بنچوں کی تشکیل، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر عمل شروع

 اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 15 رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ مقدمہ میں اپیلوں پر فل کورٹ بنانے کی درخواستیں منظور کر لیں۔ عدالت نے بنچز بنانے سے متعلق حکم امتناعی ختم کر دیا۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری ٹی وی سے سماعت براہ راست نشر کی گئی۔ تقریباً دن بھر جاری رہنے والی سماعت شام کے وقت 3اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ایسے اختیارات نہیں چاہیے جو چیف جسٹس کو احتساب سے بالاتر بنائیں۔ میرے لیے سب سے اہم آئین اور قانون ہے۔ اپنے لئے ایسا اختیار نہیں چاہتا جس سے ملک کو نقصان ہو۔ عدالتی کارروائی سے قبل چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ میٹنگ ہوئی جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں زیر التوا مقدمات، ترجیحی بنیادوں پر سماعت والے کیسز، عدالتی کارروائی کی لائیو سٹریمنگ اور کیسز کی سماعتوں کو موثر بنانے کے لیے گائیڈ لائنز کا جائزہ لیا گیا۔ فل کورٹ اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی لائیو سٹریمنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ نے 11 بجکر 39 منٹ پر سماعت کا آغاز کیا۔ وفاقی حکومت نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا جس میں حکومت نے مو¿قف اپنایا کہ پارلیمنٹ کے قانون کیخلاف درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، استدعا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کی جائیں۔ پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت قانون سازی کر سکتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو قانون بنانے سے نہیں روکتا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی۔ سماعت کا آغاز ہوا تو وکیل درخواست گزار خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ یہ میرے لیے قابل فخر ہے کہ فل کورٹ کے سامنے پیش ہو رہا ہوں، امید ہے بار اور بینچ مل کر کام کریں گے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تاخیر سے آنے پر معذرت خواہ ہوں، ہم نے براہ راست کوریج کی اجازت دے دی ہے اور براہ راست کوریج میں خلل نا آئے اس لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اور خواجہ طارق رحیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل مختصر اور جامع رکھیے گا کیونکہ بینچ میں کچھ ججز ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ کیس سن رہے ہیں۔ خواجہ طارق رحیم نے دلائل کے آغاز میں ہی کہا کہ میں فل کورٹ کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاکستان بار کونسل کی فل کورٹ کی درخواست منظور کرلی ہے اور ہم نے بارکونسل کی درخواست پر فل کورٹ بنا دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا اس کیس میں 9 درخواستیں ہیں اور اس کیس میں دلائل کون کون دے گا، کوشش کریں کہ دلائل کو محدود رکھیں، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ماضی کو دفن کردیں۔ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب اپ کون سی درخواست میں وکیل ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے خواجہ طارق سے استفسار کیا کہ اس قانون میں اپیل کا حق دیا گیا اس پر آپ کیا دلائل دیں گے۔ جس پر وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ مجھے اتنا علم ہے کہ مجھے اپیل کا حق نہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ اس میں پھر دیگر رولز ہیں ان کا کیا ہوگا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ قادر مطلق ہے کا لفظ قانون میں کہیں نہیں لکھا آپ فوکس رکھیں۔ ماضی کو بھول جائیے، آج کی بات کریں، سوال تھا کیا انہوں نے پہلے کیس سنا وہ بینچ کا حصہ ہوں گے یا نہیں، پھر سوال تھا کے کیا سینئر ججز ہی بینچ کا حصہ ہوں گے، پھر سوال تھا کہ کیا سینئر ججز ہی بینچ کا حصہ ہوں گے، ہمیں مناسب یہی لگا کے فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون کے مطابق 184/3 میں اپیل کا حق دیا گیا، فل کورٹ اگر قانون درست قرار دے تو اپیل کون سنے گا۔ فل کورٹ اگر یہ کیس سنے گی تو ایکٹ کی سیکشن 5 کا کیا ہو گا، کیا سیکشن 5 میں جو اپیل کا حق دیا گیا ہے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مناسب ہوگا پہلے قانون پڑھ لیں پھر سوالات کے جواب دیں۔ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پہلے جسٹس عائشہ ملک کے سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔ جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ چیلنج کیا گیا قانون پڑھنا چاہتے ہیں یا نہیں، آپ جیسے دلائل دینا چاہتے ہیں ویسے دیں، اپنے دلائل دیں اور بینچ ممبر کے سوال کا بھی جواب دیں، اپنی درخواست پر فوکس کریں ہزاروں کیس نمٹانے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین کے ساتھ قانون کا بھی کہا گیا ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے خواجہ طارق رحیم کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں قانون بنانا پارلیمان کا دائرہ کار نہیں تھا یا اختیار نہیں تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب جوکچھ ماضی میں ہوتا رہا آپ اس کو سپورٹ کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب اپنے کسی معاون کو کہیں کہ سوالات نوٹ کریں، آپ کو فوری طور پر جواب دینے کی ضرورت نہیں، اپنے دلائل کے آخر میں سب سوالات کے جواب دے دیں، آپ بتائیں کہ پورا قانون ہی غلط تھا یا چند شقیں، آپ آئینی شقوں کو صرف پڑھیں تشریح نہ کریں۔ چیف جسٹس نے خواجہ طارق رحیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب آپ جو ادھر ادھر کی باتیں کررہے ہیں اس پر الگ درخواست لے آئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات اور طاقت کا ذکر قانون میں نہیں، کیا آپ ایک آفس کو اتنے اختیارات ہونے کی حمایت کرتے ہیں۔ وکیل طارق رحیم نے کہا کہ بینچز سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کے کرنے کا ہے، سپریم کورٹ کئی دہائیوں سے اپنے رولز خود بناتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے آپ سپریم کورٹ رولز کو غیرآئینی قرار دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا مطلب تمام ججز ہیں، کیا جہاں اختیار ایک یا 3 ججز کا ہے وہ غیر آئینی ہے۔ خواجہ طارق رحیم نے جواب دیا کہ میرا نکتہ ہے کہ رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار ہے پارلیمان کا نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے مزید کہا کہ آرٹیکل 184/3 جوڈیشل پاور سے متعلق ہے، اس قانون سے عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی، عدالتی اختیارات کا فیصلہ کس نے کرنا ہے، میرے مطابق پارلیمنٹ عدالتی اختیارات میں مداخلت کررہی ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل خواجہ طارق سے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب کیا آپ کو قبول ہے کہ ایک بندہ بنچ بنائے، پارلیمان نے اسی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ یہ درخواست عوامی مفاد میں لائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ سوال نوٹ کرلیں، سپریم کورٹ کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرے، کیا آپ کے مطابق سپریم کورٹ رولز1980 آئین سے متصادم ہیں، مستقبل کی بات نہ کریں دلائل کو حال تک محدود رکھیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل طارق رحیم سے استفسار کیا کہ کیا قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کو غیر موثر کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا قانون سازی سے چیف جسٹس کی پاورز کو ختم کیا گیا یا پھر سپریم کورٹ کی۔ وکیل خواجہ طارق نے جواب دیا کہ آئینی مقدمات میں کم ازکم پانچ ججزکے بنچ کی شق بھی قانون سازی میں شامل کی گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس شق پرآپ کواعتراض ہے کہیں کہ مجھے اس پر اعتراض ہے۔خواجہ طارق نے سوال اٹھایا کہ کیا تین ججز بیٹھ کر آئینی تشریح نہیں کر سکتے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ نہیں کہا جا رہا کہ جج قابل نہیں قانون سازی میں تعداد کی بات ہورہی ہے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس کے تین رکنی بنچ تشکیل دینے پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں ہوگا؟ یا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ماسٹر آف دی روسٹر والا چیف جسٹس کا اختیارغیر آئینی تھا۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایکٹ کا سیکشن چار1956 کے آئین میں تھا لیکن بعد میں نکال دیاگیا، کیا اس قانون سازی کیلئے آئینی ترمیم درکار نہیں تھی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر 17جج بیٹھ کر یہی قانون بنا دیں توٹھیک ہے پارلیمنٹ نے بنایا تو غلط ہے، آپ کا پورا کیس یہی ہے نہ یہی ساری بحث آپ کر رہے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے، عدالت اپنے رولز خود بنا سکتی ہے، پارلیمنٹ کی تضحیک نہیں کر رہا، کیا پارلیمنٹ اپنا قانون سازی کا اختیاراستعمال کرتے ہوئے عدلیہ میں مداخلت کرسکتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے اندراپیل کا حق دیا گیا تھا توکیا وہ غلط تھا، ایک فوجی آمر کے دور میں سپریم کورٹ رولز بنے کیا وہ ٹھیک تھے، اگر یہ قانون سازی غلط ہے تو وہ بھی غلط تھا۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ آپ سوالات نوٹ کر لیں جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ سیکشن 5 کو آئینی سمجھتے ہیں یا غیر آئینی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں سوال آسان بنا دیتا ہوں، آپ اپنے موکل کے لیے اپیل کا حق چاہتے ہیں یا نہیں۔خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ اچھی چیز غیر آئینی طریقے سے دی گئی تو وہ غلط ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ سیدھا سا سوال پوچھا کہ سیکشن 5 آئینی ہے یا غیر آئینی۔ جس پر خواجہ طارق نے جواب دیا کہ یہ غیر آئینی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسلسل سوالات سے ہم آپ کی زندگی مشکل اور ناممکن بنا رہے ہیں، ہمارے سو سوالات میں اصل مدعا تو گم ہوجائے گا۔ آپ چاہیں تو ہمیں سوالات کے تحریری جوابات دے سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے وکیل خواجہ طارق کو ریمارکس دیئے کہ آپ کو ہر چیز کا آئینی جواب دینا ہوگا، ابتک ایک بات بھی نہیں کہی کہ کس طرح یہ قانون آئین سے متصادم ہے، ہمارے حقوق پر پارلیمنٹ نے زبردست وار نہیں کیا، آپ ڈیفنڈر کے طور پر رونما ہو گئے ورنہ یہ جنگ میری ہے، آپ رائے دینے کی بجائے آئینی بحث کریں، یہ اچھی بات ہے کہ آپ میرے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں، قانون پارلیمنٹ نے بنایا۔وکیل درخواست گزار خواجہ طارق رحیم کے دلائل مکمل ہوگئے۔ تو چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا آپ پارلیمنٹ کو قانون سازی کیلئے محدود کرنا چاہتے ہیں، کیا یہ قانون عوامی مفاد کیلئے بنایا گیا یا ذاتی مفاد کیلئے، سوالوں کے جواب بعد میں تحریری طور جمع کرا دیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ پارلیمنٹ کا دائرہ اختیارمحدود کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پارلمینٹ سپریم کورٹ کے رولز میں ترامیم کرسکتی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رولز کو چھوڑیں آئین کی بات کریں، کیا آپ چیف جسٹس کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بنانا چاہتے، ہم اس قانون سے بھی پہلے اوپر والے کو جواب دہ ہیں، آئین سپریم کورٹ سے نہیں، اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے۔چیف کہا کہ مجھے بطور چیف جسٹس آپ زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر میں کیس کو نہیں لگاتا میری مرضی تو پھر کیا ہوگا، میں آپ کی درخواست 10سال نہ لگاو¿ں توآپ کیا کریں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کو غیر آئینی کہنا آسان ہے، بتا دیں کون سا سیکشن کس آئینی شق سے متصادم ہے، بہت سے قانون مجھے بھی ذاتی طور پر پسند نہیں ہوں گے، جب میری ذاتی رائے کی حیثیت نہیں تو آپ کی بھی نہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں ریکوڈیک کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا، ریکوڈک کیس میں ملک کو6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، ایسے اختیارات آپ مجھے دینا بھی چاہیں تو نہیں لوں گا، ایسے اختیارات نہیں چاہتا جن سے عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہو، یا مفاد عامہ کی آڑ میں ذاتی ایجنڈے کو پروان چڑھایا جائے۔ از خود نوٹس کے اختیارات چھوڑنے کیلئے تیار ہوں، اندرونی آزادی کے ساتھ ساتھ احتساب اور شفافیت بھی اہم ہے، آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو ہم اگلے وکیل کو سن لیتے ہیں، خواجہ طارق صاحب آپ جواب تیارکرلیں آپ کو سنیں گے۔ چیف جسٹس نے مزید کہاکہ میں اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کروں گا، سپریم کورٹ میں57 ہزار کیسز التوا کا شکار ہے، پارلیمنٹ بہتری لانا چاہ رہی ہے تو سمجھ کیوں نہیں رہے، اگر یہ برا قانون ہے تو آئین کے مطابق بتائیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے اعتراض اٹھایا کہ یہ ایکٹ رہتا ہے تو کیس کے خلاف اپیل کون سا بینچ سنے گا، کیا فل کورٹ کے فیصلے کا اطلاق 5 رکنی بینچ پر نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ دنیا کا بدترین قانون بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184/3کے تحت دیکھیں گے، آرٹیکل 184/3 تو عوامی مفاد کی بات کرتا ہے، آپ بتائیں اس آرٹیکل کے تحت یہ درخواست کیسے بنتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کا اختیار 2 سینیئر ججز کے ساتھ بانٹ دیا گیا، اختیار باٹنے سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، پارلمینٹ کا یہ اقدام تو عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنائے گا، چیف جسٹس نے 2 سینئر ججز سے ہی مشاورت کرنی ہے۔ جسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑنے والی کوئی بات نہیں۔ وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون پارلیمنٹ سے نہیں ہوسکتا فل کورٹ کر سکتا ہے۔ جس پر جسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دیئے کہ قانون پارلمینٹ سے ہی آتا ہے اور کہاں سے آنا ہے، ہم سوئے رہیں، ارجنٹ کیس بھی مقرر نہ کریں تو وہ ٹھیک ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہر سوال کا جواب نہ دیں صرف اپنے دلائل دیں۔ جسٹس منصور شاہ نے وکیل امتیاز صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں بنیادی انسانی حقوق کیسے متاثر ہوئے۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ خلاف آئین قانون سازی سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ بتا دیں پھر کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، زیرالتواء مقدمات کی تعداد 57 ہزار تک پہنچ چ±کی ہے، ہمارا وقت بہت قیمتی ہے۔ وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ جب مروجہ طریقہ کار نہ اپنانا جائے تو پارلیمنٹ کا قانون بھی غلط ہوگا، غلط طریقہ کار سے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں اپیل کا حق دیا جا رہا تو بہت اچھی بات ہے۔ چیف جسٹس نے امتیاز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ امتیاز صدیقی صاحب میں ابھی تک آپ کے خوبصورت دلائل نہیں سن پا رہا، سوالات نوٹ کریں اور جوابات دیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی بیرونی ہی نہیں اندرونی آزادی بھی اہم ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ باہر کی دنیا میں بنیچ چیف جسٹس نہیں بناتا، بیلٹ کے ذریعے بنیچز کی تشکیل کا معاملہ طے پاتا ہے، نیپال جیسے ملک میں بھی کیلنڈر سال شروع ہونے سے پہلے فل کورٹ بیٹھتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ اگر کل پارلیمنٹ کہے کہ فلاں کیس کو 7 ججز نہیں سنیں تو کیا ہوگا، امریکا میں رائٹ آف ابارشن کا مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ سپریم کورٹ ہے جس کا کام آئین کا دفاع کرنا ہے، ہر بنایا جانے والا قانون قابل عمل نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ امتیاز صاحب لگتا ہے آپ دلائل دینا ہی نہیں چاہتے، آپ جج نہیں آپ دلائل دیں، نظرثانی اپیل نے تو سپریم کورٹ کے اختیار کو بڑھا دیا ہے، ہمیں ڈرائیں نہیں آپ وضاحت دیں، وکیل کا کام ہے کہ بتائے کون سے صفحے پر کیا لکھا ہے، سپریم کورٹ قانون سے بالاتر ہے یہ کہاں لکھا ہے۔ ڈھائی بجے کے قریب سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت میں پہلا وقفہ کردیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بریک کے بعد اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں شاید انہوں نے باہر جانا ہے اور پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے۔ وقفہ ختم ہونے کے بعد چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹروم پر بلا لیا تو اٹارنی جنرل منصور عثمان نے عدالت سے استدعا کی کہ میں آدھا گھنٹہ عدالت میں دلائل دوں گا، تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم یہاں انتظامی اختیارات کی بات کر رہے ہیں، یہ قانون عدلیہ کو مزید جمہوری اقدار کا حامل بناتا ہے۔ یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، یہ قانون ایک عہدے کے اختیار سے متعلق ہے اور اس قانون سے ادارے میں جمہوری طور پر شفافیت آئے گی۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ، آئین پاکستان 1973میں عدلیہ کی آزادی کا ذکر ہوا، صدر کی منظوری سے قوانین بنتے تھے تو کیا صدر کا اختیار تھا۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ صدر کا صوابدیدی اختیار تھا یا ایڈوائس پر منظوری ہوتی تھی،آپ نے درخواست قابل سماعت نہ ہونے پر بات شروع کی تھی، اور درخواست گزار کے وکیل کے نکات پر بات شروع کردی، ایک قانون اس وقت تک قابل عمل ہے جب تک غلط ثابت نہ کر دیا جائے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جو قانون کو چیلنج کرے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ کون سا بنیادی حق متاثر ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات کا معاملہ ہائیکورٹ سنے تو کیا مناسب ہوگا؟۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کیس میں 184(3) کی شرائط پوری ہوتی ہیں۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ 184(3) میں حقوق کے نفاذ کا ذکر ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق قانون درخواست گزاروں کی سہولت کیلئے بنایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انصاف تک فراہمی بنیادی حق ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو 184/3 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 184/3 میں ہمیں مفاد عامہ اور بنیادی حقوق دونوں کو دیکھنا ہے۔ جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا درخواست بنیادی حقوق یقینی بنانے کی بات کررہی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیس یہ ہے ہی نہیں کہ قانون بنیادی حق کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ عوامی اہمیت کا کیس ہے، دوسری جانب بھی یہی مدعا ہے، قانون سپریم کورٹ کی پاور سے متعلق ہے، بنیادی حقوق کے معاملے پہلے ہائیکورٹ نہیں جانا چاہیے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے بھی کہا کہ ہائیکورٹس سپریم کورٹ سے متعلق کیس دیکھ سکتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کے سننے سے اپیل کا حق متاثر ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپیل کے بارے میں نے بریک میں نے بھی سوچا ہے، اپیل کیلئے کسی کے حقوق کا متاثر ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 10 اے شخصیات سے متعلق بات کرتا ہے، سپریم کورٹ سے متعلق بات نہیں کرتا، اس قانون سازی سے متاثرہ فریق کون ہوگا، کس کو اس ایکٹ سے نقصان پہنچ رہا ہے، ایکٹ سے چیف جسٹس کے اختیارات میں تقسیم ہوئے۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا قانون سازی کے اختیار کا معاملہ عوامی مفاد کا نہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ آرٹیکل 199کے تحت ہائیکورٹ دیکھ سکتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ میں اپنے پہلے سوال پر دوبارہ آتی ہوں، یہی قانون اپیل کا حق بھی دیتا ہے، فل کورٹ کے خلاف اپیل کہاں جائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ سوال بہت اہم ہے میں بھی یہی سوچ رہا تھا، کیا اس قانون سے جرح یا انصاف کا حق واپس لیا گیاجسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ انصاف تک رسائی کو بدلا جا رہا ہے تو کیسے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کوئی شق ہے جو پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ“لاء“ کی تعریف میں آتاہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل10 اے ذرا پڑھ لیں تاکہ ہماری یاد داشت تازہ ہو جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے میں سپریم کورٹ کا ذکر نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بات اس بنیادی اصول کی ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے اپنے الگ الگ خیالات ہیں آپ آگے چلیں، آپ نے ہمیں مطمئن کرنا ہے ہمیں آپ کو نہیں، آئین کو پڑھنا ہو گا ایک دو الفاظ کو لیکر بیٹھ جانا درست نہیں، آرٹیکل 10 اے شہریوں کے لئے ہے سپریم کورٹ کے نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بات اصول کی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں ایک اپیل کا حق آئین دیتا ہے۔ کیا دوسری اپیل کا حق سادہ قانون سازی سے دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس جمال نے استفسار کیا کہ کون سی شق پارلیمنٹ کو دوسری اپیل کا حق دینے سے روکتی ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا مینڈیٹ ہائیکورٹ میں کیسے چیلنج ہوسکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تمام سوالات نوٹ کر لیے ہیں بعد میں جواب دوں گا، میری نظر میں قانون کا ایک ہی مطلب ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ مطلب ایک ہی ہے تو آئین میں کہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ اور کہیں قانون کا لفظ کیوں استعمال ہوا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دیا گیا فیصلہ بھی قانون ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ سوال نہیں ایک بیان ہے جس سے میں متفق نہیں۔