غلام آقاﺅں کے دربار پر۔۔۔۔۔

ہے نہ مضحکہ خیز صورتحال۔ غلام آقاﺅں سے غلامی کی آزادی مانگ رہے ہیں ؟یہودیوں کے جوائی کو رہا کراو۔۔۔ وائٹ ہاوس کے سامنے ان کے غلام کی اٹک جیل سے رہائی کے لیے احتجاج اور پاکستان میں حقیقی آزادی کاڈھونگ ؟جناب یہ وہی امریکہ ہے جس نے اپ کے مرشد کی حکومت ختم کی تھی ؟دشمنان پاکستان کے یہ یوتھیئے ایجنٹ کس کو ف±ول بنا رہے ہیں؟ پاکستان میں سیاسی ماحول تبدیل ہو چکا ہے۔ نو مئی کی بغاوت کے بعد عوام کو شعور آچکا ہے کہ سیاستدان اپنے کارکنوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ریڈ لائن فقط وطن عزیز ہے۔ وطن ہے تو ھم ہیں۔ عمران پراجیکٹ لانچ کرنے والے جاتے جاتے پراجیکٹ کوبے نقاب کر کے اپنے گناہ دھو گئے ہیں۔دیارغیر میں بسنے والے دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی کسی بھی سیاسی جماعت سے اندھی وابستگی “ بھرے ہوئے پیٹ “ والوں کا مشغلہ ہے ورنہ پاکستان میں عوام کا لیڈر ان کی روزی روٹی ہے۔ جو بھی ان کی ضروریات زندگی با عزت طور پر پوری کرے وہی ان کا لیڈر ہے۔ عمران خان کے نام پر شہرت کمانے والے آجکل لیڈر کی جیل بھی کیش کرا رہے ہیں ، بھگوڑے بیرون ملک اپنی اپنی لیڈری چمکا رہے ہیں مفاد پرست آستین کے سانپ وعدہ معاف گواہ بن کر ملک سےباہر بھاگ گئے ہیں اور فرنگیوں کے جوائی کی جیل سے رہائی کے لئے احتجاج کا ڈرامہ کرتے ہیں۔حقیقی آزادی کا ڈھونگ رچانے والے امریکہ برطانیہ کے حقیقی غلام ہونے کا ثبوت وائٹ ہاوس کے سامنے کھڑے ہو کر دیتے ہیں کہ آقا اپنے غلام کو اٹک جیل سے نکلواو؟ واہ کیا منطق ہے حقیقی آزادی کے لئے غلام ابن غلام امریکنوں سے غلام کی رہائی مانگ رہے ہیں ؟اور مظاہروں کے ہجوم کا انعقاد کرنے والے ہنود و یہودو نصاریٰ کے مبینہ ایجنٹ ہیں۔بیرونی سازشوں کے آلہ کار ہیں۔ اصل اوورسیز پاکستانی وہ غریب مزدور یا مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہیں جنہیں موقع ملا اور وہ بیرون ممالک روزگار کے لئے چلے گئے۔اور کچھ کے لئے حصول تعلیم سبب بنا۔ پھر باہر ہی ملازمت کرنے لگے۔ پروفیشنل ڈگریاں لے کر بیرون ممالک ہی سیٹل ہو گئے۔پاکستان کے امیر بیرون ملک سیر سپاٹے کرنے جاتے ہیں یا اپنی نسلوں کو اعلی تعلیم کے لئے باہر بھیج دیتے ہیں۔ کچھ نسلیں باہر ہی سیٹ ہو جاتی ہیں اور کچھ وطن لوٹ کر سیاست یا کاروبار وغیرہ کرنے لگتی ہیں کہ جن کے پاس پاکستان میں پیسے کی ریل پیل ہے بیرون ملک محنت کی زندگی کیوں کربرداشت کریں۔پاکستان کا وہ طبقہ جسے پاکستان نے شہرت اور پیسہ دیا، نام دیا۔ وہ طبقہ مستقل طور پرپاکستان چھوڑنا افورڈ نہیں کرسکتاکہ مال اور فیم پاکستان دیتا ہے ورنہ ان کے پاس کوئی ہنر یا ایسی skill نہیں کہ باہر مستقل رہ سکیں سوائے وہ مال اور اثاثے جو پاکستان میں بنائے اور باہر لے جا کر باقی زندگی عیش کر سکیں۔ پاکستان کو تباہی و بربادی کے دہانے تک پہنچانے میں یہ مالدار طبقہ برابر کا گنہگار ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان رہنے کے لائق نہیں رہا ؟ یہ جملہ دولتمند طبقہ تو بول سکتا ہے مگر حقیقی پاکستانی یعنی غریب اور سفید پوش عوام یہ جملہ کس کے ایما پر بولیں ؟ انہیں تو اسی ملک میں جینا اور مرنا ہے اور اسی سبز پاسپورٹ کو تعظیم دیناہے ورنہ دوسری کوئی آپشن نہیں۔ امیر دولت مند پیسے والے پہلے ہی امریکہ کینیڈا یورپ برطانیہ یا ملا ئشیا، انڈونیشیا، دبئی وغیرہ اثاثے منتقل کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں تو پیسہ شہرت اور مال اکٹھا کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں کیڑے اس وقت دکھائی دینے لگتے ہیں جب ان کی نسلیں باہر شفٹ ہونے پر مصر ہوجاتی ہیں۔ پاکستان کی قدرو قیمت اوورسیز پاکستانی مزدور سے کوئی پوچھے۔ شب و روز محنت مزدوری کرنے والے کہتے سنے جاتے ہیں کہ بندے کے پاس پیسہ ہو تو پاکستان جیسی جنت کوئی نہیں۔لیکن پیسے والے جب پاکستان میں کیڑے نکالتے ہیں تو در اصل وہ دل سے کبھی پاکستان کے ہوئے ہی نہیں بلکہ اس ملک کی تباہی میں برابر کے مجرم ہیں۔دولت کے زعم میں فرار کا جواز پاکستان کو بناتے ہیں۔ اور کچھ ایسے پاکستانی بھی ہیں جو پیسے والے نہیں اور مغربی ممالک میں مستقل قیام کے لئے پاک فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں تاکہ بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کر سکیں۔اوورسیز پاکستانی امیر دولتمند لوگ نہیں تھے غریب اور مڈل کلاس لوگ تھے۔ باہر کے ملکوں میں محنت مزدوری اور تعلیمی صلاحیت سے خوشحال ہو گئے اور انہوں نے الٹا ملک کو پیسہ بھیجا ملک سے پیسہ لیا نہیں۔ زر مبادلہ اسی محنت مزدوری کا نام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان لوٹنے کے آرزومند بھی رہتے ہیں اور ان لوگوں پر حیران بھی ہوتے ہیں جو پاکستان میں دولتمند ہونے کے باوجود پاکستان کو برا کہتے ہیں اور اس ملک کے طفیل کمائی ہوئی دولت بیرون ملک منتقل کر تے ہیں۔دولت شہرت کمانے کے لئے غریب بد نصیب پاکستان اور جب باہر شفٹ ہونے کا ارادہ کریں تب پاکستان برا شفاف نظام اور انصاف لانے کے لئے پاکستان کو لوگ بھی وفادار اور ایماندار چاہئیں لیکن بد نصیبی سے ہر شعبے اور ادارے میں سب نے اپنا پیٹ اور بینک ہی بھرا۔ کسی نے ووٹ خریدا، کسی نے قلم بیچا، کسی نے زبان بیچی، کسی نے ایمان بیچا، کسی نے عوام کا اعتماد بیچا اور مال امریکہ کینیڈا ،دبئی برطانیہ شفٹ کر دیا۔ پاکستان کو بھی ان بھگوڑوں اور خود غرض مفاد پرستوں کی ضرورت نہیں۔حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول مبارک ہے کہ جس کم ظرف پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ پاکستان کھلاتا پڑھاتا ہے، نام اور فیم دیتا ہے، عزت دولت اور ڈگری دیتا ہے، سب کا سگا ہے لیکن یہ کم ظرف پاکستان کے سگے نہیں۔پاکستان سے دولت سمیٹ کر بیرون ملک شفٹ ہوجانااور پاکستان سے خالی ہاتھ بیرون ملک جانا اور بیرون ملک سے پاکستان پیسہ بھیجنا یہ دو الگ طبقات ہیں۔یہ فرق واضح کر لیں غریب سفید پوش محنت کش مزدور ہو یا ڈاکٹر۔ اوورسیز پاکستانی سچے پاکستانی ہیں اور تمام تر کمزوریوں اور برائیوں سمیت واپس پاکستان جا کر رہنے کا ارمان کرتے ہیں۔ زر مبادلہ بھیج کر خاندانوں کو پال رہے ہیں۔

طیبہ ضیاء … مکتوب امریکہ