یوسف رضا گیلانی اور ایک جج کی پریشانی

20 مئی 2012
محمد آصف بھلی
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر جنرل چودھری حسن نواز نے آج سے ساٹھ سال پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی‘ پھر وہ طویل عرصہ تک خود جج رہے یا انکی زندگی ماتحت عدلیہ کی تربیت میں گزری۔ ایک طویل مدت تک جج رہنے کے باعث چودھری حسن نواز کو اس بات کا سخت ملال ہے کہ سپریم کورٹ کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کےخلاف توہین عدالت کے مقدمہ میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی وزیراعظم کی طرف سے قانون و آئین کی اپنی من مرضی کی تشریح کا سلسلہ جاری رہا تو پھر آئینی اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور اس جنگ و جدل کے نتیجہ میں ملک پر پانچویں بار اگر مارشل لاءکی تاریک رات مسلط ہوئی تو اسکی تمام تر ذمہ داری صدر آصف زرداری اور وزیراعظم گیلانی پر ہو گی۔ چودھری حسن نواز کہہ رہے تھے کہ قانونی اور آئینی اعتبار سے کسی معاملہ کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث عدالت کے فیصلہ سے پہلے تو ہو سکتی ہے لیکن جب کسی معاملہ میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ آجائے تو پھر مجرم کے پاس یہ حق باقی نہیں رہتا کہ وہ غلط یا صحیح کا فیصلہ خود کرتا پھرے۔ اب سزا یافتہ وزیراعظم کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دے اور سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کیخلاف اپنی اپیل کا حق استعمال کرے۔ چودھری صاحب اس صورتحال پر بہت دکھی نظر آرہے تھے کہ اخلاقی اور معاشرتی انحطاط یہاں تک آپہنچا ہے کہ وزیراعظم توہین عدالت کے مجرم قرار پانے کے بعد توہین عدالت کی سزا پر ندامت کے اظہار کے بجائے پہلے سے بھی بڑھ کر عدالت کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کیا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ کہنا کہ انہیں سپریم کورٹ نہیں صرف قومی اسمبلی کی سپیکر نااہل قرار دے سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی صریحاً توہین نہیں۔ کیا یوسف رضا گیلانی کا لندن میں یہ کہنا کہ مجھے معلوم تھا کہ عدالت اس وقت اپنے تفصیلی فیصلہ کا اعلان کریگی۔ جب میں بیرون ملک دورے پر ہوں گا۔ عدلیہ کی توہین نہیں؟ کیا وزیراعظم کا یہ کہنا کہ میرا جرم صرف یہ ہے کہ میں نے آئین کا تحفظ کیا ہے اور مجھے آئین کے تحفظ کی سزا دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی توہین نہیں؟ سپریم کورٹ کو تو اس فیصلہ کا اختیار حاصل ہے کہ کون‘ کب‘ کہاں اور کیسے آئین کی خلاف ورزی کر رہا اور پھر سپریم کورٹ آئین سے بغاوت کرنیوالے کو سزا بھی دے سکتی ہے لیکن وزیراعظم کو آئین کی تشریح اور سپریم کورٹ کیخلاف فرد جرم عائد کرنے اور پھر فیصلہ بھی خود ہی صادر کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے۔ اگر ایمانداری اور کریکٹر کا فقدان نہ ہو اور اعلیٰ قدروں کی سیاست دانوں کے ہاتھوں پامالی ہمارے معاشرے کی شناخت نہ بن چکی ہو تو یوسف رضا گیلانی کب کا مستعفی ہو جاتا۔ لیکن یہاں تو اپنی ذات کی اصلاح اور اپنی ذات کے محاسبہ کیلئے کوئی تیار ہی نہیں۔
چودھری حسن نواز بڑی دل گرفتگی سے مجھے کہہ رہے تھے کہ ہمارے ملک میں سب خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ یہاں جو بھی برسر اقتدار ہوتا ہے‘ وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ہر حالت میں کوشش کرتا ہے‘ چاہے اس کیلئے اصولوں کی کتنی بار پامالی اور قانون و آئین کی کتنی دفعہ تذلیل کرنا پڑے۔ ہوس اقتدار کے مرض میں مبتلا ہمارے سیاست دان اپنے اقتدار کی مدت کو بڑھانے کیلئے خود بھی ہر طرح کی ذلت برداشت کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار دکھائی دیتے ہیں۔
جج صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ میں نے تحریک پاکستان کے دور شباب میں ہوش سنبھالا تھا۔ قائداعظم کی قیادت میں کام کرنےوالے جن ایماندار‘ صاحب کردار‘ صاف گو اور راست باز سیاسی کارکنوں کو میں نے قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کرتے دیکھا ہے‘ ان سیاسی کارکنوں کے کریکٹر کا مقابلہ ہمارے دور کے بڑے سے بڑے سیاست دان بھی نہیں کر سکتے۔ میرا ایمان ہے کہ آج اگر صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جگہ قائداعظم کا کوئی ادنیٰ ترین سیاسی کارکن صدر یا وزیراعظم کے عہدہ پر موجود ہوتا تو موجودہ دور حکومت جیسی بے ایمانی‘ منافقت‘ جھوٹ‘ فریب کاری‘ مفاد پرستی‘ کرپشن اور اقربانوازی کا کہیں نشان تک نہ ہوتا۔ نہ ہی قوم کی لوٹی ہوئی اربوں روپے کی دولت کروڑوں ڈالروں کی شکل میں کسی بدعنوان اور بدکردار سیاست دان کے نام پر کسی سوئس بنک میں جمع ہوتی اور نہ ہی کوئی وزیراعظم سپریم کورٹ کی جانب سے مجرم قرار پانے اور سزا یافتہ ہونے پر فخر کا اظہار کر رہا ہوتا۔ صد حیف کہ ایک وزیراعظم اپنی رسوائی پر بھی شرمندہ نہیں۔