سانحہ کار ساز کی برسی :18 اکتوبر جمہوریت پسندوں، جنونیوں میں تقسیم کا دن ہے، زرداری

19 اکتوبر 2016

گڑھی خدا بخش+ اسلام آباد+ کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ سٹاف رپورٹر+ خبرنگار خصوصی) سانحہ کار ساز کے شہداء کی نویں برسی پیپلزپارٹی نے گزشتہ روز عقیدت احترام سے اور یوم دفاع جمہوریت کے طور پر منائی۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے 18اکتوبر مذہبی جنونیوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان واضح تقسیم کا دن ہے، مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں اور ترقی پسندی کی قوتوں کے درمیان ابھی جنگ جاری ہے۔ سانحہ 18اکتوبر کے نو سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا اٹھارہ اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم قومی دن ہے، کیونکہ اس روز جمہوریت، مذہبی جنونیت اور تعصب کے درمیان جنگ کی لکیر واضح ہو گئی تھی۔ اب گزشتہ نو برسوں میں یہ لکیر مزید گہری ہو گئی ہے اور ہم سے تقاضا کرتی ہے اس جنگ کو آخری فتح تک جاری رکھیں۔ نو سال قبل شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہر قسم کی دھمکیوں کے باوجود جلاوطنی ختم کرکے اس لئے وطن واپس آئیں کہ مذہبی جنونیوں اور ڈکٹیٹرشپ سے پاکستان کو خطرہ تھا۔ اس روز جمہوریت دشمنوں نے ان کے قافلے پر ظالمانہ حملہ کیا جس میں دو سو پارٹی کارکن اور جمہوریت پسندوں نے شہادت پائی تاکہ ڈکٹیٹرشپ، مذہبی جنونیوں اور انتہا پسندوں سے ملک کو چھٹکارا دلایا جاسکے۔ آج ہم اپنے شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور یہی شہید ہماری قوم کے اصلی ہیرو اور ہیروئن ہیں اور قوم کی طاقت ہیں۔ 18 اکتوبر کا دن شہید بینظیر بھٹو کے مشن کو پورا کرنے کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ ان کا مشن جمہوریت کی سربلندی اور عسکریت پسندوں کو شکست دینے کا مشن ہے اور یہ عسکریت پسند جمہوریت اور خواتین دشمن ہیں۔ علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے گڑھی خدا بخش میں آصف ڈینٹل کالج کے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی۔ طلبہ نے بلاول سے درخواست کی کہ آصفہ ڈینٹل کالج کا پی ایم ڈی سی سے الحاق کرایا جائے۔ بی ڈی ایس کورس مکمل کرنے والوں کا امتحان لیا جائے۔ بلاول بھٹو نے طلبہ کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ بلاول بھٹو نے گڑھی خدابخش میں کارساز شہداء کے قبرستان گئے، فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔ سانحہ کارساز کی تحقیقات کیلئے 9 سال بعد آئی جی سندھ نے کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ایس ایس پی پرویز چانڈیو، ایس ایس پی فاروق اعوان شامل ہیں۔ ڈی ایس پی عہدے کا ایک افسر مقرر کیا گیا ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...