تھرکول منصوبہ ہو یا کالا باغ ڈیم .... قابل عمل کیوں نہیں ہوتا؟

20 مئی 2012
اسلم لودھی
پاکستان کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ جب بھی وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے کوئی کثیر المقاصد منصوبہ شروع کیاجاتا ہے یا تو وہ کالا باغ ڈیم کی طرح سیاست کی نظر ہوجاتا ہے یا بیورو کریسی اس پر اعتراضا ت لگا کر ایک بار پھر قوم کو معاشی بدحالی کے اندھیروں میں پھینک دیتی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی ایٹم بم بناتے وقت بے شمار اعتراضات اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن ایٹم بم بنانے کا وہ منصوبہ جو برطانیہ جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک 2 کھرب ڈالر میں بھی پایہ تکمیل نہ پہنچا سکے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ڈاکٹر ثمر مبارک مندجیسے ذہین اور باصلاحیت سائنس دانوں نے چند ارب روپے میں اور نہایت قلیل مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچا کر نہ صرف دنیا بھر سے اپنی صلاحیتوں اور وطن پرستی کا لوہا منوایا بلکہ مخالفت کرنے والی بیورو کریسی کے چہرے پر تھپڑبھی رسید کردیا ۔اس وقت جبکہ بجلی اور گیس کی ہولناک قلت کی وجہ سے گھریلو صارفین ذہنی انتشار ، فیکٹریاں کارخانے بند ، مزدور بے روزگار اور کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں دور دور تک اصلاح احوال کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی ۔ان حالات میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا یہ اعلان( کہ تھرکول منصوبے کی تکمیل سے پچاس سال تک پاکستان کو انتہائی سستے داموں یعنی 4 روپے فی یونٹ بجلی ، گیس اور ڈیزل میسر آئے گا )، پاکستانی قوم کے لیے زندگی کی نوید بن چکا ہے لیکن گزشتہ 9 ماہ فنڈز رکنے کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم کی طرح سیاست کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ تھرکول پراجیکٹ میں پیدا ہونے والی گیس کا شعلہ پورے چار ماہ تک جلتا رہا اور یہ منصوبہ ہر اعتبار سے قابل عمل اور پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے ۔ چین اور مغربی جرمنی کی جانب سے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کی خواہش کااظہار بھی کیاجاچکا ہے لیکن پلاننگ کمیشن کے ممبر شاہد ستار کو نہ جانے کیوں یہ منصوبہ پسند نہیںآرہا اور حکمران بھی اس منصوبے کے لیے فنڈز ریلیز کرنے میں عدم دلچسپی کااظہار کر رہے ہیں ۔ یہ بات ہر پاکستانی سمجھتا ہے کہ عظیم پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر ثمرمبارک مند کی قیادت میں تھرجیسے دور دراز اورصحرائی علاقے میں انتہائی گرمی کے عالم میں مسلسل اور کامیاب تحقیق کرکے مسائل کی دلدل میں ڈوبی ہوئی پاکستانی قوم کے لیے چند خوشخبریاں تلاش کرنے کی جستجو کررہے ہیں تو ہمارے بیوروکریٹ اور چند سیاست دانوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے ۔دنیا بھر میں بجلی پیدا کرنے کے درجنوں طریقے ہیں لیکن پاکستانی حکمران اور بیوروکریٹ کسی بھی طریقے سے بجلی پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور پاکستانی قوم کو اسی طرح تڑپتا اور بھوک سے بلکتا دیکھنے کے متمنی ہیں ۔