پاکستان، امریکہ۔۔۔ اندھا کنواں کون؟

20 مئی 2012
احمد جمال نظامی
امریکہ میں بھارت نواز ارکان کانگرس نے پاکستان کو اندھا کنواں قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد پڑوسی ممالک میں دہشت گردی، بلوچوں کو دبانے اور خود امریکیوں کو مارنے کے لئے استعمال ہو رہی ہے اس لئے اس رقم کی ایک ایک پائی بند کر دی جائے۔ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہا ہے ان ارکان نے پاکستان کو 2.24 ارب ڈالر امداد فراہم کرنے کی اوباما انتظامیہ کی درخواست کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ 2004ءسے اب تک ہم پاکستان کو 24 ارب ڈالر جھونک چکے ہیں جو سب کی سب ضائع گئی ہے کیونکہ پاکستان میں امریکیوں کے بارے میں نفرت انگیز جذبات پائے جاتے ہیں جو روز بروز سخت ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہے اور اس جنگ کے لئے اس نے جتنی بھی رقم خرچ کی ہے وہ صرف اور صرف ضائع ہوئی ہے البتہ جہاں تک پاکستان کو دی جانے والی امداد کا تعلق ہے تو سابق صدر اور بدترین آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوراقتدار کے دوران اس امداد کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں تھا اور نہ ہی آج تک کسی کو معلوم ہو سکا کہ وہ امداد کس کے ہاتھوں میں جاتی رہی اور کس نے اس کو کہاں صرف کیا۔ امریکہ میں اگر پاکستان کو 2004ءسے اب تک 24 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے تو اس سے کہیں زیادہ نقصانات میں پاکستان کو جھونک دیا۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ امریکہ کی اپنی جنگ ہے جس کا پاکستان سے سرے سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہے مگر پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلا گیا اور ہمارے اپنے حکمران اپنے اقتدار کی ہوس میں امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس جنگ میں کود پڑے جس کی سزا آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کو اتنی امداد فراہم نہیں کی جتنا اس کا نقصان ہوا ہے۔ ملک کے انفرا سٹرکچر کو لامحدود نقصانات برداشت کرنے پڑے اس کے علاوہ ہمارے ہزاروں بے گناہ شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کی اس جنگ کا نشانہ بنتے رہے۔ اس کے باوجود ایسی اطلاعات اور خبریں بھی منظرعام پر آئیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی اصل وجہ امریکہ اور بھارت ہے امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑکر کے ہمارے ملک میں دہشت گردی کرواتے ہیں اور اس دہشت گردی کی وجہ سے ملک بھر میں امریکہ کے خلاف جذبات میں مزید شدت آ رہی ہے۔ امریکی اراکین کانگریس جو بھارت نواز بھی ہیں ان کو اتنا جاننا ضرور چاہیے کہ پاکستان کے اندر اگر امریکہ مخالف جذبات موجود ہیں اور ان جذبات میں مزید شدت آ رہی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری خود امریکہ پر عائد ہوتی ہے کہ ایک طرف امریکہ دہشت گردی کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ میں ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنائے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود اس نے کبھی ہماری قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا الٹا متعدد مرتبہ ہمارے ایٹمی اثاثہ جات کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے اور کئی مرتبہ بھارت کے مقابلے میں ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسی طرح پاکستان کے کردار کے بارے میں ہر موقع محل پر مبہم باتیں کی جاتی ہیں جبکہ ڈرون حملوں کے ذریعے جب امریکہ بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرے گا تو کیوں امریکہ کے خلاف جذبات نہیں بھڑکیں گے اور کیوں لوگوں میں امریکہ مخالف جذبات میں شدت نہیں آئے گی۔ امریکہ اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ میں ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی بھی بنائے رکھے ہم پر پریشر ڈال کر اپنی ہر بات بھی منوائے اور اس کے باوجود ہمارے حکمران خاموش رہیں تو یہ کسی حد تک ممکن ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ ایسے میں ہماری قوم امریکہ کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار میں تالہ بندی کا شکار ہو جائے۔ قوم امریکہ مخالف جذبات رکھتی ہے اور ان کے جذبات میں اس وقت تک شدت آتی رہے گی جب تک ہمارے حکمران اپنی بقا، سلامتی اور خودمختاری کے عین مطابق فیصلے کرتے ہوئے امریکہ کی ہر ہاں میں ہاں ملانا نہیں چھوڑتے۔ ان دنوں امریکہ نیٹو فورسز کے لئے پاکستان سے سپلائی لائن بند ہے جس پر امریکہ بے چین اور سیخ پا ہے۔ اور اب تو سپلائی لائن بھی کھل گئی ہے، چار کنٹینر کراچی سے کابل پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی سفارت خانہ کہہ رہا ہے اس میں امریکی سٹاف کا سامان ہے لیکن ہماری سفیر مقیم امریکہ فرما رہی ہیں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر یہ کنٹینر گئے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں مولانا سمیع الحق بیچ اس مسئلہ کے؟