بجٹ 2012-13 او ر ریونیو

20 مئی 2012
یوسف حسین شیرازی
پاکستان کی معےشت اتنی پائےدار ہے کہ بےرونی امداد اور قرضوں کے بغےر خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہےں۔ ورلڈ بےنک اورFederal Board of Revenue اےف بی آر کے مطابق پاکستان کی 57 فےصد آمدنی پر ٹےکس ادا نہےں کےاجاتا۔ اس مےں اسمگلنگ،انڈر انوائسےنگ اور ٹےکس چوری وغےرہ شامل ہےں۔ Federal Board of Revenueاےف بی آر کے تازہ ترےن اندازے کے مطابق اےسی آمدنی 79 فےصد ہے۔ٹےکس شدہ آمدنی سے اس وقت تقرےباً دو کھرب روپے حاصل ہوتے ہےں۔اگر باقی آمدنی جس پر ٹےکس نہےں دےا جاتااسے بھی ٹےکس کی حد مےں لاےا جائے تو 6 کھرب روپے کی آمدنی ہو گی جس کے نتےجے مےں قرضوں اور غےر ملکی امداد پر انحصار کم ہو جائے گا جو نہ صرف مشکل شرائط پر ملتے ہےں بلکہ ان سے مقامی سرماےہ کاری،پےداوار ،برآمدات اور روزگار کے مواقع بھی بری طرح متاثر ہوتے ہےں ۔
دوسری طرف رےشنلا ئزےشن کے نام پر محصولات مےں کمی کے باعث روز گاری، سرماےہ کاری،پےداوار اوربرآمدات بھی دباﺅ کا شکار ہےں۔ مضحکہ خےز بات ہے کہ مختلف وزارتوں مثلاً پلاننگ کمےشن،سرماےہ کاری اور وزارتِ صنعت وغےرہ کے درمےان ہم آہنگی نہےں ہے ۔ بلکہ ےہ ادارے اےک دوسرے کی حدود مےں دخل اندازی کر رہے ہےں۔مثال کے طور پر پلاننگ ڈوےژن، جس کا کام ترقےاتی منصوبے ہے، وہ محصولات مےں اضافے کی تگ و دو مےںمصروف ہے۔وزارتِ تجارت ،صنعتوں اور اسکی وزار ت کے معاملات مےںمد اخلت کر رہا ہے۔ انجےنئرنگ ڈےلوپمنٹ بورڈ ،پلاننگ ڈوےژن کے معاملات مےں گھسا ہو ا ہے۔ آمدنی مےں کمی کسی بھی طرح قرضوں،امداد ےا دےگر ذرائع سے پوری نہےںکی جا سکتی۔ ماضی مےں جب کبھی اےسی صورتِ حال ہوئی تو وزارتِ خزانہ نے اپنا کلےدی کردار ادا کےا۔اب بھی ضرورت ہے کہ وزارتِ خزانہ اپنا وہی کردار ادا کرے ۔ اگر اےسا نہ کےا گےا تو آمدنی کے متوقع اہداف پورے نہےں ہونگے اور ماضی کی طرح سرماےہ کاروں کا اعتماد پھر مجروح ہوگا ۔ ماضی مےں نےشنلائزےشن کے وقت اور بعد کے مختلف ادوار مےں ناقص طرزِ حکمرانی کی بنا پر سرماےہ کاروں کو ماےوسی ہوتی رہی ہے۔ مطلوبہ ہم آہنگی سرماےہ کاروں کے اطمےنان کےلئے نہاےت ضروری ہے کےونکہ موجودہ سےاسی، سماجی، اقتصادی صورتِ حال اور ناقص امن و امان کی وجہ سے کئی سرماےہ کار ملک چھوڑ چکے ہےں اورکئی اور جا رہے ہےں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ سرماےہ کاروں کو اعتماد اور تحفظ فراہم کےا جائے تا کہ سرماےہ کاری مےں مزےد اضافہ ہو ۔