سی پیک کیخلاف را‘ این ڈی ایس‘ کالعدم لشکر جھنگوی‘ تحریک طالبان سرگرم ہیں: ڈی جی آئی بی

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد ( صباح نیوز) ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سکیورٹی کے حوالے سے روٹ پر آئی بی کے دفاتر قائم کئے جائینگے سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے را، این ڈی ایس، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان سرگرم عمل ہیں جن کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ڈی جی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کو بریفنگ دیتے کہا کہ گزشتہ 3سال میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 5 ہزار 2 بیسڈ آپریشن کیے،865 دہشت گرد گرفتار اور 171 مارے گئے۔ ائرپورٹس کی سیکورٹی میں نقائص کی نشاندہی کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیکی معاونت بھی کی ہے۔ چیئرمین نادرا عثمان مبین نے بتایا کہ جن پاکستانیوں کے شناختی کارڈز بلاک ہوئے ہیں، ان کا جائزہ لینے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کو ناکام کرنے والی تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیاں سخت اقدامات کریں اور مخالف دشمن دہشت گردوں کی میڈیا پر عام تشہیر کر کے دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کریں اور پاکستان کو بدنامی سے بچایا جائے۔ چیئرمین نادرا عثمان مبین نے بتایا کہ نادرا کا کام پاکستانی شہریوں کی رجسٹریشن کرنا اور شناختی کارڈ جاری کرنا ہے ۔انٹیلی جنس بیورو نے2797 کیسز بھیجے تھے جن میں سے 1822نادرا کو موصول ہوئے اور ان کی مکمل چھان بین کر کے بلاک کر دیا گیا ہے۔پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کیلئے پی او آر کارڈز دیئے گئے تھے اور2.2ملین لوگوں نے وہ کارڈ وصول کئے ۔کچھ پاکستانیوں نے بھی پیسوں کی خاطر وہ کارڈ حاصل کئے اور افغانستان گئے پھر واپس آ گئے۔کچھ لوگوں نے پیسے دے کر فیملی نمبرزحاصل کئے۔ قائمہ کمیٹی نے انٹیلی جنس بیورو کے مین پاور بڑھانے کی سفارش کر دی۔چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں چیئرمین نادرا نے کہا کہ کسی غیر ملکی کا سرکاری ملازمت میں ہونا ہمارے علم میں نہیں ہے البتہ نادرا میں دو کیسز آئے تھے جنہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ڈی جی آئی بی نے بتایا کہ ملکی مفادوسلامتی کی خاطر آئی بی ا ور آئی ایس آئی کو فون مانیٹر کرنے کی اجازت ہے۔آفتاب سلطان نے یہ بھی تسلیم کیاکہ 1992کے کراچی آپریشن کے بعد انٹیلی جنس بیورو کو سلا دیا گیا تھا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...