”یہ چراغ بجھ گئے ہیں میرے ساتھ جلتے جلتے“

20 مئی 2012
نواز خان میرانی
اپنا آزاد ملک بنانے اور فرنگیوں کے قانون کی بجائے اسلامی تعزیراتی قانون نافذ کرنے، فقراءاور غرباءکو ان کی دہلیز پر اسلامی فلاحی مملکت کے ثمرات مہیا کرنے، ملک سے ظلم و جبر ختم کرنے، انگریزوں سے وفاداری اور اپنے ملک سے غداری کے نتیجے میں ملک، خان، چودھری، اور وڈیرے کی بجائے گورے اور کالے کی تمیز ختم کرنے، کمی کمین اور انسانیت کو ذلیل ترین بنانے کی سوچ ختم کرنے‘ انسانوں کے علاوہ جانوروں کو بھی دریا کے کناروں تک روزی پہنچانے، مفلسوں، ناداروں اور بیماروں کے تن پہ لباس کی فراہمی، دوا دارو کی دستیابی، ظلم و جبر، استحصال کا وبال، جبری مشقت کے خاتمے خرکاروں اور ڈاکوﺅں کی آماجگاہوں کے خاتمے، عوام کو ملاوٹ سے پاک خوراک مہیا کرنے اور تعلیم یافتہ جوانوں اور ہنر مندوں کو روزگار کی فراہمی، عورتوں کی عزت و عصمت کی پاسداری چار دیواری کا تقدس برقرار رکھنے کا عزم‘ لسانیت، صوبائیت‘ نسلی تعصب کے خاتمے‘ ذات پات کی تقسیم کو ملیا میٹ کرنے کے ارادوں‘ عوام کو روز مرہ ضروریات کی فراہمی کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لئے شعبہ زندگی کے ہر مرحلے پر حکومتی مدد کی آس، عوام کے سفر کو محفوظ اور سستا کرنے کی منصوبہ بندی، گھروں اور رہائش گاہوں کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری اور ڈاکوﺅں اور چوروں، قاتلوں، عصمت دروں سے پاک صاف رکھنے اور لٹنے پٹنے سے بچانے کا عزم، حکومتی ایوانوں اور حکمرانوں کے محفوظ ٹھکانوں کے سامنے خود کشیوں، خود کو زندہ جلانے کے خاتمے اور تدارک کی سبیل پیدا کرنے، طالب علم خصوصاً ذہین طلباءکے ذہنوں کی آبیاری، نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کو ان کے سلیبس میں شامل کرنے چاروں بلکہ سارے صوبوں میں معیار تعلیم کی یکسانیت کو یقینی بنانے، نقل کے خاتمے، جعلی نمبر لگانے یا لگوانے کی شدید حوصلہ شکنی کرنے، زکوٰة اور امداد صرف اپنے کارکنوں اور پارٹی کے ممبران کو دینے، حتیٰ کہ قومی ایوارڈوں کو اپنے نااہل وزیروں مشیروں کو ناجائز بندر بانٹ اور تعلیم بلکہ تذلیل کرنے کی شدید مذمت اور ممنوعہ قرار دینے، کروڑوں عوام کو اتحادیوں اور مفاہمتوں کا نام لے کر اقتدار پہ قبضہ کرکے بے وقوف بنانے، اپنی نااہلیت اور غلط حکمت عملی کو چھپانے کیلئے خزانہ بھرنے کیلئے آئے دن تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے ملک میں سفر کرنے پر ٹیکس، ہر شہر میں داخل ہونے کیلئے ٹول ٹیکس، گاڑی خریدنے جائیداد بیچنے غرضیکہ زندہ رہنے کے ہر مرحلے پر ٹیکس میں روز بروز اضافے، مسجدوں، عبادت گاہوں کو تالا لگانے کے لئے دہشت گردی اور پورے معاشرے میں خون خرابی، کیا ان قباحتوں اور زیادتیوں کیلئے یہ ملک بنا تھا، کیا ہندوستان سے پاکستان آنے والے کروڑوں باسیوں، اور پہلے سے یہاں بسنے والے لوگوں نے لاکھوں جانوں کی اور عزت و عصمت کی قربانی اس لئے دی تھی کہ انہوں نے امید و آس کے چراغ اپنے دلوں میں روشن کیے ہوئے تھے، جس کی خاطر انہوں نے لاکھوں گردنیں کٹوا کے، اس ملک کو نذرانہ پیش کیا تھا، 65 سال سے یہ جلتا ہوا چراغ آخر آج کیوں بجھتا نظر آرہا ہے؟ قربانیوں اور امیدوں کا کیا یہی جواب بنتا ہے کہ انصاف کا ہی گلا گھونٹ دیا جائے، دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے اپیل میں جا کر منصفوں کو ہی ذلیل کر دیا جائے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو جان نثاران وطن اعلانیہ نہیں کہتے تھے یعنی جو نہ کہہ سکے تھے اب تک وہ زمانہ کہہ رہا ہے۔ کیا ججوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آئین و قانون کیا کہتا ہے۔ اس کی خوبصورت اور آسان ترین تشریح جناب مجید نظامی نے کی ہے کہ زرداری کو مرد حر جیل کاٹنے پہ کہا تھا جیب کاٹنے پہ نہیں۔
جب انارکی اس حد تک پہنچ جائے کہ ادارے ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہو جائیں اور اسمبلیاں اور ایوان اکھاڑے اور جانوروں کے باڑے بن جائیں تو صورتحال منطقی انجام تک ضرور پہنچ جاتی ہے۔ ملک و قانون بچانے کا عہد لینے والوں کو دور سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے اور درجنوں افراد کو دن دیہاڑے لاپتہ کر دینے، دبے ہوئے افراد کو لاکھوں ٹن ملبے سے ٹکالنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں انسانوں کو غربت، افلاس بھوک، ننگ، مہنگائی کے نیچے دبے اور پسے افراد کو بھی نہ چاہتے ہوئے نکالنا پڑے گا۔ ورنہ اس نیک نام ادارے میں بھی اور بریگیڈیئر علی پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خطرہ جمہوریت کو نہیں حکومت کو ہے بلکہ وطن عزیز کو جس کا شیرازہ اس دور حکومت میں بکھر رہا ہے۔ خواہ بادل نخواستہ ہی سہی تیسری طاقت کو بالآخر قانون کی عملداری کی خاطر گیاری کی جنگ کی بجائے لیاری کو فوقیت دینی پڑے گی اور حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا، یہ بات میں ستاروں کی روشنی میں نہیں، سورج کی روشنی میں کہہ رہا ہوں۔
چراغ اس وقت جلائے جاتے ہیں جب گھپ اندھیرا ہو.... مگر چراغ اس وقت خود بجھانے پڑتے ہیں جب تاریکی اور ظلمات کی بجائے اللہ تعالیٰ نوید سحر دیتا ہے اور تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور امید و آس کی سحر کی روشنیاں چار سو پھیل جاتی ہیں اور یہی قانون قدرت اور مومنوں اور مسلمانوں کا ایمان ہے، انشاءاللہ کہ جب حق آتا ہے تو باطل بھاگ جاتا ہے!!!