ابتدا مےںقرضے اور امداد برےٹن وُڈ سسٹم کے تحت ورلڈ بےنک،آئی اےم اےف اور ڈبلےو ٹی او کے ذرےعے دئےے جاتے تھے۔ان کا مقصد ملک مےں سےاسی، سماجی اور معاشی توازن قائم رکھنا تھا۔ ان اداروں کے علاوہ اب انفرادی ممالک امرےکہ اور برطانےہ بھی امداد د ےنے والوںکی مےں شامل ہو گئے ہےں ۔ےہ ”امداد“ سخت شرائط کی وجہ سے قرض لےنے والوں کی معےشت پر بوجھ بن جاتی ہے جس کے تحت مشےنری اور پرز وں کی خرےداری بھی امداددےنے والے ممالک سے ہی کی جاتی ہے اور ان کی ادائےگی قرض لےنے والے ممالک اپنے محنت سے کمائے ہوئے زرِ مبادلہ سے کرتے ہےں۔ بعض اوقات تو اس کی حد 30 فےصد سے بھی زائد ہوتی ہے جن کےلئے قرض لےنے والے ممالک کو اپنے تعمےر وترقی کے منصو بوں ےعنی توانائی اور ٹرانسپورٹ کو بھی قربا ن کرنا پڑ جاتا ہے جو ان ممالک کےلئے اشد ضرور ی ہوتے ہےں۔ لاطےنی امرےکہ کے ممالک اس مےں سرِ فہرست ہےں اور پاکستان بھی پےچھے نہےں ہے۔ترقی ےافتہ ممالک بھی اقتصادی ناہمواری کی وجہ سے اب ترقی پذےر ممالک کو امداد دےنے سے گرےزاں ہےں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی پذےر ممالک کواپنے وسائل پر ہی انحصار کرنا چاہئے۔ آئی اےم اےف نے بھی پاکستان کو ےہی کہنا شروع کر دےا ہے۔ اےنگلو سےکسن سرماےہ دارانہ نظام پر بھی سوال اٹھ رہے ہےں۔منجملہ تمام ترقی ےافتہ ممالک کے تقرےباً اےک ہزار شہروں مےں مظاہرے ہو رہے ہےں کہ اےنگلو سےکسن سرماےہ دارانہ نظام نے غربت اور محرومی مےں اضافہ کےا ہے۔ےہ احتجاج وال اسٹرےٹ کے سرماےہ داری نظام کے خلاف ہے۔ عالمی اسٹاک اےکسچےنج کے خلاف بھی نعرہ لگاےا جا رہا ہے کہ \\\"Kill Wall Street\\\" ےعنی ”وال اسٹرےٹ کو ختم کرو“۔ےہ تنقےد پبلک لمےٹڈ کمپنےوں کے بجائے نجی کمپنےوں پر زےادہ ہو رہی ہے کےونکہ 2008 مےں اس بات پر شدےد احتجاج ہوا تھا کہ اےسی کمپنےوں کے اعلیٰ مینیجر، اس بات سے قطعِ نظر کہ کمپنی نفع مےں تھی ےا خسارے مےں،بونس لےتے جارہے تھے۔اب رحجان ہے کہ اگر ڈےوےڈنڈ نہےں دےا جاتا تو کوئی بونس بھی نہ دےا جائے۔ کمپنی کا منافع اس طرح تقسےم کےا جائے کہ اس کا اےک تہائی کمپنی ہی مےں رکھا جائے،اےک تہائی ڈےوےڈنڈ اور اےک تہائی طے شدہ معےار کے مطابق بونس کی ادائےگی کےلئے استعمال کےا جائے۔ا ن حا لات مےں ترقی ےافتہ ممالک اب پہلے کی طرح ترقی پذےر ممالک کو مالی امداد دےنے کے قابل نہےں ہےں۔
