مقبوضہ کشمیر: 27 سال میں 94 ہزار 548 کشمیری شہید ہوئے‘ اقوام متحدہ بھارت کیخلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلائے

19 اکتوبر 2016

سری نگر/ نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ+ نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری رہی، احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈائون میں 55 کشمیری زخمی ہو گئے، 190 سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا، گھر گھر تلاشی کارروائیاں بھی جاری رہیں، سری نگر اور پلوامہ میں مشتعل مظاہرین نے بھارتی فوج کے کانوائے پر دھاوا بول کر پتھرائو کیا جس سے ایک درجن سے زائد اہلکار زخمی ہو گئے، واضح رہے کہ وادی میں 102 روز بعد بھی حالات معمول پر نہ آسکے۔ مختلف شہروں میں ہڑتال کا سلسلہ سخت ترین جاری رہا۔ بارہمولہ اولڈ ٹائون میں 14 گھنٹے کا کریک ڈائون جاری رہا۔ بھارتی فوج کی بھاری نفری نے 700 سے زائد مکانات کی تلاشی لی۔ جب کچھ نہ ملا تو 80 کے لگ بھگ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ بھارتی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گھروں کی تلاشی کے دوران چینی پرچم اور دوسرا ممنوعہ سامان برآمد کر لیا گیا، 44 لوگوں کو گرفتار کیا جن سے پاکستانی پرچم بھی برآمد ہوئے۔ کولگام میں دختران ملت کے زیراہتمام سینکڑوں خواتین نے پاکستانی پرچم اور پلے کارڈ اٹھا کر ریلی اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ ادھر رفیع آباد کے علاقہ ہدی پورہ، نادی ہل میں بھی لوگ فورسز کے خلاف نعرے مظاہرے ہوئے جس کے دوران شرکا جلوس نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔ عالمی ادارہ کمیشن برائے انسانی حقوق (آئی ایچ آر سی) نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور درندگی کی رپورٹ شائع کردی۔ رپورٹ کے مطابق 1989 سے 30 ستمبر 2016 تک 27 سال کے دوران بھارتی افواج نے94,548 کشمیریوں کو شہید اور ایک لاکھ 37 ہزار469کوگرفتارکیا، 22 ہزار 826 خواتین کو بیوہ کیا گیا، یتیم بنائے گئے کشمیری بچوں کی تعداد1لاکھ، 7ہزار،591 ہے جبکہ بھارتی افواج نے10ہزار 717 کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جوانسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی اور اقوام متحدہ سمیت مسلمان ملکوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 37ہزار4سو 69افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف بدنام زمانہ جیلوں میں اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ فوری طور پر بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ درج کرے۔ دیگر علاقوں سے بھارتی فوج نے کریک ڈائون کے دوران 122 افراد کو حراست میں لیا۔ کشمیریوں کے شدید پتھرائو سے بچنے کیلئے بی ایس ایف نے 15 ہزار خصوصی پیڈ والے لباس منگوا لئے۔ علاوہ ازیں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حالات میں بہتری ہونے پر ہی بھارتی فوج کو واپس بیرکوں میں بھیجا جائیگا۔ انہوں نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو خلاف قانون سرگرمیوں سے روکیں۔ دوسری طرف دختران ملت نے کہا ہے کہ پارٹی کی سربراہ آسیہ اندرابی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی وجہ سے اسلامی کانفرنس تنظیم کے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہونیوالے 43ویں عام اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔ سیکرٹری جنرل ناہیدہ نسرین کی طرف سے جاری بیان میںکہا گیا ہے اسلامی کانفرنس تنظیم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پرچموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لئے دبائو ڈالے۔ دریں اثناء چندی گڑھ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تقریباً تین ماہ سے تشدد اور ہنگامہ خیزی کا شکار مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کے امکان سے انکار کرتے ہوئے وادی کشمیر میں جلد بحالی امن کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر یا صدر راج خاص حالات میں ہی لگایا جاتا ہے اور اس ریاست میں حالات ابھی اتنے زیادہ خراب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھارتی جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت حالات کو ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے امن کی بحالی میں جموں و کشمیر کے عوام سے تعاون کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ حالات ٹھیک کرنے کی سمت میں کافی لوگوں کا تعاون ملا بھی ہے جس کی بدولت پہلے کی توقع صورتحال میں بہتری آئی ہے۔