پاکستان، چین کا مستقبل مشترک ہے، اقتصادی راہداری سے خطے میں خوشحالی آئیگی: نواز شریف

19 اکتوبر 2016 (20:18)

 وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری متعدد ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے جن سے ملک اور وسیع تر خطے میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔ انہوں نے یہ بات بینک آف چائنا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین تیان گولی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین سدا بہار تعلقات مشترکہ اصولوں اور مفادات پر مبنی ہیں جو مختلف شعبوں میں تعاون کی بنیاد استوار کرتے ہیں۔ سیکورٹی ، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں پاکستان کےلئے چین کی بھرپور حمایت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین مشترکہ مستقبل کے حامل ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری کسی بھی بیرونی ملک کے ساتھ سب سے بڑا جامع منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک متحرک بنکاری نظام پایا جاتا ہے جس نے منافع کی بلند شرح، بہتر لیکوڈیٹی اور مضبوط ساکھ پائی ہے۔ بینکاری کا شعبہ گزشتہ پانچ برسوں سے متاثر کن سالانہ اوسط شرح نمو کے ساتھ ترقی کررہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مضبوط سرمایہ جاتی بنیاد، اثاثہ جات اور منافع پذیری میں شاندار نمو اور بین الاقوامی معیارات کی پیروی نے پاکستان کے بنکاری کے شعبے کو سرمایہ کاروں کےلئے خطے میں بہت مسابقانہ حیثیت دلائی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں جس کا مشاہدہ یو بی ایل، کے بی ایل اور ایچ بی ایل کے حالیہ سودوں سے ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے بینکاری شعبے میں بیرونی ملکیت مسلسل اور قابل ذکر طور پر بڑھی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے حالیہ ہی میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ 700 ملین ڈالر فنانسنگ سمجھوتہ کیا ہے جو چینی بینکاری صنعت کے ساتھ اس قسم کا پہلا رابطہ ہے۔ تیان گولی نے ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے اور معیشت کی بحالی پر وزیراعظم کے ویژن کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے فعال بینکاری شعبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مالیاتی شعبہ عالمی سرمایہ کاروں کےلئے بے شمار مواقع پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور خطے کے لوگوں کےلئے بے پناہ اقتصادی فوائد کا حامل ہے۔