امن کی آشا، کھیل تماشا

20 مئی 2012
ڈاکٹر راشدہ قریشی
سیاسی افق پہ امریکہ کا بھارت کیلئے نرم گوشہ اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بار بار پاکستان کو دی گئی امریکی طفل تسلیاں اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ نہایت زوردار ہے اور وہ پاکستانی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ ہیلری کلنٹن نے اپنے حالیہ دورے کے دوران کشمیری حریت پسند مجاہدین کی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پیش رفت کرنے کی اپیل کو یکسر نظر انداز کر دیا بلکہ بھارتی نیتاﺅں سے ملنے کے بعد ہیلری پہ ایسا خبط طاری ہوا کہ وہ تو آپے سے باہر ہو کر پاکستانی حکام و عوام پہ برس پڑی۔ انہوں نے شکایت کی کہ 9/11 کے بعد مسلمانوں سے بدسلوکی کا رویہ روا رکھنے کا امریکہ پہ لگایا گیا الزام غلط ہے اور وہ پاکستان کی طرف سے لگائے گئے اس الزام پہ دل گرفتہ ہیں۔ یہی نہیں اس سے قبل بھی ہیلری نے جب 2009ءمیں بھارت کا دورہ کیا تھا تو بھی اس دورے کے واضح اثرات کے تحت انہوں نے پاکستانی حکام کو تنبیہہ کی تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائیں۔ پاکستان کو دی گئی ہیلری کی اس تنبیہہ سے ہم پہ یہ راز افشاءہو جانا چاہئے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں چڑھانے کے لئے کون ڈائریکشن دے رہا ہے اور یہ ڈائریکشن کس کی ایماءپہ دی جا رہی ہیں؟ اور پھر یہ بھی کہ وہ کون ناعاقبت اندیش ٹولہ ہے جو قومی مفادات سے منہ موڑ کر صرف امریکی و بھارتی آشاﺅں کے چکر میں چکر چلا رہا ہے.... قومی مفادات کو اور اپنے قائدین کی قربانیوں کو کس طرح چالباز بھارت کی دوستی کے بھینٹ چڑھانے کا سوچا جا سکتا ہے؟ بھارت سے دوستی اور پاک بھارت بنیادی ٹینشنز کے ریلیف کے بغیر کون کس طرح کے امن کی آشا کر سکتا ہے؟ قوم کے لئے تو یہ ایک انہونی آشا ہے، بھارتی اجارہ داری کی سازش کو جڑ دینے والی امن کی آشا کسی گٹھ جوڑ کی بھاشا ہے.... اور سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ امن کی آشا کی بھاشا کا ایک خاصا (خصوصیت) ہے.... اور یہ خاصا من موہن سنگھ نے گزشتہ برس ارشاد فرما کر ہمیں سمجھا دیا تھا کہ ”پاکستان اپنے اندرونی حالات کے سبب کشمیر کے حق سے دستبردار ہو جائے“۔ افسوس کہ ہمارا ایک مفاد پرست ٹولہ کشمیر سے دستبرداری کی بھارتی خواہش کی تکمیل اور سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی کی جسارت میں خطے کا امن دیکھ رہا ہے۔ میرے نادان ہم وطنو کیا تم ایسے بھارت سے دوستی کی امید کر رہے ہو جس نے تمہاری منفرد شناخت و تشخیص کو قبول ہی نہیں کیا‘ جس نے تمہارے دریاﺅں پہ اپنے لاتعداد ڈیمز بنا کر آئندہ آنے والی نسل کے حصے کے پانیوں پہ غاصبانہ قبضہ جما لیا‘ جس نے تیری سرزمین پاک کے خلاف اپنے جارحانہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے آٹھ بلین ڈالر کا خطرناک جنگی اسلحہ جمع کر رکھا ہے اور وہ ہر سال اپنے جنگی بجٹ میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے جو امریکہ‘ برطانیہ‘ روس‘ فرانس اور اسرائیل سے کھلے عام جنگی ہتھیاروں کا لین دین کر رہا ہے۔ امن کی آشا کے دلدارو‘ ذرا یہ تو بتاﺅ کہ امن چاہنے والے دوست کے کیا یہ ہی کرتوت ہوتے ہیں؟ کیا تم بھول گئے کہ نہرو نے ہمارے قائد کے متعلق کہا تھا کہ اگر جناح کی بیماری ہم پہ آشکار ہو جاتی تو ہم تشکیل پاکستان کا معاملہ ان کی موت تک گھٹائی میں ڈال دیتے اور پاکستان نہ بن پاتا.... دوستی بس کا آغاز یا امن کی آشا کا قیام اگر پاکستانی دریاﺅں پہ بھارتی ناجائز ڈیمز کا قلع قمع کر سکتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کر سکتا ہے تو ایسی امن کی آشا کے ساتھ پوری قوم چلنے کو تیار ہے، لیکن کیا کریں.... اس امن کی آشا کا پاک بھارت بنیادی مسائل و تنازعات سے کنارہ کشی کا رویہ قوم کو بتا رہا ہے کہ آپ کی امن کی آشا ایک ٹولے کا کھیل تماشا ہے جو کہ وطن عزیز کے مخصوص سیاسی و معاشی حالات اور بھارتی سازشی چالوں کے پیش نظر ناقابل برداشت ہے۔ بھارتی اکھنڈ بھارت کے خواب کی تکمیل کیلئے اگر کوئی احسن کی آشا کی میٹھی گولی دے کر اپنے مقصد کی کامیابی کی امید کر رہا ہے تو وہ سنبھل جائے اور جان لے کہ پاکستانی غیور قوم روکھی سوکھی کھائے گی، پیاسی مر جائے گی لیکن ڈھونگی ہمسائے کی اطاعت قبول نہیں کرے گی۔ یہ قوم اپنے آباءکی قربانیوں کو خاک میں نہیں ملائے گی۔ اے امن کی آشا کے متوالو! تمہارے خیال میں بھارت تمہارے امن کا اتنا ہی شوقین ہو گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ مقبوضہ کشمیر پہ اپنی متعین فوج کو واپس بیرکوں میں بھیج دے اور کشمیری حریت پسند لاکھوں فرزندان توحید کو قیدو بند کی صعوبتوں سے رہائی دے دے.... اور کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق ان کے صوابدیدی حق کے استعمال کا اہتمام کرے تاکہ ہم بھی کہہ سکیں کہ ”تسی بڑے مہان او جی“۔

بے بسی ہائے تماشا

دنیائے اسلام کے حاکموں کے عمل نے ثا بت کیا ہے کہ وہ منفی سوچ جرات سے عاری ...