پاکستان کی وکالت

20 مئی 2012
بابر اعوان
جوں جوں واہگہ بارڈر قریب آرہا تھا میرے اندر تفاخر کیساتھ ساتھ الم کی کیفیت پیدا ہورہی تھی۔ یہاں 1947 کیلئے لٹے پٹے قافلوں کی آہیں اور سسکیاں صاف سنائی دیتی ہیں اور ساتھ ہی 1965ءکے شہیدوں کے نعرے بھی۔دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ انہیں پاک سرزمین پر نچھاور کیا گیا تھا۔پاک بارڈر پر رینجرز کے جوان مجھے الوداع کہنے لگے تو میں نے جھک کر دھرتی ماں کی خاک اٹھائی اور اسے سامنے والی جیب جو میرے دل کے عین اوپر واقع تھی میں ڈال لیا۔ خاک کی یہ پڑیا گیارہ روزہ دور بھارت کے دوران میں نے سینے سے علیحدہ نہیں کی۔یوں تو میں نے پاکستان کے باہر بہت سفر کیا لیکن پہلی دفعہ بھارت جاتے ہوئے میری کیفیت عجیب تھی۔اٹاری میں بھارتی وکلاءنے استقبال کیا۔اٹاری سے نکل کر میرا پہلا پڑاﺅ امرتسر تھا۔جہاں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن امرتسر کی بار ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر سدھی اور انکی کابینہ سمیت بار کا جنرل باڈی کا ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔یہاں پرتاب سنگھ سابق چیئر مین پنجاب ہریانہ بار کونسل بھی پہنچے ہوئے تھے۔ امرتسر بار ایسوسی ایشن کے صدر نے رسمی خطبہ استقبالیہ شروع کیا اور آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تعیناتی کے عمل میں وکلاءکی شرکت یقینی بنانے پر مجھے داد دی مگر اگلے ہی لمحے مسٹر سدھی نے ایسی بات کہی جس نے مجھے شدھی اور سنگٹھن کی یاد دلا دی۔ موصوف نے کہا آئیے لاہور اور امرت سر کے درمیان مصنوعی لکیر مٹا کر دیوار برلن کو گرادیں....؟ شدھی سے یاد آیا جب برصغیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی تھی تو اس وقت اک مرد قلندر نے ان اشعار کے ذریعے اکھنڈ بھارت کے خواب کو چاروں شانے چت گرا دیا تھا....
اک مست الست قلندر نے
اک شدھی بیچاری کو دھر رگڑا
پہلے تو رگڑنے ناک لگی
پھر پاﺅں پڑی، پھر سررگڑا
میرے ساتھ ہائیکورٹ کے سابق جج رمضان چوہدری بھی سٹیج پر بیٹھے تھے۔میرے اندر برق کوندی۔میں امرتسر بار ایسوسی ایشن کے سٹیج سے اٹھا اور اٹھتے ہوئے کہا کہ سامنے سینئر وکلاءبیٹھے ہیں میں ان کے احترام میں سٹیج کے بجائے شرکاءمیں بیٹھنا پسند کروں گا۔ اس سے ہال میں سناٹا چھا گیا اور وکلاءکو میرا ”ری ایکشن“ اور حالات کی نزاکت بھی سمجھ آگئی۔ امرتسر بار کے صدرکی تقریر کے بعد مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تو میں جن کے درمیان بیٹھا تھا وہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی کھڑے ہوگئے مجھے یوں لگا کہ جس طرح میرے ہاتھ میں پاکستان کا مقدمہ ہے اور مجھے عزیز از جان پاکستان کے اس مقدمے کو اپنی روایتی طورپر مخالف عدالت میں جیتنا ہے۔میں نے غیر روایتی طریقے سے تقریر شروع کی اور کہا کہ مجھے بھارت آکر خوشی ہوئی۔ یہ ایک آئینی ملک ہے اور خود مختار سرزمین ہے لیکن مجھے اس سے بھی زیادہ خوشی ہے کہ میں ایک آئینی ریاست ،ایک خود مختار ریاست، ایک جغرافیائی حقیقت اور اسلامی دنیا کے پہلے ایٹمی اسلامی ملک جمہوریہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ہندوستان کے دانشوروں کو شکست خوردگی سے باہر نکلنا ہوگا اور14اگست کی پسپائی میں پھنسے رہنے کی بجائے پاکستان جیسی عالمی سچائی کو دل سے ماننا ہوگا۔میرے اندر مزاحمتی وکالت کا دریا ابھر پڑا۔میں پہلی دفعہ پاکستان سے باہر سینکڑوں وکیلوں اور ججوں کی موجودگی میں پاکستان کی مقدمے کے روسٹرم پر کھڑا تھا۔میرے اندر پاکستان بولتا گیا کہ ایشیاءمیں کوئی دیوار برلن نہیں ہے۔لاہور اور امرتسر کے درمیان دو خود مختار ملکوں کے تسلیم شدہ بارڈرکو مصنوعی لکیر کہنے والے ذہنی پسماندگی سے نکل آئیں۔ان لفظوں میں پاکستان جتنی طاقت تھی اور اتنی ہی بڑی سچائی بھی اس لیے جب ہم چائے پر جانے لگے تو بھارتی پنجاب اور ہریانہ کے نامور وکلاءنے کھل کر کہا کہ آپ نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ وہاں میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ہمارے کچھ سیلف سٹائل دانشور بہت چھوٹے چھوٹے مفادات اور بے معنی لذتوں کیلئے لا یعنی جملے بولتے ہیں اور سنتے ہی نہیں، سر بھی دھنتے ہیں۔ اس میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ قصور پاکستان کے بعض اہم اداروں کابھی ہے۔ میں نے بھارت جانے سے پہلے سیکرٹری وزارت خارجہ کو ٹیلی فون کروایا اور کہا کہ میرا طویل دورہ ہے مجھے اہم ایشوز پر بریف کریں۔ وہاں سے جواب آیا کہ سر! سیکرٹری صاحب ایک بڑی بارات کے ساتھ کوہ قاف کے ملک جارہے ہیں۔واپسی پر آپ کو بھرپور بریفنگ ملے گی۔ سروس آف پاکستان کے فرزندوں کی دانش و بینش کو سلام کہ نوائے وقت کیلئے یہ سطور لکھنے تک پاکستان کے ایوان بالا کے ایک رکن کو بریفنگ دینے کیلئے مصروفیت کم نہ ہوسکی اور یہ مصروفیت میں نے نئی دہلی پہنچ کر بھی دیکھی جس کا تذکرہ کسی اور نشست میں کروں گا لیکن امرتسر سے نکل کر امر تسر میٹرو کلب لنچ کیلئے جاتے ہوئے میرے میزبان مجھے اس کرکٹ سٹیڈیم میں لے گئے جس کا افتتاح پنجاب کے مقتول سکھ وزیراعلیٰ نے کیا تھا جس نے سکھ وکلاءکے بقول بارڈرکے اس طرف کے ایک مہربان کی وجہ سے جنہیں فاتح خالصتان کہاجاتا ہے سکھ لڑکے اور لڑکیوں کو ٹرائل کے بغیر بستروں سے نکال نکال کر ماورائے عدالت قتل کیا جس کا بدلہ لینے کیلئے ایک بے انت سنگھ نامی سکھ نے وزیراعلیٰ کو اس کے دفتر میں ہلاک کردیا تھا اور جسے بھارت کی عدالتیں سزائے موت دے چکی ہیں مگر جب بھی بے انت سنگھ کو پھانسی کی تاریخ مقرر ہوتی ہے ہندوستان سے خالصے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اسکی پھانسی روک دی جاتی ہے۔تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ میرے بھارت جانے کے کچھ ہفتے پہلے ہی انتہائی پُر تشدد احتجاج نے بے انت سنگھ کو ایک بار پھر ارتھی پر چڑھنے سے بچایا تھا۔ میں اس موضوع پر برادر محترم اور بے باک دانشور ڈاکٹر اجمل نیازی کی معلومات کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا جنہوں نے فاتح خالصتان کے ایک خفیہ دورے کی درست خبر بڑی ” بے نیازی“ سے اپنے کالم میں لیک کی۔ امرتسر پہنچ کر مجھے جس جگہ جانے کی جلدی تھی وہ تھا جلیاں والا باغ۔ جہاں پیر 1912 کے خونیں دن جنرل ڈائر نے نہتے سکھوں اور مسلمانوں پر مشین گنوں سے فائرنگ کرکے دو ہزار سے زائد لوگوں کو راہِ آزادی میں جان جانِ آفرین کے سپرد کرنے کے عظیم رتبے سے سرفراز کیا تھا۔