عدلیہ‘ وزیراعظم‘ میڈم سپیکر اور الیکشن کمیشن

20 مئی 2012
قیوم نظامی
وزیراعظم پاکستان کے خلاف توہین عدالت کے سلسلے میں عدلیہ اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرچکی ہے۔ اس فیصلہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ کم اور حالات کا ماتم اور قوم کا نوحہ زیادہ لگتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اضافی نوٹ میں خلیل جبران کی ایک نظم کے حوالے دئیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے ”قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران قانون کی خلاف ورزی کو سیاسی شہادت سمجھتے ہیں اور وہ جرم کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے “۔ اس فیصلے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور قوم کے سامنے سزا کا جو جواز پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق تو وزیراعظم سخت سزا کے مستحق تھے مگر عدلیہ نے انہیں صرف تیس منٹ کی سزا دے کر معاملہ ختم کردیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا یہ خیال درست ہے کہ قوم کو تبدیل ہونا چاہیئے اور اپنے نفع نقصان کا مکمل احساس کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی فیصلے کرنے چاہئیں۔مگر عوام یہ بھی کہہ رہے ہیں ”افسوس ہے ان ججوں پر جو آئینی اور قانونی اختیار رکھتے ہوئے مجرم کو نرم سزا دے کر اس کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں“۔
وزیراعظم پاکستان عدلیہ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی مستعفی ہونے پر مائل نظر نہیں آتے بلکہ وہ بدستور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ان کی رعونت میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے اور اب انہوں نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد لانے کے بھی چیلنج دینے شروع کر دئیے ہیں۔ حالانکہ ”سزا یافتہ وزیراعظم“ کو کم از کم ایسے چیلنجوں سے گریز ہی کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان کے عوام کا یہ خیال ہے کہ اگر عدلیہ اپنا آئینی اور قانونی اختیار مکمل طور پر استعمال کرتی اور وزیراعظم پاکستان کو سخت سزا دی جاتی تو وہ کبھی اس قدر ولولہ انگیزی کا مظاہرہ نہ کرتے۔ عدلیہ نے نرم سزا کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو نرم سزا کے بعد سخت سزا کا سامنا ہے۔ عدلیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے کے بعد وزیراعظم پاکستان کے مقدر کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کے سپرد کردیا ہے۔ پاکستان کے نیک نام سیاستدان اور آئین و قانون کے نامور ماہرجناب ایس ایم ظفر کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی کی میڈم سپیکر ایک میسنجر کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں مقررہ وقت کے اندر ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیں۔ آئین اور قانون کے مطابق وزیراعظم کو نااہل قراردینے کی ذمے داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی تو وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کام بھی خود عدلیہ کو ہی کرنا پڑے گا۔
قومی اسمبلی کی میڈم سپیکر ایک شریف اور نیک نام خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے والد قاضی عبدالمجید عابد سندھ کی نیک نام اور معروف شخصیت تھے۔ ان کے سسر جسٹس (ر) ظفر حسین مرزا صاحب بھی ایک نیک نام جج تھے۔ پاکستان کے پڑھے لکھے لوگ آج بھی ان کا نام بڑے ادب اور احترام سے لیتے ہیں۔ جب ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی کے سپیکر کے منصب کا حلف اُٹھایا تھا تو پاکستان بھر کے سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں نے ان کا شاندار الفاظ میں استقبال کیا تھا۔ ان کی گزشتہ چار سالہ کارکردگی بھی قابل ستائش رہی ہے جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سے مکمل غیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے۔ جہاں تک وزیراعظم کا سوال ہے وہ آئینی اور قانونی طور پر نااہل ہوچکے ہیں جس کا اعلان الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ غیر مقبول وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں۔ کیا پی پی پی کی قیادت ایک غیر مقبول وزیراعظم کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی مستقبل کو داﺅ پر لگانے کے لئے تیار ہو جائے گی یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ میڈم سپیکر گنجائش کے مطابق پورا وقت ضرور گزاریں گی مگر آخر کار وہ وزیراعظم کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیں گی۔ کیونکہ ان کے ریفرنس ارسال کرنے سے وزیراعظم نااہل قرار نہیں پاتے جب تک کہ الیکشن کمیشن ان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کر دے۔ آئین کے آرٹیکل 63ون جی کے مطابق ”وہ رکن اسمبلی نااہل قرار پائے گا جو کسی ایسی رائے کی تشہیر کر رہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان‘ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ سالمیت یا اخلاقیات یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کے عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لئے مضر ہو یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو“۔ آئین کے اس آرٹیکل کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان نہ صرف عدلیہ کی تضحیک کے باعث بنے ہیں بلکہ انہوں نے سیاسی اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا ہے اور اس طرح ان کی سرگرمیاں نظریہ پاکستان کے منافی ثابت ہوئی ہیں۔ اسی آرٹیکل کے مطابق جب کسی رکن اسمبلی کے بارے میں نااہلی کا سوال پیدا ہو گا اور یہ سوال الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے گا تو الیکشن کمیشن تین ماہ کے اندر اپنا فیصلہ دے گا۔ الیکشن کمیشن کو چونکہ غیر جانبدار صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہیں اس لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کو نااہل قرار نہ دے۔
وزیراعظم پاکستان کو یقین ہے کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ تین چار ماہ کا عرصہ مزید گزار لیں گے اور پھر وہ موزوں وقت آجائے گا جب وہ خود ہی استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے اور ان کے اس اعلان کے بعد پاکستان میں نگران حکومت قائم ہو جائے گی۔ پاکستان کے وزیراعظم چند ماہ اور مہک لیں اور چہک لیں عدلیہ نے ان کی سیاسی قسمت کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ وہ پانچ سال کے لئے نااہل ہو چکے ہیں وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے مگر اس کا ان کو کوئی احساس نہیں ہے۔ کیونکہ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی اننگ مکمل کر چکے ہیں اور اب ان کی اولاد بھی قومی اسمبلی میں پہنچ چکی ہے جو آئندہ پانچ سال کے دوران ان کی خاندانی سیاست کو جاری و ساری رکھے گی۔ (کالم نگار پرانے جیالے ہیں (ادارہ)