شوگر سے نجات کیلئے قربانی بھی ضروری

20 مئی 2012
میجر (ر) اسرار الحق
میںتقریباًتین ماہ قبل فیصل آبادمیں ایک شادی میں شرکت کے لیے گیا شادی کی تقریب سے فارغ ہوئے تو اپنے کزن کے ساتھ گپ شپ میں پتہ چلا کہ انہیں 60 سال کی عمر میں شوگر کا مرض لاحق ہوگیا ہے ا ور یہ انہیں یو ں معلوم ہوا کہ ان کی ٹانگوں میں درد محسوس ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا ۔میں یہ باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ مجھے بھی شوگر کا ٹیسٹ کروانا چاہئے کیونکہ میں بھی عمرکی ہاف سنچری کراس کرچکاہوں لاہور پہنچ کر پہلا کام میں نے شوگر ٹیسٹ کروائے ، ٹیسٹ مجھ پر بجلی بن کر گرے اور میرادل بالکل نہیں مان رہا تھاکہ مجھے شوگر ہوگئی ہے ۔ شوگر کے4 ٹیسٹ ہوا کرتے ہیں ایک فاسٹنگ ، دوسرا رینڈم ،تیسرا HBAIC اور چوتھا گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ ، میں نے چاروں ٹیسٹ وقفے وقفے سے کرائے جن سے یہ ثابت ہوگیا میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہوچکاہوں ،سخت پریشان ہوا کیونکہ شوگر سارے امراض کی ماں ہوا کرتی ہے اورجب ہوجائے تو باقی ماندہ زندگی گزارنا محال ہوجاتی ہے یا پھر درمیان میں انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں اس سوچ اور فکرمیں تھاکہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالا کہ بیماری اورشفاءتو اس کے ہاتھ میں ہے میں نے فوراً رب کے حضور شکرادا کیا اور اس کی رضا میں راضی رہتے ہوئے اس بیماری کے اندر اپنے لیے بہتری کی دعامانگی ،میری ہمیشہ سے یہ عاد ت رہی ہے کہ جب مجھے کوئی شدید پریشانی لاحق ہوتی ہے تو میں 2 نوافل شکرانے کے ادا کرتاہوں اور رب کی رضا میں راضی ہوجاتا ہوں تو میری پریشانی ختم ہوجایا کرتی ہے اوریہ میرے لیے بہت ساری اچھائیاں لے کر آتی ہے بہرکیف میں نے اپنی رپوٹیں اٹھائیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کیا ایک ڈاکٹر نے کہاکہ آپ فوراًانسولین کے انجیکشن شروع کردو میں بھی یہی کررہا ہوں پھر دوسرے اورتیسرے ڈاکٹر سے مشور ہ کے بعد امریکہ میں مقیم معروف پاکستانی ڈاکٹر ماجد علی سے رابطہ کیا انہوں نے چند سوالات کیے اورپھر مجھے نصیحت کی میں نے نصیحت پر سی ڈی سنی اور ان کی دی ہوئی ہدایات پر عمل شروع کیا آج تین ماہ بعد میں تندرست ہوگیا ہوں جو میرے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کی بات ہے ۔ ا ب میں چند ضروری ہدایات میں اپنے پڑھننے والوں کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں تاکہ اگر کسی کو شوگرکی شکایت ہوگئی ہے تو ان پر عمل پیرا ہوکر کسی حدتک اس موذی مرض سے بچا جاسکتاہے ۔ میرا وزن قد کے لحاظ سے 11کلوگرام زیادہ تھاجسے میں نے اڑھائی ماہ میں کم کیا HBAIC آٹھ تھاجسکی رینج 4 سے 6 ہونی چاہئے تین ماہ بعد ٹیسٹ کروایا تو 6 ہوگیا شوگر جوفاسٹنگ 60 سے 110 تک ہونی چاہئے ہمیشہ 120 سے اوپر ہوا کرتی تھی اورر ینڈم 60 سے 140 ہونی چاہئے 160 سے اوپر ہواکرتی تھی آج الحمداللہ میری شوگر ہرصورت میں رینج میں ہے میرے دوسرے ٹیسٹ جس میں کلیسٹرول وغیرہ تھی اب و ہ بھی ٹھیک ہوچکے ہیں ۔دوسال پہلے الٹرا ساﺅنڈ کروایا تھاجس میں میرا فیٹی لیور تھا اور اب وہ بھی ٹھیک ہوگیا ہے میں سمجھتا ہوں ایک شوگر کے مرض کے حملے سے اور میری خداکے حضور قبول دعا سے دیگرامراض بھی ٹھیک ہوگئے ہیں پچھلے تین ماہ سے میں نے کوئی ایسا کام مشکل کام نہیں کیا ، کوئی دوا نہیں کھائی اورصرف اورصرف وزن کم کرنے کے لیے 1200 کلوریزروزانہ سے نہیں بڑھائیں اور 45 منٹ واک روزانہ کا معمول رکھا اور چندچیزوں سے پرہیز کیا ، جن میں چینی ،چاول ، آلواور جڑوالی سبزیاں شامل ہیں ۔
صبح ایک پا¶ دہی میں دو چمچ چھلکا‘ دوپہر ایک چھٹانک روٹی (آدھ آٹا آدھ چوکر ملی) شوربے کے ساتھ ، رات کو دو چپاتی ایک ایک چھٹانک (آدھ آٹا آدھ چوکرملی)ناشتے کے2 گھنٹے بعد ایک سیب اور دوپہر کے کھانے کے بعد ایک سیب یا ایک کپ چائے بغیر چینی کے ، اس طرح یہ ایکسائز تین ماہ تک جاری رکھی جس کی وجہ سے آج الحمداللہ میں مکمل تندرست ہوں میری ویسٹ پہلے 38 تھی اب 32 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ڈائٹ چارٹ میں نے سروسز ہسپتال ذیابیطس ڈیپارٹمنٹ سے حاصل کیا جس نے میر ی زندگی بدل دی۔ کہا جاتاہے کہ شوگر ختم کرنے کے لئے چند مزید چیزوں کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے جس میں Toxic Food Toxic Thought, اور Toxic Enviroment شامل ہے اپنی عادات کو بھی تبدیل کرنا ہو گا اس مرض کے دور ان میں نے تو بس یہ سیکھا ہے کہ بہتر صحت کے لئے کچھ قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں۔