اتوار ‘28 جمادی الثانی 1433ھ20 مئی 2012 ئ

20 مئی 2012
چودھری برادران کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران یوسف رضا گیلانی نے چودھری شجاعت کو پکڑ کر قریب کرلیا اور کہا ”آپ دور نہ ہوں“۔ لگتا ہے مسٹر گیلانی کے ذہن میں ضرور کوئی ایسا منظر تھا جو انہوں نے شجاعت حسین سے کہا
کیوں دور دور رہندے او حضور میرے کولوں
منیوں دسدے او ہویاکی قصور میرے کولوں
پچھلے دنوں چھوٹے چودھری صاحب نے پیپلز پارٹی کو کچھ بڑی بڑی باتیں سنائی تھیں اسی لئے گیلانی صاحب کو گل گھوٹو پڑ گیا ہوگا کہ کہیں وہ چودھری خانوادے کی حمایت کھو نہ بیٹھیں....ع جو شاخ نازک پہ آشیانہ کرے گا ناپائیدار ہوگا اف اللہ یہ عوام کی خدمت کتنی بھاری اور اقتدار کی ہوس کتنی پیاری ہوتی ہے۔چودھریوں کے رگ و ریشے میں تو مسلم لیگ رچی ہوئی ہے،یہ سٹکر کتنی مدت چپکا رہ سکتا ہے اس بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔اگر جاتی عمرہ آتی عمرہ بنناچاہتی ہے تو ساری لیگوں کو سینے سے لگا کے یہ پیوند میچنگ ثابت ہوگا اور قائد کی روح خوش ہوگی کہ پاکستان میں میری والی ایک گرینڈ مسلم لیگ بن گئی، اب سب خیر ہے باقی ہیر پھیر ہے اور اب تو پیر صاحب پگاڑہ شریف نے بھی کہہ دیا ہے کہ میں سیاستدان نہیں بنناچاہتا لیکن مسلم لیگ کے ٹکڑوں کا اتحاد چاہتا ہوں ہم خیالوں کے بعد چودھری برادران کو بھی سینے سے لگانا باقی ہے میاں صاحب ذرا دل بڑا کریں ،بڑے چودھری صاحب واقعی بڑے ہیں۔گیلانی اگرچہ چاہ یوسف میں ہیں لیکن ابھی اُن کی صدا باہر گونج رہی ہے اس لئے خبردار جو کوئی اُنکی وزارت عظمیٰ کو میلی نگاہ سے بھی دیکھے، وہ سیاست کرتے ہیں تو ایک دم اُن کی عمر میں کوئی چالیس برس کی کمی ہوجاتی ہے، پھر وہ بولیں اور کوئی سُنے چودھریوں کے دروازے نکلتے ہوئے انہوں نے تاکید مزید کیلئے کہا تو ہوگا....
چھڈ جاویں نہ چنا ںبانہہ پھڑ کے!
ہائے ڈولے کالجا مراتے دل دھڑکے
٭....٭....٭....٭....٭
گوادر پورٹ کو نظر انداز کرنے پر قائمہ کمیٹی برائے پورٹس اینڈ شپنگ کی چیئر مین سمیت استعفیٰ کی دھمکی، اور چیف منسٹر بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ مرشد پاک کو کہا ہے کہ نیا صوبہ نہ بنائیں۔ گوادر پورٹ مکمل ہونی چاہئے، اس طرف کسی کی توجہ نہیں....