حقےقت ےہ ہے کہ امرےکہ کی اپنی سماجی،سےاسی اور اقتصادی حالت نازک ہے اورترقےاتی کاموں کےلئے دی جانے والی امداد اب دن بہ دن کانگرےس کی تنقےد کا نشانہ بن رہی ہے۔ 5 نومبر 2011 کے اکنامسٹ کے مطابق ”حےرت انگےز طور پر تقرےباً ہر تےن مےں سے اےک امرےکی کا خےال ہے کہ ان کا ملک غلط سمت کی طرف جا رہا ہے۔ملکی قرضوں کے حوالے سے امرےکہ کی رےٹنگ کم ہوئی ہے۔بے روزگاری بھی اےک مسئلہ ہے جس کے اعداد و شمار 1948 سے دستےاب ہےں۔ لےکن موجودہ حالات مےں بے روزگاری کی شرح نو فےصد سے زےادہ ہے اور اس مےں زےادہ تعداد ان افراد کی ہے جو طوےل عرصہ سے بے روزگار ہےں۔سُپر پاور بننے کے امکانات اب اےشےا کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہےں اور دنےا کا مستقل تخلےقی اور خوشحال ملک اب اپنا سحر کھو چکا ہے“۔امرےکی خارجہ امور کی سےکرےٹری ہلےری کلنٹن نے گزشتہ سال پاکستان کے دورے پر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ” امرےکی ٹےکس گزاروں نے پاکستان کو امدا دکی مد مےں دو ارب ڈالر مہےا کئے ہےں لےکن بد قسمتی سے پاکستان کی تقرےباً انےس کروڑ آبادی مےں صرف بےس لاکھ افراد ہی ٹےکس دےتے ہےں“ انہوں نے ےہ بھی کہا ”امرےکہ پاکستان کی اقتصادی مدد کرنا چاہتا ہے ، خےرات نہےں دےنا چاہتا“۔ مزےدبرآں امرےکی سفےر جناب کےمرون منٹر نے 4 نومبر 2011 کو ”دی نےوز “ کو انٹروےو دےتے ہوئے کہا ”مجھے امےد ہے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے اور پچاس سال بعد پاکستان امداد لےنے والا نہےں بلکہ وہ ہم جےسے ممالک کی طرح دوسروں کو امداد دےنے والا ملک بن جائے گا۔ترقی کےلئے ملنے والی امداد اُس تبدےلی کا نعم البدل نہےں ہو سکتی جو حالات سدھارنے کےلئے پاکستان کے اندر سے ہی آ ئے گی“۔ خوش قسمتی سے پاکستان کی معےشت پائےدار ہے۔ دنےا کے بہترےن زرعی پےداواری ممالک مےں پاکستان کا شمار ہوتا ہے۔ ٹےکسٹائل کی صنعت مےں ےہ دنےا مےں پانچوےں نمبر پر اور دھاگے کی برآمدات مےں چوتھے نمبر پر ہے۔ ےہاںبےش قدر کوئلے، تانبے،چاندی اور سونے کی کانےں ہےں جنہےں ابھی درےافت نہےںکےا گےا۔مزےد برآں پاکستانی لوگ فعال،محنتی اور تخلےقی ہےں۔سرماےہ کاری پر منافع کی شرح دنےا بھر مےں پاکستان مےں بہترےن ہے اور پچھلے 62 سالوں مےں جی ڈی پی کی شرح اوسطاً 5 فےصد سالانہ ہے۔پس ٹےکس کا موثر نظام،ٹےکس کی بھر پور وصولی اور مقامی وسائل کو برﺅے کار لانا ہی معاشی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ ٹےکس کی وصولی سرماےہ کاری،پےداوار اور برآمدات پر منحصر ہے۔ صرف اسی طرح خود انحصاری حاصل ہو گی کسی اور طرےقے سے نہےں !....
گےسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر