A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

ورلڈ بنک نے توانائی وسائل سے استفادہ نہ کرنے کو پاکستان کی معاشی بدحالی کا سبب قراردیدیا

20 مئی 2012
ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کالا باغ ڈیم سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں
ورلڈ بنک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توانائی کے وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر بد قسمتی سے دستیاب وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں کیاجارہا جس کی وجہ سے ملک کی معیشت بری طرح بدحال ہے اور لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان میں پائے جانے والے گیس کے ذخائر میں سے 54 ٹریلین کیوبک فٹ ابھی تک دریافت کئے جاسکے ہیں جبکہ 32ٹریلین کیوبک فٹ تاحال بند پڑے ہیں۔937 ملین بیرل خام تیل کے ذخائر دریافت ہوئے جبکہ 354 ملین بیرل بند پڑے ہیں۔اسی طرح ہائیڈل سے 40 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے مگر ابھی تک صرف 6ہزار 5سو میگا واٹ بجلی حاصل کی گئی ہے۔اگر ان ذرائع کو پوری طرح استعمال کیاجائے تو پاکستانی معیشت تیزی سے ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آج ملک میں سب سے بڑا بحران توانائی کے حوالے سے ہے۔بجلی اور گیس کی شدید قلت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث لاکھوں بڑے چھوٹے کارخانے، صنعتیں اور کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں بے شمار ہنر مندوں اور محنت کشوں کا بے روزگار ہونا قدرتی امر ہے۔معیشت پر مہلک اثرات بھی یقینا پڑے ہیں ۔ ابھی تک ملکی معیشت کو اگر کوئی سہارا ملا ہوا ہے تو وہ زراعت اور تارکین وطن کی طرف سے بھیجا جانیوالا زرمبادلہ ہے۔ اگر ملکی معیشت کا انحصار صرف امپورٹ ایکسپورٹ پر ہوتا تو خدانخواستہ توانائی کے بحران کے باعث بھنور میں پھنسی معیشت ڈوب چکی ہوتی۔ ورلڈ بنک نے بھنور سے نکلنے کی راہ دکھا دی ہے۔اب انحصار اس پر ہے کہ ہمارے حکمران عالمی بنک کے مشوروں کو درخورِ اعتنا بھی سمجھتے ہیں یا نہیں۔
یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم اپنے وافر قومی اور قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود مقروض اور تہی دست ہیں۔قومی معیشت بد حالی کا شکار ہے۔ عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ورلڈ بنک ہمیں بتا رہا ہے کہ گیس اور تیل کے کنویں بدستور کھودے جانے کے منتظر ہیں۔ پاکستان میں پانی کے موجودہ وسائل سے 40 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جبکہ اب تک 6ہزار پانچ سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکی ہے ۔اس صورتحال کے پیش نظر تو پاکستان کی سابق و حالیہ حکومت کی عقل پر ماتم ہی کیاجاسکتا ہے۔ وسائل کی اتنی وافر مقدار میں موجودگی ان سے استفادہ نہ کرنا ان حکومتوں کی مایوس کن کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔کالا باغ ڈیم جیسا منصوبہ صرف اس لئے دفن کردیا جاتا ہے کہ ملک دشمن عناصر نہیں چاہتے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران حل ہو اس لئے اس کے عوام پر آئی آئی پی اور آر پی پی جیسی لعنتیں مسلط کردی جاتی ہیں۔ان میں کس نوعیت کی کرپشن ہوئی اور کون کون ملوث تھا اب یہ ایک کھلا راز ہے جن افراد نے سپریم کورٹ کی مداخلت پر اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرائے اور جن پر مقدمات قائم ہیں ان کو پھر وفاقی وزیر بنادیاجاتا ہے، یہی کرپشن پاکستان کی معاشی بد حالی کا باعث بنی اور آج صورتحال یہ ہے کہ قومی وسائل سے استفادہ کرنے کیلئے منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے سرمایہ ہی نہیں ہے۔
2005ءتک کالا باغ ڈیم منصوبے کیلئے ہر بجٹ میں رقم مختص کی جاتی تھی لیکن پیپلز پارٹی کے پہلے وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف نے یہ کہہ کر کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ قابل عمل ہی نہیں، قومی معیشت کے تابوت میں ایک کیل اور ٹھونک دی یاد رہے کہ دنیا کی 11معروف کمپنیاں جو ڈیمز بنانے میں عالمی شہرت کی حامل ہیں کالا باغ ڈیم کو نہ صرف قابل عمل بلکہ ایک ماڈل منصوبہ قرار دے چکی ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک اس پر سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار بھی کرچکے ہیں آج حکومت سرکولر ڈیٹ کے جنجال میں پھنسی ہے اور جب تک اس سے نجات حاصل نہیں کی جائیگی توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی پیش رفت ممکن نظر نہیں آتی۔ درحقیقت حکومت سرکولر ڈیٹ کی آڑ میں اپنی بد نظمی ، کرپشن اور غفلت و کوتاہی کو چھپا رہی ہے۔ سرکولر ڈیٹ سے نجات کس کی ذمہ داری ہے؟ ظاہر ہے کہ حکومت بجلی کے بل وصول کرتی ہے اور نادہندگان سے جن میں بڑے بڑے حکومتی محکمے شامل ہیں سے وصولی اور خاص طورپر بجلی کی چوری پر قابو پانا بھی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے لیکن اس کی طرف سے اصلاح کی کبھی کمٹمنٹ نظر نہیں آئی ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ....
کچھ تو خرابی ہے باعث ِ بربادی چمن
کچھ باغباں کا ہاتھ بھی اس میں ضرور ہے
وفاقی حکومت اپنے ارکانِ اسمبلی و سینٹ کو 50,50 کروڑ فی کس ترقیاتی کاموں کیلئے فراہم کرتی ہے جس کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے نہ کہیں ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچتے دیکھے گئے ہیں۔ حکومتی اتحاد اور ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے ان کا صحیح مصرف بتایا ہے ۔ ان کی تجویز کے مطابق یہ فنڈز ایک سال کیلئے روک کر ان سے سرکولر ڈیٹ جیسی لعنت سے جان چھڑالی جائے لیکن سوال یہ ہے کہ بہترین قومی مفاد میں یہ فیصلہ کرے گا کون؟ الیکشن قریب ہیںہر پارٹی بشمول حکومتی پارٹی اپنے ایم این اے اور سنیٹرز کی خوشنودی کیلئے اس نوعیت کا اقدام کرنے سے گریز کرے گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اور وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کوترجیح دی جائے لیکن کیا اس ملک میں پہلے بھی کبھی ایسا ہوا ہے جو اب ایسا ہوگا تاہم ہر بڑے کام کی ابتداءپہلی مرتبہ ہی ہوتی ہے۔ حکمرانوں نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان کو عوامی غیظ و غیض کو مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ جو مظاہرے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں وہ کسی بھی وقت ہر چوک کو التحریر چوک بنادیں گے۔
آج ازلی و ابدی دشمن بھارت سے 5سو میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کے معاہدے کئے جارہے ہیں جو ہمارے دریاﺅں سے ہمارا خون کشید کرکے بنا رہا ہے اس کی قیمت بھی 30روپے یونٹ ہے، رینٹل پاور پراجیکٹس جو محض ڈیڑھ سو میگا واٹ پیداوار دے رہے ہیں اس کی فی یونٹ لاگت 18 روپے ہے۔پانی سے محض سوا، ڈیڑھ روپے فی یونٹ دستیاب ہے اور دستیاب آبی وسائل کو بروئے کار لا کر جو 40ہزار میگا واٹ بجلی دستیاب ہوگی اس پر بھی یہی لاگت آئیگی۔ تھرکول سستی بجلی کی فراہمی کا مزید ایک ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند تھرکول سے محض تین چار روپے فی یونٹ لاگت سے ملکی ضروریات سے کئی گنا زیادہ بجلی فراہم کرنے کے دعوے دار ہیں۔ اندازہ کیجئے آج ہم جس انرجی بحران سے گزر رہے ہیں اس پر عالمی بنک کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے قابو پانے کی کوشش کی جائے تو یقینا یہاں پاکستان کی انرجی کی تمام ضروریات پوری ہوں گی وہیں ہم کم از کم 30ہزار میگا واٹ بجلی برآمد کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ برآمد سے حاصل شدہ منافع سے اگر عوام کو ریلیف پہنچانے کی کوشش کی جائے تو پاکستانیوں کو برائے نام قیمت پر بجلی دستیاب ہوگی جس سے ناقابل یقین ملکی ترقی اور قومی خوشحالی کے در کھلیں گے۔
