معلومات تک رسائی عوام کا حق ہے‘ ذمہ داری پوری کرینگے: پرویز رشید

19 اکتوبر 2016

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے ڈسٹرکٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا جنرل ایوب کے دور میں سیاسی جماعتیں بہت کمزور ہوا کرتی تھیں مارشل لاء دور میں آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، کالا کوٹ نے ملک کو آمریت سے جمہوریت کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کیا جمہوریت اس وقت مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اپنے عوام کو حق نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے نمائندے منتخب کریں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکومت نے پانچ سال پورے کئے اور انتخابات کے ذریعے دوسری سیاسی جماعت کو منتخب کیا۔ انہوں نے کہا 2013 ء کے بعد حکومت نے خفیہ فنڈ ختم کئے پچھلے دور میں خفیہ فنڈ کا پتہ ہی نہیں کدھر استعمال ہوا وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر معلومات کی رسائی کے لئے بل تیار کیا ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت شامل ہے بل سیٹنڈنگ کمیٹی میں منظور ہوچکا ہے اس لئے پارلیمنٹ سے پاس کرانا انتہائی آسان ہوگیا معلومات تک رسائی ہونے سے عوام تک مستند خبریں پہنچے گی،کوشش ہے جلد از جلد اس بل کو ایکٹ کی شکل دے دی جائے بل کے ذریعے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو پتہ ہوگیا اب ان کی باتیں خفیہ نہیں رہیں معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے حکومت اپنی یہ ذمہ داری پوری کرے گی۔ سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا معلومات تک رسائی ہونی چاہئے معلومات کئی قسم کی ہوتی ہیں دینا میں ہر چیز کے لئے قانون موجود ہے جب ایشو بنتا ہے تو قانون خود حرکت میں آتا ہے پاکستان میں ہر ایشو پر کمشن بنادیا جاتا ہے قانون ہوتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا گڈگورننس کے لئے اطلاعات تک رسائی کا قانون ضروری ہے معلومات کی رسائی نہ ہونے کی وجہ مختلف ایشوز پر پاکستان پر تنقید کی گئی ملکی مفادات میں کچھ معلومات تک رسائی نہیں دی جاسکتی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے خطاب میں کہا اطلاعات تک رسائی کے قانون کی اشد ضرورت ہے تمام صوبوں میں یہ قانون بن چکا ہے اسلام آباد میں رکاوٹ ڈالی گئی پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں کوشش کی مگر فورسز نے انکار کردیا فورسز کا جواب تھا جب تک ہمارا این او سی نہ ملے قانون سازی نہ کی جائے‘ فورسز سے پوچھا کیا کرگل واقعہ کی انکوائری ہوئی جواب ملا یہ خفیہ ہے۔