نئے صوبے بنانے کی طرف پھینکے ہیں گل بھی ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
یہاں یہ عالم ہے کہ سب کچھ کہوں گی پروہ نہ کہوں گی تمہیں جس کا انتظار ہے، یہ سب کچھ کیا ہے اس کے مندرجات میں مرشد پاک کی اولین ترجیح اپنے علاقے کو صوبہ بنانا ہے ، یعنی آم کا درخت لگانا ہے جس کا پھل اُن کی آل اولاد کھائے گی ابھی تو یہ ایک صوبہ معرضِ وجودکے قریب ہے جو صوبستان بروزن پاکستان کا چاند چڑھا کر چھوڑے گا۔اگر حکومت گوادر پورٹ کی طرف متوجہ ہوگئی تو یہ کیسے ہوگا کہ .... ع میں بھی اپنے من کی آشا پوری کروںگی ضرور! اور قائمہ کمیٹی برائے پورٹس اینڈ شپنگ کی مستعفی ہونے کی دھمکی کسی کے مستعفی ہونے کی تجویز تو نہیں۔ گوادر اس لئے نامکمل چھوڑ دی گئی ہے کہ اُس کو چین کے ہاتھ لگے ہیں اور اس کے بننے سے پاکستانی قوم کا بھلا وابستہ ہے جس کام میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں اُسے ہمارا خاندانِ غلاماں مرکز نگاہ نہیں بناتا کہ مبادا انکل سام آنکھیں پھیرلے اور اُس کا ذاتی مستقبل تاریک ہوجائے، اسلم رئیسانی جانتے ہیں کہ صوبہ بنانے پر جتنا خرچ سالانہ اُٹھے گا اُس سے توانائی کا ایک پراجیکٹ پورا ہوسکتا ہے۔ مرشد پاک موسیٰ پاکؒ کے مجاور ہیں جن کی قبر پر چھت بھی نہیں لیکن شاید مرشد پاک کے مجاورکی سوچ میں شائد ” پاک “ پڑ گئی ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
پاکستان کے ریلوے کے پاس 500انجن 352 اَن فٹ۔ بینکوں سے ملنے والے 6ارب روپے بھی ریلوے کو سہارا نہ دے سکے۔ کرپٹ افسر فارغ کردئیے جائیں۔ پاکستا ن ریلوے اس لئے سٹیشنوں پر خراب کھڑی ہے کہ اُس کا نہ چلنا، حکومت کو چلا رہا ہے، آج اگر حکومتی انجن کے تین اعضاءکاٹ دئیے جائیں تو وہ ٹنڈی لنگڑی ہوجائے، وزیر ریلوے کو بینکوں کے 6ارب روپے نے ٹھیک رکھا ہوا ہے تو اسلئے کہ ریلوے کے 352 انجن ٹھیک نہیں جب کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتاجس کی عدم تعمیر پرپورا ملک تاریکی میں ڈوبا اور پیاسا ہے تو گوادر کو کون پوچھے گا،البتہ صوبے جب بن جائیں گے تو تاریکی بٹ جائے گی اور پیاس بڑھ جائے گی، ابھی تو 50انجن من موہن پیارے سے 1500روپے فی گھنٹہ کرائے پر حاصل کررہے ہیں،تب ایک اور مدکھل جائے گی عوام کیلئے کہ وہ اپنے خون پسینے میں کچھ اس میں بھی جمع کرادیں۔ بھارتی انجن آگئے تو پھر یہ بھی نہ کہہ سکیں گے
گڈی آئی گڈی آئی نارووال دی
دشمناں دے سینے وچ اَگ بالدی
کیونکہ خرمن تو ہماراجلے گا اور کام من موہن پیارے کا چلے گا، ریلوے کو کھانے والے اعلیٰ افسران اپنے وزیر کی سنت ادا کر رہے ہیں،اُن کو اس ثواب سے فارغ کرکے ہڑتالی ملازمین جن کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، اُنہیں ریلوے کو کھانے والوں کے پیٹ سے نکال کر تنخواہیں دی جائیں۔ ریلوے خور وزیر اور اُس کے اعلیٰ افسران کو ہم آدم خور نہیں کہتے، البتہ اُنہیں یہ بتاتے چلیں کہ سدا نہ باغیں بلبل بولے!
٭....٭....٭....٭....٭
”جان بوجھ کر عدلیہ کی تضحیک کی“۔ بابر اعوان پر فرد جرم عائد۔ بابر اعوان جنگل کے بادشاہ ہیں‘ چاہیں تو ککھ نہ ہلیا کہیں‘ چاہیں تو یہ فرما دیں کہ اس وقت ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور یہ بھی کہہ ڈالا کہ فردِ جرم کی صحت ٹھیک نہیں۔ لگتا ہے انکی صحت نصیبِ دشمناں ٹھیک نہیں۔ ویسے بابر صاحب کے باعث پیپلز پارٹی میں رونق تھی مگر پارٹی نے بھی فردِ جرم عائد کردی۔ اب انہیں چاہیے کہ ترکِ دنیا کرکے چلہ معکوس میں بیٹھ جائیں۔ اس دوران جہاں روحانی مسرت طاقت ملے گی‘ یہ غبار سا جو چھایا ہے‘ چھٹ جائیگا۔ پھر وہ مور کے پر والی ٹوپی پہنے سفید گھوڑے پر میدانِ سیاست میں داخل ہوں اور ”وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کرلیا“ کے مقام پر فائز ہو جائینگے۔ مگر حال کی گھڑی تو کہہ رہی ہے
دوست دوست نہ رہا ‘ پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں ترا اعتبار نہ رہا
انسان زندگی میں جب بھی اوندھے منہ گرتا ہے‘ اپنی زبان کے باعث‘ اسلئے زبان پر قابو پانا اور تول کر بولنا ضروری ہے وگرنہ زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ یہ بات کہ توہین عدالت کا قانون سرے سے موجود ہی نہیں‘ اگر گیلانی صاحب کہتے ہیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ قانون دان نہیں مگر بابر اعوان قانون دان ہیں‘ پھر یہ بے خبری کیسی یا یہ بات ہے کہ وہ قانون جو اپنے خلاف جائے قانون ہی نہیں۔