طیب اردگان....خوش آمدید
ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان آج تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ 21 مئی کو وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے ، اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان پانچ معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائینگے۔ترکی پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے جو ہر مشکل میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے، زلزلہ اور سیلاب کے دوران ترک بھائیوں نے پاکستانیوں کی دل کھول کر مدد کی تھی سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر مکانات بنائے اور لاہور میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے مشینری مہیا کی، کارپیٹڈ بس سروس چلانے میں تعاون کیا، ترک وزیر اعظم کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کا قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ ختم کرنا خوش آئند ہے، پوری قوم کی یکجہتی سے ترک وفد کو مثبت پیغام ملے گا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مشترکہ اجلاس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کو بھی پارلیمنٹ آنے کی دعوت دی ۔ امید ہے کہ وہ بھی مسلم لیگ ن کی طرح اس پر مثبت جواب دیں گی جس سے پوری دنیا کو ایک پیغام ملے گا کہ ترکی کے ساتھ مضبوط تعلقات کیلئے تمام قوتیں اکٹھی ہیں، ترک وزیر اعظم پاکستان اور خطے کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران اور افغانستان کو ساتھ ملا کر اسلامی بلاک بنانے کا اعلان کریں تو یقینی طور پر یہ ان کا مسلم اُمہ پہ بہت بڑا احسان ہو گا۔ لیکن اس حوالے سے ایٹمی پاکستان کو اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کرنا ہو گا تاکہ مسلم ممالک اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ او آئی سی اپنی کارکردگی کی بنا پر قصہ پارینہ اور خواب غفلت کا شکار ہو گی۔ اب ضرورت ہے نیٹو طرز کے ایک مضبوط اسلامی بلاک کی بنیاد رکھی جائے اور غیر ملکی قوتوں کو اس خطے سے نکالنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیا جائے،اسی میں مسلم امہ اور اس خطے کی بہتری ہے۔
عدالتی احکام کے مطابق بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں
سندھ ہائیکورٹ نے حکومت سندھ کو 3ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیدیا، متحدہ قومی موومنٹ نے عدالتی حکم کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ وزیر اطلاعات شازیہ مری نے کہا ہے کہ 90دن میں انعقاد مشکل ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے عوام کے 90فیصد مسائل یونین تحصیل اور ضلع کی سطح پر حل ہوجاتے ہیں لیکن حکومت حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کو مسلسل التوا میں ڈال رہی ہے،سندھ حکومت نے سیلاب کو الیکشن میں تاخیر کے سبب کے طور پر پیش کیا لیکن اگر ضلعی حکومتیں معرض وجود میں آئی ہوتیں تو آج تک سیلاب کے متاثرین دربدر کی ٹھوکریں نہ کھا رہے ہوتے، جہاں حکومت کو اپنا مفاد نظر آتا ہے وہ کام تو آناً فاناً ہوجاتا ہے لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کا سنیٹرز اور ایم این اے کی نااہلی کا حکم آیا تو حکومت بھاگ دوڑ کر کے ترامیم لے آئی کیونکہ وہ حکومت کے ذاتی مفاد کا مسئلہ تھا ضمنی الیکشن کروانے کیلئے حالات بھی سازگار ہوجاتے ہیں اور ساری رکاوٹیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ حکومت بلدیاتی الیکشن نہ کروا کر نہ صرف قانون کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ عوام کا بھی استحصال کیاجارہا ہے۔سندھ حکومت جس انداز میں بھی ہو عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 90دن میں بلدیاتی الیکشن کروائے تاکہ عوام کو اپنی مرضی کی سیاسی قیادت چننے کا موقع مل سکے۔آج ہر علاقے میںلڑائی جھگڑے ہورہا ہے، کراچی میں اکثر مقامات نوگو ایریاز کی شکل اختیارکرچکے ہیں اگر دیہی حکومتیں موجود ہوتیں تو آج حکومت کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بلوچستان کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہے پورا ملک بلدیاتی انتخابات کاتقاضہ کر رہا ہے لیکن جمہوری حکومت جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔چاروں صوبائی حکومتیں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے جلد از جلد بلدیاتی الیکشن کروائیں تاکہ جمہوریت کا تسلسل برقراررہے۔
لاہور میں بھی کراچی طرز کی دہشت گردی!
صوبائی دارالحکومت کے دو مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے نجی کمپنی کی دو بسوں کو فائرنگ اور پتھراﺅ کے بعدپٹرول چھڑک کر آگ لگادی جبکہ کراچی ٹارگٹ کلنگ میں 14افراد جاں بحق ہوگئے۔ کراچی کے بعد اب لاہور میں بھی خفیہ ہاتھ متحرک ہوچکا ہے۔نادیدہ قوتیں اب یہاں بھی گھناﺅنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہوچکی ہیں،گزشتہ روز چوبرجی چوک سے سوار ہونے والے 5افراد نے سمن آباد موڑ کے قریب دن دیہاڑے گاڑیوں کو آگ لگادی اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار بھی ہوگئے لیکن پولیس پھر ایک دفعہ تخریب کاروں کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ابھی تک واقعہ کے بارے میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اس کا فوری سدباب ضروری ہے ورنہ کراچی کی طرح یہاں بھی دہشت گردی خون کی ہولی کھیلنے کیلئے میدان میں آجائیںگے۔ گزشتہ روز بھی کراچی میں 14افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے لیکر رحمن ملک تک کوئی بھی ٹس سے مس نہیں۔ چار سال سے کراچی میں خونی کھیل جاری ہے لیکن آج تک کسی بھی ذمہ دار کو پولیس پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک بھر کے حالات کو درست کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں عوام کی جان و مال کی ذمہ داری ریاست پر ہے لیکن ہماری ریاست اس ذمہ داری میں مسلسل ناکام نظر آرہی ہے۔ ڈائیو کمپنی کی بسوں کے ساتھ ہونیوالی دہشت گردی کے بعد مذکورہ کمپنی نے اپنا اپریشن بند کردیا جس سے تکلیف عوام کو ہوگی؟ یقینا مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہوگا گو یہ بسیںغیر ملکی کمپنی کی ملکیت ہیں لیکن اب یہ پاکستان کا سرمایہ ہیں جن کی حفاظت ہمارے اوپر فرض ہے۔اس طرح کی دہشت گردی سے کیا ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھگاناچاہتے ہیں جو اب اِکا دُکا ہی رہ گئے ہیں یہ جس کی بھی شرارت ہے ہماری ایجنسیوں کو اس کا کھوج لگاناچاہئے اور جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو دوسروں کیلئے نشانِ عبرت بنا دینا چاہئے۔ یہ کراچی میں ہونیوالی کارروائیوں کی طرز کی کارروائی ہے اس آگ کو آگے بڑھنے دینے کی بجائے یہیں پر روکنا ہوگا۔
5

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...