پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سٹیٹ لائف اور این آئی سی ایل کے چیئرمینز کی عدم حاضری پر اظہار برہمی

19 اکتوبر 2016 (19:13)

 پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے سٹیٹ لائف اور این آئی سی ایل کے چیئرمینز کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا ،چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے بیوروکریسی کے غیر ذمے دارانہ رویئے پر سپیکر قومی اسمبلی سے بات کرنے کیلئے 5رکنی وفد تشکیل دے دیا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان لوٹ کا مال ہے لوٹتے جائیں،افسران کے دماغ اتنے خراب ہیں تو گھروں کو جائیں،اگر بیوروکریسی کا یہی رویہ رہنا ہے تو پھر ہمیں پی اے سی کی کیا ضرورت ہے؟۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی محمود خان اچکزئی ، عاشق گوپانگ، شیخ رشید، میاں عبدالمنان،جنید انوار چوہدری و دیگر سمیت این آئی سی ایل اور کامرس کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین سٹیٹ لائف اور چیئرمین این آئی سی ایل کی عدم شرکت پر پی اے سی ممبران نے برہمی کا اظہار کیا۔ایڈیشنل سےکرٹری کامرس ڈاکٹر عامر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چیئرمین سٹیٹ لائف ملتان میں ہیں، انہیں فلائٹ نہیں مل سکی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتنے نواب ہیں کہ فلائٹ نہیں ملی تو کیا گاڑی پر نہیں آسکتے تھے؟ وزیر اعظم بلائیں تو ان کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ سی ای او این آئی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین این آئی سی ایل ہائی کورٹ میں پیشی پر ہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی اے سی کو عدالت کا نوٹس دکھائیں، بیوروکریسی کا یہی رویہ رہنا ہے تو پھر ہمیں پی اے سی کی کیا ضرورت ہے۔ بعدازاں محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ چونکہ (آج) کوئی کارروائی نہیں ہوئی، تو ڈیلی الاﺅنس نہیں ملنا چاہیے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ایک الگ معاملہ ہے، جو نہیں آئے انہیں نہ ملے جو آئے ہیں انہیں الاﺅنس ملنا چاہئے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...