رحمن ملک کی منور حسن سے ملاقات‘ لانگ مارچ میں حصہ نہ لینے کی درخواست

20 مئی 2012
لاہور (اپنے نمائندے سے + آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے ہفتہ کو منصورہ میں اہم ملاقات کی اور جماعت اسلامی کی قیادت کو صدر آصف زرداری کی جانب سے ایوان صدر میں ملاقات کی دعوت دی۔ ملاقات کے دوران رحمن ملک نے جماعت اسلامی کے رہنما¶ں کو پاکستان امریکہ تعلقات، نیٹو سپلائی کا معاملہ اور لیاری آپریشن سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی، 27 مئی کو نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف دفاع پاکستان کے پلیٹ فارم سے لانگ مارچ نہ کرنے کی بھی درخواست کر دی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ جماعت اسلامی کے رہنما¶ں کو تمام امور پر بریفنگ دی گئی ہے اور صدر کی جانب سے ملاقات کے لئے دعوت دی گئی ہے مگر ملاقات کے حوالے سے فیصلہ جماعت اسلامی کے قائدین مشاورت کے بعد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے حکومت پارلیمنٹ کی سفارشات کے مطابق چل رہی ہے اور ہم کسی بھی صورت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ رحمن ملک نے کہا کہ نیٹو سپلائی بحال نہیں کی گئی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے 26 جوان شہید کئے جائیں اور معافی بھی نہ مانگی جائے اور ہم سپلائی بحال کر دیں۔ صدر غیر مشروط دعوت پر شکاگو کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے ہیں۔ افغانستان میں بھیجے گئے تین کنٹینرز سفارتی مشن کی رسد کے لئے تھے ان کا نیٹو سپلائی سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ پر متعدد بار واضح کیا ہے کہ ڈرون حملے ناقابل برداشت ہیں ان کو بند کیا جائے۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ رحمن ملک نے وزیراعظم کی جانب سے منور حسن کو قرآن پاک کا نسخہ بھی تحفے کے طور پر دیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ پارلیمنٹ کی سفارشات کی روشنی میں ہو گا۔ ملکی سالمیت، سکیورٹی اور خودمختاری ہمارے لئے اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ نیٹو کا مطلب صرف امریکہ نہیں بلکہ اس میں دنیا کے 48 ممالک جن میں اسلامی ملک بھی شامل ہیں، جماعت اسلامی کا ایک مقام ہے۔ ہمارے دل میں ان کے لئے اتنی ہی عزت ہے جتنی پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ، شارٹ یا میڈیم پرامن احتجاج سب کا حق ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل کے لانگ مارچ کی نوبت نہ آئے۔ میں نے ہمیشہ سب کو اسلام آباد میں ویلکم کیا ہے لیکن پر امن احتجاج کے لئے، توڑ پھوڑ اور تشدد کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے ناظم کے قتل کی جوائنٹ انویسٹی گیشن کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے جائیں گے۔ رحمن ملک نے کہا کہ ڈرون حملوں کے متعلق ہمارا م¶قف واضح ہے کہ یہ بند کئے جائیں لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ یہ کس دور میں شروع ہوئے۔ ہم آج بھی امریکہ سے کہتے ہیں کہ ڈرون حملے نا قابل برداشت ہیں۔ نیٹو سپلائی بند کرنے کی ایک وجہ ڈرون حملے بھی ہیں۔ وزیراعظم کی سکیورٹی اور پنجاب پولیس میں جھگڑے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی ہے اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کروائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پنجاب کی بیوروکریسی کی جانب سے فیڈریشن کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا نوٹس لینا چاہئے۔ منور حسن نے کہا کہ رحمن ملک ہمیں مختلف امور پر بریف کیا ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ لیاری آپریشن ایم کیو ایم کی فرمائش پر کیا گیا لیکن انہوں نے اس کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی بحالی کے حوالے سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ نیٹو سپلائی بحال کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہو گا اور پورے ملک کو سلالہ بنانے کی تکمیل ہے۔ رحمن ملک نے کہا کہ جب بھی مجھے عدالتوں نے بلایا میں گیا، آئندہ بھی جا¶ں گا، ہمارے وکیل اتنے لائق نہیں جتنے شریف برادران کے ہیں، شریف برادران کے وکیل سٹے لے لیتے ہیں۔