نواز شریف طرز حکمرانی، عمران اپنے رویے سے جمہوریت کو نقصان پہنچارہے ہیں: خورشید شاہ

19 اکتوبر 2016 (20:57)

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا ڈگڈگی بجانے کا اشارہ عمران خان کی طرف نہیں غیر سیاسی لوگوں کی طرف تھا، نوازشریف اپنی طرز حکمرانی اور عمران خان اپنے سیاسی رویے سے ملک اور جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں،احتجاج اور جلسے جلوس سیاسی حق لیکن شہر سیل کرنا مجرمانہ کام ہوگا،اے پی سیز کی خبریں بھی لیک ہوئی ہیں،سکیورٹی اجلاس والی خبر مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل سے بھی لیک ہو سکتی ہے۔ سیاسی بصیرت سیکھنی ہے تو آصف علی زرداری سے سیکھیں،وزیراعظم موسٹ سینئر کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور سینئر کو آرمی چیف بنانے سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔ نوازشریف کرپشن اور پانامہ سکینڈل میں جکڑے جا چکے ہیں، نکل نہیں سکیں گے، 25 دسمبر تک پانامہ کی تحقیقات کیلئے اعلان نہ کیا گیا تو لانگ مارچ کریں گے۔ وہ پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ڈگڈگی کا اشارہ عمران خان کی طرف نہیں کیا،ڈگڈگی کوئی اور بجاتا ہے اور ناچتا کوئی اور ہے۔ وزیراعظم کا ڈگڈگی کا اشارہ ماضی کے حوالے سے ہے۔ یہ اشارہ غیر سیاسی لوگوں کی طرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا،احتجاج جلوس ہر شخص کا سیاسی حق ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف کمزور سیاست کر رہے ہیں جس ملک کے وزیراعظم کو عام آدمی کے مسائل کا پتہ نہ ہو 60 روپے کلو آلو کی قیمت25روپے بتاتا ہو۔ ایسا وزیراعظم ملک کی بدقسمتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میری بہن کلثوم نواز اور خود نوازشریف نے کبھی آلو نہیں خریدے ہوں گے۔حیران ہوں کہ کون سے مشیر ان کو غلط معلومات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار پہلے اپنے گھر کو سنبھالیں پہلے سرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالا،اگلے دن نکال لیا گیا،خبر لیک ہونے کے پیچھے عسکری افراد نہیں،سول افراد ملوث ہیں،اے پی سیز کی خبریں بھی لیک ہوتی رہیں۔زبیرعمر نے کہا کہ ہمیں (ن) لیگ کے میڈیا سیل سے لنک ملتا ہے،ہوسکتا ہے کہ سکیورٹی اجلاس کی خبر بھی میڈیا سیل سے لیک ہوئی ہو جس کے گھر میں میٹنگ ہوئی، ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خبر کے لیک ہونے سے ملک اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا‘ ملکی حالات بہتری کی طرف نہیں جا رہے۔ وزیراعظم صرف پنجاب کو پاکستان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے پاکستانیت کو فروغ دیا۔ (ن) لیگ صوبائیت کو فروغ دے رہی ہے۔ لوگوں نے پیپلزپارٹی کے سچ کی بجائے(ن) لیگ کے جھوٹ پر یقین کیا، جس کا افسوس ہے،وزیراعظم خود تو اخبار پڑھتے نہیں، جو انہیں بتایا جاتا ہے اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ حکومت نے گیس پر 32 فیصد ٹیکس لگایا اور لوڈشیڈنگ 9 گھنٹے ہو رہی ہے۔ بجلی کی قیمت دگنی ہوگئی ہے، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عسکری قیادت کو ساتھ بٹھائے۔ فارن پالیسی مل کر بنانی چاہئے۔ ملک سفارتی سطح پر تنہا کھڑا ہے، پھر بھی وزیر خارجہ تعینات نہیں کیا جا رہا۔ فارن پالیسی مل کر بنانے کیلئے تعاون پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015ءمیں بھی نوازشریف کی بجائے جمہوریت اور سسٹم کو ڈی ریل ہونے سے بچایا۔ آگے بھی سسٹم کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔ عمران خان اور نوازشریف ایک ہیں ،دونوں سے پاکستان اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں،ایک اپنی حکمرانی اور دوسرا اپنے رویئے سے ملک کو نقصان پہنچارہا ہے، حکومت اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ بیوروکریسی کے افسران اے پی سی میں آنے کیلئے تیار نہیں۔ نوازشریف اور عمران خان آصف علی زرداری سے سیاسی بصیرت سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف سنیارٹی کے لحاظ سے جنرلز کا اعلان کرنے سے کیوں گھبرارہے ہیں، سینئر ترین کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور سینئر 2کو آرمی چیف بنا دیا جائے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میں اپنا علاج پمز ہسپتال سے کراتا ہوں۔ آج گیا تو لوگ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ نوازشریف لندن علاج کیلئے جانے کی بجائے ان ہسپتالوں کی حالت بہتر کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے سولو فلائٹ لی ہوئی ہے دیکھتے ہیں، نتائج کیا ہوں گے تاہم عمران خان کے احتجاج نے وزیراعظم کو مضبوط کیا ہے۔