نیٹو سپلائی کو نظریاتی آنکھ سے دیکھیں!

20 مئی 2012
پروفیسر نعیم مسعود
کھلا یہ راز کہ ”حکومت نیٹو سپلائی بحالی کےلئے تیار تھی“ تھوڑا سا آئیں بائیں شائیں کا عمل چل رہا تھا‘ مگر اس حوالے سے جو پاپولر باپ اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا مﺅقف ہے وہ یہ کہ نیٹو سپلائی نہیں کھلنی چاہئے۔ اسی طرح غیرسیاسی الائنس دفاع پاکستان کونسل بھی نیٹو سپلائی کے کھلنے کے حوالے سے اضطراب کا شکار اور ناراضگی میں پیش پیش ہے۔ ان دنوں جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن گروپ کے اونٹ کا کچھ پتہ نہیں کہ، وہ کس کروٹ بیٹھتا ہے یا بیٹھا ہے کیونکہ کبھی وہ حکومت سے ”نالاں“ لگتے ہیں اور کبھی حکومت سے بڑھ کر اپوزیشن سے....
”ناز کی ان کے لب کی کیا کہئے“
چند دن قبل ”مخصوص“ دانشور طبقے نے آوازیں لگانی اور سنانی شروع کر دی کہ ”پاکستان منہ بنائے بیٹھا ہے“ اور یہ غلطی کر رہا ہے کیونکہ امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان دانشوروں کا خیال تھا کہ ڈرون حملے بھی اس طرح جاری ہیں اور اوپر سے اوباما نے اسامہ شہید کی برسی کے ایام میں چپکے سے امریکہ جا کر ازخود حکومتِ افغانستان سے بات کی ہے‘ اسی طرح وہ طالبان کے ساتھ بھی ڈائریکٹ ہو جائے گا‘ یوں پاکستان کے ہاتھ کیا آیا ۔ ان تذکروں اور تبصروں میں شکوک و شبہات اور غیرواضح نکات ضرور تھے لیکن حکومت پاکستان کے یکے بعد دیگرے اُن دو اجلاس میں جس میں پاکستان آرمی کے چیف بھی موجود تھے، اس کے سامنے آنے سے یہ معلوم اور محسوس ہوا کہ ایک مخصوص طبقہ کچھ راہیں ہموار کرنے کےلئے کوشاں ہے۔ جو بھی ہے اور جیسا بھی ہے تاہم تسلی اس بات سے ہے کہ آرمی چیف کی موجودگی سے حکمران طبقہ یا کوئی من موجی چھوٹی موٹی غلطی تو کر سکتا ہے مگر بہت بڑی غلطی یا فیصلے کا خدشہ نہیں رہے گا۔ چشمِ بینا کے حامل اس بات سے آشنا ہیں کہ الیکشن 2008ءکے بعد سے اب تک آرمی چیف کا کردار ہمیشہ قابل تعریف رہا۔ اہلِ نظر اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جہاں آرمی چیف کے کردار کی ضرورت ناگزیر ہوئی وہاں انہوں نے ادا بھی کیا‘ اس میں عدلیہ بحالی مارچ کے حوالے سے ”خواص“ تو جانتے ہیں۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں دو دِن کی سوچ بچار کے بعد جو بات سامنے آئی اس میں بھی آرمی کا کردار اُبھرا اور چمک کر سامنے آیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تھوڑی سی آنکھیں امریکہ کی بھی کھلیں۔ وہ جو چپکے چپکے افغانستان کا اوباما کا طلسمی دورہ تھا اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی دورہ بھارت پر بھارتیوں سے چکنی چپڑی باتیں تھیں وہ بے سود ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے شکاگو کانفرنس کی جانب سے صدر کو دورہ کی دعوت بھی مل گئی۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ کی بات بھی کھل کے سامنے آگئی کہ ابھی بھی فیصلہ نہیں ہو۔ سب جانتے ہیں کہ، حکومت معاشی بدحالی کا بُری طرح شکار ہے، اور وہ نیٹو سپلائی کھولنے کے بعد معاشی فائدہ چاہتی ہے جب کہ نیٹو سپلائی ہو رہی ہے اس سے قبل مشرف حکومت اور پھر زرداری حکومت کوئی معاشی فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے امریکہ کو یہ گفٹ تھا کہ ”اس کے عوض امریکہ ان کی حکومتوں کو دوام بخشتارہے مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ میاں نواز شریف نے دورہ¿ سندھ میں واضح کہا کہ جب امریکہ نے ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کرنے کے بعد معافی نہیں مانگی‘ اور ڈرون حملوں سے بھی باز نہیں آیا‘ تو پھر نیٹو سپلائی کی بحالی کیوں؟ سیاست کی اس سہ رخی جنگ میں صدر زرداری کو سوچنا اور پرکھنا ہوگا۔ وزیراعظم برطانوی دورہ سے تو کوئی بڑا معرکہ سر کر کے نہیں آئے۔ یوں شکاگو کانفرنس پر صدر زرداری اور اوباما کی متوقع ملاقات میں بھی زرداری صاحب اگر امریکی صدر کی جی حضوری تک محدود رہے، تو زرداری سیاست کی ساکھ مزید ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔ بین الاقوامی امور پر غور کریں‘ تو کشمیر ایشو سے افغانستان معاملات تک حکومت کی کارکردگی کسی طرح بھی قابلِ ستائش نہیں۔ بھارت کو ”پسندیدہ ریاست“ گرداننے کے باوجود پاکستان کو کچھ نہیں ملا۔ البتہ چین اپنے روایتی انداز سے اخلاص کا مظاہرہ کر رہا ہے۔جب اِدھر اعلیٰ سطحی اجلاس نیٹو سپلائی پر غوروفکر کر رہا تھا‘ اُدھر ایک امریکی اخبار نے دعویٰ بھی کر دیا تھا کہ ”پاکستان سلالہ چوکی پر حملہ پر معافی کے مطالبہ سے دستبردار ہو گیا اور نیٹو سپلائی پر امریکہ معاوضہ دینے کےلئے تیار ہو گیا ہے۔“ ”رائٹر“ کا کہنا تھا امریکہ سپلائی کی سکیورٹی کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ یوں روزانہ 600 تک ٹرک گزرتے ہیں اور فی ٹرک 1500 تا 1800 ڈالر پاکستان کو دینا پڑے گا۔ اس طرح پاکستان کو 9 لاکھ سے 10 لاکھ 80 ہزار ڈالر یومیہ حاصل ہو سکتے ہیں۔اس 10 لاکھ پر اب 3 قسم کا بحث و مباحثہ جنم لے گا۔ پہلی بات: ”سیاسی بحث“ اور خواہ یہ ہو گی کہ‘ حکومت مخالف سیاستدان نہیں چاہیں گے کہ‘ یہ رقم لے کر حکومت کوئی ویلفیئر کر سکے اور اس کےلئے یہ ویلفیئر مثبت بات بن جائے۔ دوسری بات: نظریاتی لوگ یقینا ”نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے دیکھیں گے، کہ اس میں نظریہ پر چوٹ تو نہیں آتی ہم بکاﺅ مال تو نہیں لگیں گے۔ تیسری بات: بحث کے یہ دریچے بھی کھلیں گے کہ کون جانے یہ رقم بھی کرپشن کے پیٹ میں جاتی ہے یا ویلفیئر آف سٹیٹ میں۔ گارنٹی کون دیتا ہے؟یہ سب باتیں اور تبصرے اپنی جگہ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شکاگو کانفرنس سے بین الاقوامی برادری تک اقوام متحدہ سے نیٹو ممالک تک سے مکمل بحث و تمحیص کے بعد ڈرون حملوں کی روک تھام، امریکی بدمعاشی کی معافی، افغانستان میں پائیدار امن اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ امریکی انخلاءکی گارنٹی لی جائے۔ پھر اس کے بعد کسی سپلائی شپلائی کی اجازت دی جائے۔ درون خانہ فیصلے نہ ہوں، آرمی چیف، وزارت خارجہ اور اپوزیشن لیڈر کی مشترکہ نگرانی میں سارا عمل صاف اور شفاف ہو۔ ورنہ کسی سپلائی اور کسی ڈالر کی کوئی ضرورت نہیں۔ قیادت سارے معاملے کو سیاسی خوردبین اور دوربین سے نہیں نظریاتی آنکھ سے دیکھے .... نظریاتی آنکھ سے!!!