایشو پر دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم میں شریک ہونگے، انہیں دعوت دی گئی مگر انہوں نے دعوت قبول نہیں کی، ہر مشکل وقت میں پہلے کی طرح عمران خان اچانک لندن چلے گئے ہیں۔ قوم ہمارا ساتھ دے، یہ قومی مسئلہ ہے۔ ےہ سیاست یا انتخابات کا معاملہ نہیں ہے۔ حکومت نے صرف ذاتی مفاد کیلئے سب کچھ سرنڈر کر دیا۔ نیٹو سپلائی لیجانے والے کنٹینر مالکان کو چاہئے کہ وہ حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے میں شامل نہ ہوں اور سپلائی لے جانے سے انکار کردیں، اللہ انکو اور طریقوں سے روزی دیگا کیونکہ دشمن کو ایک گندم کے دانہ کے برابر بھی سپلائی فراہم کرنے میں مدد دینے والے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں، وہ بھی گناہ میں برابر کے شریک سمجھے جائینگے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اجلاس میں نیٹو سپلائی کی بحالی کو یکسر مسترد کر دیا گیا کسی بھی قیمت پر اس بحالی کو تسلیم نہیں کیا جائےگا۔ اس حساس ترین معاملہ پر اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی دعوت دی گئی۔ تحریک انصاف کی جانب سے اجلاس میں عمران خان کی شرکت کا اشارہ ملا لیکن وہ ایک روز قبل لندن چلے گئے۔ لندن ہمارے سیاستدانوں کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے جب بھی کوئی قومی اورحساس معاملہ درپیش ہوتا ہے یہ سیاستدان لندن چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لندن کے عذاب سے نکال لے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں نیٹو سپلائی کی بحالی پر تفصیلی بحث ہوئی اور تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نیٹو کی سپلائی کی بحالی کے فیصلہ کو کسی بھی صورت قبول نہیںکیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراردادوںکو پاﺅں تلے روندتے ہوئے نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ نہیں کریںگے۔ لانگ مارچ کے لئے روٹ اور جلسوں کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دےدی گئی ہے جس میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد شامل ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ 25 مئی کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کا لانگ مارچ سو فیصد پرامن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اپنے لانگ مارچ سے پہلے دفاع پاکستان کونسل کے لانگ مارچ میں شریک ہو جائیں۔ منور حسن نے کہا کہ قومی یکجہتی کیلئے ہم سب ایک ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے لانگ مارچ کی تیاریوں و انتظامات کے حوالہ سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی سربراہی میں 10 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی جس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد‘ جماعة الدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ‘ جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرو¿ف فاروقی‘ تحریک حرمت رسول کے سیکرٹری جنرل قاری محمد یعقوب شیخ‘ اہلسنت والجماعت کے مولانا زاہد محمود قاسمی‘ قاری منصور احمد‘ زاہد بختاوری‘ مولانا شمس الرحمن معاویہ اور زبیر البازی شامل ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل کی لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلہ میں قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس لیاقت بلوچ کی صدارت میں ہوا جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے روٹس‘ سکیورٹی‘ لاجسٹک‘ ٹرانسپورٹ‘ میڈیکل اور دیگر مسائل کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ابتدائی طور پر 6 ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں مالیاتی‘ میڈیا‘ لاجسٹک‘ سکیورٹی‘ میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کی کمیٹیاں شامل ہیں‘ مالیاتی کمیٹی کا سربراہ شیخ رشید احمدکو بنایا گیا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاس میں کونسل میں شامل قریباً تمام جماعتوں کے 50 سے زائد قائدین اور نمائندگان نے شرکت کی، جن میں دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید، جنرل (ر) حمید گل، اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق، جمعیت اہلحدیث کے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، انصار الامہ کے مولانا فضل الرحمن خلیل، تحریک حرمت رسول کے مولانا امیر حمزہ، جماعت اہلحدیث کے حافظ عبدالغفار روپڑی، پاکستان علما کونسل کے علامہ طاہر محمود اشرفی، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، جمیعت علمائے اسلام (س) کے مولانا عبدالر¶ف فاروقی، قاری شیخ یعقوب، سید یوسف شاہ، ڈاکٹر محمد اجمل قادری، محمد یحییٰ مجاہد، تحریک غلبہ اسلام کے مولانا عبدالجبار، شمس الرحمن معاویہ، محمد رفیق بدر نیازی، زاہد بختاوری، حافظ خالد ولید، زاہد محمود قاسمی، حافظ عبدالوہاب روپڑی، خالد بشیر، مولانا محمد زبیر البازی، مولانا رمضان ساجد، محمد شفیع جوش، پیر سیف اللہ خالد نقشبندی، مولانا عطاءاللہ بخاری، امداد الحسن نعمانی، وحید الحق ہاشمی، مولانا محمد یونس قاسمی، محمد عاصم مخدوم، مولانا عبدالرحمن، محسنان فا¶نڈیشن کے محمد عبداللہ گل، آل پاکستان پیپلز یوتھ موومنٹ کے دانش دیدار بلوچ، مفتی سید جلال الدین شاہ، مولانا عبدالخالق زاہد، مولانا شمس الہادی، شکیل الرحمن ناصر، ڈاکٹر دیدار علی اور دیگر شامل تھے۔